- الإعلانات -

کر اچی کے وزیر اعلیٰ

حکو مت سند ھ نے صو بہ میں حا لا ت کی بہتر ی کےلئے رینجر زفو ر س کو پھر سے بااختیا ر اور متحر ک کر دیا ہے ۔ حکو مت سند ھ ہو کہ بلو چستا ن ان کا بنیا دی کا م تو اپنے علا قو ں میں امن و خو شحا لی کےلئے کام کر ناہو تا ہے ۔ تعلیم صحت ، ، روز گا ر ،ا ٓزادی ، بجلی ، پا نی وغیر ہ جیسی ضر رو یا ت ہو ں کہ سولیا ت یہ سب کچھ حکو متو ں کی ذمہ داری ہو تی ہے ۔ سہو لتو ں اور ضر ورتو ں کو پو ر ا کر نے کے لئے حکو متیں اپنی عوام سے مختلف طر یقو ں سے ٹیکس اور ذمہ داریا ں پو ری کر اتی ہیں ! سند ھ میں کر اچی ایک شہر ہے جو سند ھ صو بہ سے زیا دہ اہم اور دو لت پیدا کر نے والا خزانہ ہے ۔ جس میں کروڑو ن عام اور ہز ارو ں اہم آدمی بستے ہیں ۔ کرا چی کو ملک کا دل کہیں کہ دما غ ،خزانہ کہیں کہ ملک کی جا ن تو غلط نہ وہ گا ! یو ں تو ملک کا چیہ چیہ بر ابر اہمیت رکھتا ہے ۔ ہر حصہ کی آزادی ، تر قی ، تحفظ بر ابر اہم ہے ۔ ملکو ں کے درمیان جنگیں دارانی علاقو ں کےلئے نہیں کی جا تیں ۔ بلکہ سر حد ی علا قوں کا تحفظ بھی دارالخلا فوں علا قوں کی طر ح اہم ہو تا ہے ۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب کو ئی ہند و ستا نی یا پا کستا نی غلطی سے تھو ڑی سی سر حد بھی عبو ر کر لے تو دو سرا ملک ایسے شخص کو گر فتا ر کر لیتا ہے ، گو یا جنگلی علا قے ہی اتنے اہم ہو تے ہیں جتنی اہمیت شہر و ں کی ہو تی ہے کر اچی اپنی بہت سی خو بیو ں اور صفا ت کی وجہ سے ملک کا اہم تر ین حصہ ہے ۔ اس کاامن اور سکو ن گو یا ملک میں تر قی اور خو شحالی کی راہ ہموار کر نے کے برابر ہے ! مگر یہ با ت کو ئی کسے سمجھا ئے ؟ اس با ت کا ادارک مسند نشینو ں کو کیسے کرایا جا ے ! اہل اقتدا ر کو اس فلسفہ سے کیسے آ گا ہ کیا جا ئے کہ کر اچی میں سکو ں اور ما حو ل بہتر ہو گا ! شہر ی محفو ظ اور تا جر بے خو ف ہو نگے !صنعتکا ر بے غم اورپر سکو ن ہو ں گے تو حکمر انو ں کو امن اور چین میسر آ ئے گا ! عوام میں خو شحا لی ہو گی اور ملک میں تر قی کا پہیہ بھی تیز رفتا ری سے چلے گا ! رینجرز فو ر س میں خر ابیا ں کو تا ہیا ں ضر ور ہو نگی ! مگر یہ سچ ہے کہ ہزار خر ابیو ں کے با و جو د رینجرز کا روائیوں سے قتل ڈکتیاں چو ریا ں بھتے ، اغواءکا سلسلہ 80%فیصد تک ختم ہوا ہے! رینجر ز کی کمز وریو ں کو دور کیا جا ئے ! رینجرز افسران اور جو انو ں کی بر ائیوں پر نظر رکھ کر ان کا حل لگا لا جا ئے! مگر حکا م کا یہ کہنا کہ رینجر ز کو اختیا رات دیئے ،بغیر کر اچی سند ھ میں امن ،خو شحا لی،تر قی و کا روبا ری راستے کھلے رہ سکتے ہیں۔ یا رینجر کے بغیر ان جر ائم پیشہ اور معا شر ہ دشمن سما ج مخالف اور قا نون مخالف قو تو ں سے نمٹا جا سکتا ہے ، تو یہ حکمر ا نو ں نا لا ئقی نہیں بلکہ یہ حکمر انو ں کی سازش ہو سکتی ہے ۔ کہ صو بے میں قتل و غا رت کا با زار گر م رکھ کر صو بے میں بغا وت اور علیحد گی کی تحر یک کی آ بیا ری کی جا ئے !