- الإعلانات -

تحریک احتساب اور قصاص: حکومت تدبر کا مظاہرہ کرے

edaria

پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پانامہ لیکس اور آف شور اکاﺅنٹس کی فوری تحقیقات کیلئے تحریک احتساب کا پشاور سے آغاز کردیا ہے اور اس ضمن میں عمران خان نے پشاور سے اٹک احتساب ریلی سے مختلف مقامات پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کے احتساب تک سڑکوں پر رہیں گے ملک کو کرپشن سے پا ک کرنے کیلئے تحریک شروع کی رکیں گے نہیں ریلی میں ہزاروں افراد کی شرکت اور جگہ جگہ استقبال اور آتش بازی نے ریلی کی رونق کو دوبالا کردیا ۔ عمران خان نے کہا ایف بی آر مگر مچھوں کو ٹیکس میں چھوٹ دیتا ہے اور نیب صرف پٹواریوں کو پکڑتا ہے نواز شریف منی لانڈرنگ تو کرسکتا ہے مگر نظام نہیں بدل سکتا عمران خان نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا میرا احتساب کرو میں جھکوں گا نہیں عمران نے کہا اگلے ہفتے پنڈی تا اسلام آباد مارچ کرونگا پھر رخ لاہور کی طرف ہوگا ۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کا پشاور میں جلسہ منعقد ہوا امیر مقام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے عمران کی احتجاجی سیاست مستردکردی ہے۔ لوگ عمران کی اصلیت جان گئے یہ خود احتساب سے بھاگتے ہیں۔ وزیراعظم کو جلد بلائیں گے ۔ انہوں نے کہا دھرنا فلم کی طرح یہ ٹریلر بھی ناکام ہوگا جبکہ بلاول بھٹو بھی بول پڑے ہیں کہتے ہیں احتجاج کرنا سب کا حق ہے حکومت اپوزیشن کے ٹی او آرز مان لے ورنہ نتائج کیلئے تیار رہے ۔ انہوں نے تحریک انصاف کیلئے نیک تمناﺅں کا اظہار کیا اور کہا کہ پانامہ نے نواز شریف کی کرپشن بے نقاب کردی پاکستان میں احتجاجی سیاست کا رجحان بڑھتا ہی جارہا ہے عوامی تحریک بھی قصاص تحریک شروع کرچکی ہے ہر طرف ریلیوں اور جلسوں کی بھرمار ہے ۔ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور تدبر اور بصیرت سے کام لیتے ہوئے ٹی او آرز کے معاملے کو سلجھائے حکومت کا فرض قرارپاتا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے اوران کے تحفظات کو دور کرے اور جمہوریت کیلئے برداشت کے کلچر کو اپنائے لیکن ہمارے ہاں اس کا فقدان ہے اور سیاسی اُفق پر ہر وقت ابر آلود اور طوفانی ، بادل چھائے دکھائی دیتے رہتے ہیں ۔ سیاسی محاذ آرائی ملک و قوم کیلئے کبھی بھی نیک شگون قرار نہیں پاتی لیکن ہمارے سیاستدانوں نے ماضی سے کوئی سبق نہ سیکھا اور ذاتی مفاد کو ترجیح دی جس سے قومی مفاد تارتار ہوتا چلا گیا ۔ عمران خان ، طاہر القادری کی تحریک حکومت کیلئے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ حکومت ہوش کے ناخن لے اور احتساب کیلئے خود کو پیش کردے اگر اس کا دامن صاف نکلا تو کوئی بھی اس کا بال بیکا نہیں کرسکتا۔پانامہ لیکس پر حکومت کی ساکھ کافی متاثر ہوئی ہے اس کیلئے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ ٹی او آرز میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر چلے ملک میں کرپشن کرپشن کی صدائیں جمہوریت کیلئے اچھی نہیں ان صداﺅں کو ختم کرنے کیلئے بلا امتیاز احتساب کرنے کی ضرورت ہے ۔ قانون سے بالاتر کوئی نہیں جس نے بھی کرپشن کی اس کا احتساب کیا جائے جب تک ملک میں احتسابی عمل شروع نہیں ہوتا اس وقت تک ملک سے کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔ حکومت مخالف تحریکیں جمہوریت پر کیا اثرات مرتب کرتی ہیں اس بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہے تاہم تحریک جو ہو حکومت کیلئے پریشان کن قرار پاتی ہے ۔ حکومت جوابی ردعمل کی بجائے برداشت کے جمہوری کلچر کو اپنائے اور احتساب کر گزرے خود کو احتسابی عمل سے گزارنا سیاسی تدبر اور بصیرت ہے اور اس کے دوررس نتائج برآمدہونگے ۔ سیاسی استحکام پیدا کرنے کی ضرورت ہے اس کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔
وزیرداخلہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس
