- الإعلانات -

احتیاط دوائی سے بہتر ہے

صحت،تحفظ ما ل و جان اورروزگار کی باہم فراہمی اس ملک کے ہر شہری کو پہنچانا اس ملک کے حکمرانوں کا فرض ہے یہ پاکستان نکے قانون اور آئین میں بڑے واضح طور پر لکھا ہوا ہے۔اب زرا سوچئے جو ریا ست یا اس ریاست کے حکمران اپنے شہریوں کے تحفظ مال و جان ،صحت و روزگار جیسے ناگزیر ضروریات کو آئین میں درج ہو نے کے باوجود پورا کر نے میں مکمل طور پر نا کام نظر آئے کیا ہم اسے ایک کامیاب ریا ست کہ سکتے ہیں ۔حقیقیت میں ا وپر بیان کردہ ریاستی فرائض کی بجا آوری میں نا کامی اس ملک کے حکمران طبقے کی مکمل نا کا می گردانی جائے گی۔دوسرے شعبوں کے حقوق پورا کر نے کی بات کیا کی جائے جب ،صحت اور تعلیم جیسی ناگزیر ضرورت کو بھی اس ملک کے حکمران پورا کرنے میں پوری طرح ناکام نظر آرہےءہوں تو پھر کامیابی،خدمت اور فرائض کی بجا آوری کے بلندو بانگ دعوے ہمیں روزانہ سننے کو کیوں ملتے ہیں ۔تعلیم کے میدان ہی کو لے لیجئے،پاکستان میں اچھی اور معیاری تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ ۔ حالت یہ ہے کہ تعلیم جیسا عظیم شعبہ بھی اب ملک میں مکمل طور پر ایک انڈسٹری کی صورت اختیار کر چکا ہے۔جسکی جیب اسے جس قدر اجازت دیتی ہے اس قدر وہ ماڈرن اور پاکستان میں بیٹھ کر عالمی اداروں سے منسلکہ ہو نے کے دعوں کی بنبیاد پر تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔رہ جاتا ہے صحت کا شعبہ جو اس وقت مکمل طور پر نحیف اور کمزور نظر آتا ہے کہ خود اپنے پاﺅں کھڑا ہو نے کا متحمل نہیں ۔ملکی حکمرانوں اور امیر زادوں کو اگرچہ یہ رکاوٹ نہیں ہے اور یہ سہولت باہم حاصل ہے کہ وہ اس ملک کے صحت کے شعبے کو ٹھوکر مار کر باہر سے علاج کو ترجیح دیتے ہیں ،ملکی سرمایہ تو صرف ہوتا ہے مگر اس سے انھیں افاقہ تو ہو جاتا ہے ۔خود باہر کے مما لک سے علاج کراﺅ اور وطن لوٹ کر میںہسپتالوں کی حالت زار اور ملک میں دستیاب ادویات کی قیمتوں اور ان کے معیار پر ذمہ داران سے بریفنگ لے لو اور اس شعبے کو مزید بہتر بنا نے کے دعوے سنتے جاﺅ۔ملک میں دستیاب ادویات کے معیار کی حالت تو یہ ہے کہ اب تو بڑے شہروں میں بھی خال خال جگہیں ایسی رہ گئیں ہے جہاں سے دوا حاصل کرتے ہوئے بندے کو اطمینان مل جاتا ہے کہ اس کو کھانے سے دوائے کھانے کی رسم بھی ادا ہو جائے گی اور خوش قسمتی سے ہمیں ہوگا بھی کچھ نہیں ۔ورنہ ملک میں ہر گلی کوچے میں کھلے سٹورز سے تو آپ دو نمبر سے لیکر پتہ نہیں کتنے نمبروں تک کی دوائی لیکر کھا سکتے ہیں ۔مہنگی بھی اور ساتھ جعلی اور کم تر معیار دوائی کھا کر، اور نہیں تو بیماری کو کم کر نے کی بجائے تو تین ساتھ کی بیماریوں کو اس ملک کے عوام اپنی قسمت سمجھ کر بڑے لمبے عرصے سے سہ رہے ہیں ۔ادویات ساز کمپنیاں اس ملک کے عوام سے اس قدر پیسہ نکال نکال کر نئی کمپنیاں بنا رہی ہیں کہ جس کا شمار نہیں ۔پاکستان میں گزشتہ دنوں میڈیا کے ذریعے یہ خبریں ایک دفعہ پھر اس ملک کے بیمار اور غریب عوام پر بجلی بن کر گری کہ ادویات کو مزید سے مزید تر مہنگا کیا جارہا ہے ۔ادویات ساز کمپنیاں دھونوں ہاتھوں سے دوائی جیسی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر مزید سے مزید تر مہنگا کر کے اس ملک کے عوام کو دونوں ہاتھوں لوٹنے پر لگے ہیں۔۔حکومتی اداروں کا ان ادویات ساز کمپنیوں سے منت سماجت کا سلسلہ تو جاری ہے کہ کھاﺅ مگر تھوڑا ٹھنڈا کر کے ،ایک عجیب صورتحال ہے ،کھانسی کا سیرپ یا بخار کی گولیاں لینے جاﺅ تو صبح اسکی قیمت اور ،اور شام کو اور ہوتی ہے۔ ہمارے ملک کے عوام کی نفسیات بھی یہ مہنگی ترین ملکی دوائیاں کھا کر عجیب بن گئی ہے یہ لوگ گوشت والے سے لیکر برف والے سے قیمتوں پر تقرار کرتے نظر آتے ہیں مگر میڈیکل سٹور والا روزانہ لی جا نے والی گولی کی ڈبی کی قیمت دوسرے دن سو روپے زیادہ بھی بتا دے تو یہ چپ چاپ ادائیگی کر کے چلتے بنتے ہیں ۔یہ اپنی جگہ عوام کی مجبوری سہی کہ ان ملکی ادویات کی جو کوالٹی اور معیار ہے کھانے والا اس کے برے اثرات کو کم کرنے کیلئے مزید دوائی کھانے پر مجبور و مامور ہے ۔جبکہ ہمارے پڑوسی ممالک میں ہمارے ملک کے مقابلے میں ادویات کی قیمتیں بہت کم ہیں ۔اس ملک میں خدا کسی بندے کو بیمار نہ کرے ورنہ ڈاکٹرز سے لیکر ادویات ساز کمپنیوں تک سب کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں ۔اب تو صرف اس ملک کے غریب،مجبور،لاچار اور بیمار عوام کو یہی نصیحت کی جاسکتی ہے کہ احتیاط علاج اور دوائی سے بہتر ہے۔