اور صو بہ کا دیو الیہ نکا لا جا ئے ! یہ دشمن کی چا ل تو ہو سکتی ہے کہ ہم ریجنرز یا پو لیس پر بد اعتما دی کر یں ۔ تا کہ صو بے میں انتشا ر کی راہ ہموار ہو سکے ! ورنہ صو با ئی ووفا قی فو ر سز ملک کے نظام کی بہتری ، جرائم کے کنٹر ول اور امن عا مہ قا ئم کر نے میں بنیا دی کردار ادا کر تی ہیں ۔ نئے وزیر اعلیٰ سند ھ نے معلو م نہیں رینجرز کو سند ھ میں متحر ک رکھنے کی منظوری دینے میںکیو ں دیر کی ؟ کیا یہ ان کی اپنی سو چ تھی؟ کیا حکو متی اکا بر ین نے انہیں رینجرز کو متحر ک کر نے سے با ز رکھا ؟ کس کو رینجرز کو اختیا رات دیے پر تحفظا ت تھے ؟ اور پھر کس کی مد اخلت پر رینجرز کو اختیا را ت دئیے گئے ؟ یہ وہ سوالا ت ہیں ہرشہر ی کے ذہین میں کھٹکتے ہیں ! کیا یہ رینجر ز حکومت یا عوام کے خلا ف بلا جو از کو ئی کا رائی کر سکتی ہے ؟ کیا ئہ رینجر ز حا لا ت سد ھا ر نے میں معا ون ثا بت نہیں ہو رہی ؟ ان سوالا ت کے جوا با ت سے عوام کوکو ئی عر ض نہیں ۔ مگر حکمر انو ں کو عوام کے غیض کا سا منا الیکشن میں کر نا پڑ ے گا ! نئے وزیر اعلیٰ جو ان ہیں اور ان کو معلو م نہیںکن صفا ت کے پیش نظر یہ ذمہ داری ہو نپی گئی ہے !جب تک وزیر اعلیٰ اپنی ٹیم میں سپر ٹ پیدا کر کے عوام کی حقیقی خد مت کےلئے مید ان میں نہیں اتر تے ! جب تک وزیر اعلیٰ چو ر ڈاکو ﺅ ں ، قا تلو ں ، بھتہ خو رو ں کے خلا ف جہا د کا اعلا ن نہیں کر تے ؟ جب تک وزیر اعلیٰ اپنے منصب کو عوامی مفا د کےلئے استعما ل نہیں کر تے !جب تک وزیر اعلیٰ اختیا را ت کو ما حو ل کی بہتر ی کےلئے استعما ل میں نہیں لا تے جب تک مر ا د رعلی شا ہ عوامی نما ئند ہ بن کر عوامی مسا ئل کے حل کےلئے تن من دھن نہیں لگا تے ! جب وزیر اعلیٰ سند ھ صو بے کی خر اب صو رت حا ل کےلئے ہنگا می انتظامات نہیں کر تے ! جب وزیر اعلیٰ جماعت کی بجا ئے عوامی سیا ست نہیں کر یں گے ۔ نئے وزیر اعلیٰ کے اپنے حالا ت ، پپیلز پا ر ٹی کے حا لا ت اور صو بہ سند ھ کے حالا ت دن بد ن خرا ب ہو تے جا ئیں گے ! صفا ئی کا مسئلہ ہو کر امن اسلا متی کا ، ملا زمتو ں کی با ت ہو کر جر ائم پیشہ افراد کے خلا ف اپر یشن کی با ت ہو ۔ ہر مسئلہ کو ذاتی مسئلہ سمجھ کر حل کر نے کی کو شش ہو گی تو نئے وزیر اعلیٰ مسا ئل کے حل کی طر ف کا میابی سے پہنچے پا ئیں گے ۔ ورنہ اس عہد ے سے بھی ہا تھ دھو نا پڑیں گے ۔ اور اپنے وقا ر سے بھی ہا تھ دھو نا پڑیں گے ! رینجر ز ہو ںکہ پو لیس یا کو ئی تیسر ی قوت جس کو امن سلا متی کےلئے اختیا را ت حا کم وقت دیکر استعمال کر ے گا ! ہر قو ت حا کم کو حا لا ت ٹھیک کر کے دے گی ۔ اگر حکمرا ن ان فو ر سز کو حکمر ان ، ذاتی ، سیا سی ، جما عتی ، مفا دات کےلئے استعما ل کر یں گے تو یقینا ما لدار تو ہو ں گے ۔ مگر نہ عوا م میں ان کی تو قیر رہے گی اور نہ امن رہے گا!نہ اقتداررہے گا !
٭٭٭٭٭