وزیر داخلہ چوہدری نثا رعلی خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس بڑی اہمیت کا حامل قرار پایا اس اجلاس میں جہاں غیر ملکیوں کو ویزہ وزارت داخلہ کی منظوری کے بغیر جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا وہاں ایف آئی اے کو امیگریشن کے سلسلے میں نئی پالیسی فریم ورک بنانے کی ہدایت بھی کی گئی اور ساتھ ہی میتھیو بیرٹ کی نشاندہی کرنے والے سسٹم انچارج کو ایک لاکھ روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا گیا اس موقع پر وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ امریکی شہری میتھیو بیرٹ کو جاسوس کہنا نامناسب اور قبل ازوقت ہے میتھیو بیرٹ کے واقعہ کو ریمنڈ ڈیوس کے قصے سے جوڑنا کسی طورپر بھی مناسب نہیں۔ وزیر داخلہ نے بجا فرمایا گرفتار امریکی شہری کی جب تک مکمل تحقیقات نہیں کی جاتی اس کو جاسوس کہنا ہماری نظر بھی درست نہیں کیونکہ بغیر تفتیش اور چھان بین کے کسی کو جاسوس کہنا اخلاقی جواز نہیں رکھتا تاہم یہ امر توجہ طلب ہے غیر ملکیوں کی ویزہ پالیسی اصلاح طلب ہے اصلاحات اور تبدیلی کی ضرورت ہے جس کی وزیر داخلہ نے ہدایت کردی ہے پاکستان کو اس وقت کئی اندرونی و بیرونی سازشوں کا سامنا ہے اور آستین کے سانپ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔ امریکی جھکاﺅ بھی بھارت کی طرف ہے حالانکہ بھارت کی دہشتگردانہ سرگرمیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ غیر ملکیوں کی ویزہ پالیسی کو موثر بنانے کی ضرورت ہے میتھیو بیرٹ کی گرفتاری نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہماری ویزہ پالیسی میں بے قاعدگی ہے جس کو دور کرکے ہی آئندہ غیر قانونی ویزے کے اجراءکی روک تھام کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ میتھیو بیرٹ کے واقعہ نے ایک بار پھر حکومت کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ اس کی انتظامی گرفت ڈھیلی ہے اور اسے اپنی گرفت کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے امریکی شہری میتھیو بیرٹ کے بلیک لسٹ ہونے کے باوجود اسے پاکستانی ویزے کا اجراءہونا اور امیگریشن حکام کی جانب سے اسے داخلے کی اجازت ملنے کی ابتدائی رپورٹ وزیر داخلہ کو پیش کردی گئی ہے جس میں اس واقعہ کی ذمہ داری ہوسٹن میں تعینات پاکستانی سفارتخانے کی ویزہ افسر پر عائد کی گئی ہے جس نے ریکارڈ دیکھے بغیر 24گھنٹوں میں بلیک لسٹ پر موجود امریکی شہری کو ویزہ جاری کردیا جبکہ واقعہ کی دوسری ذمہ داری امیگریشن کاﺅنٹر پر موجود ایف آئی اے کے اس اہلکار پر عائد کی گئی ہے جس نے غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میتھیو بیرٹ کو اسلام آباد داخل ہونے کی اجازت دی تاہم آئی بی ایم ایس سسٹم انچارج فہد قیوم کی فرض شناسی کام آگئی جس کی نشاندہی پر میتھیو بیرٹ کی گرفتاری عمل میں آئی جو لمحہ فکریہ ہے ۔ غیر ملکیوں کو ویزوں کا اجراءوزار تداخلہ کی اجازت سے مشروط کرنے کا فیصلہ مستحسن ہے۔
عسکری قیادت کا دہشت گردی کیخلاف ٹھوس موقف
عسکری قیادت جنرل راحیل شریف کے کردار کو چین نے زبردست سراہا ہے اور کہا ہے کہ آرمی چیف نے دہشت گردی کے خلاف چار ملکی اتحاد کی تشکیل میں انتہائی فعال کردار ادا کیا ہے ۔ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے امن کو یقینی بنانے اور علاقے کی ترقی کیلئے ان کے مضبوط موقف پر چین کو داد بیداد دینا پڑی ۔ آرمی چیف کی بے باک قیادت میں پاک فوج دہشت گردی کے انسداد میں جو کردار ادا کررہی ہے اس کو عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے۔ عسکری قیادت کا کردار تاریخ کے سنہری باب میں لکھا جائے گا ۔ امن کی خاطر ان کی قربانایں کبھی بھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پاک فوج جس عزم کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی ہے عالمی برادری اس کی تقلید کرکے دنیا میں امن قائم کرسکتی ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف چار ملکی گروپ میں جو کردار جنرل راحیل شریف نے ادا کیا وہ قابل صد تعریف اور لائق تحسین ہے