- الإعلانات -

پی ٹی آئی کوئی خا ص قابل ذکر کا ر کر دگی نہیں دکھا سکی

عمران خان جب بھی جلسے، ٹی وی ٹاک ، پبلک میٹنگ میں بات کرتے ہیں تو خیبر پختون خوا میں پولیس ، صحت اور تعلیم کے میدان میں کامیابی اور کامرانی کی بات کرتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خیبر پختون خوا میں پولیس کے نظام میں کسی حد تک بہتری آئی ہے مگر نظام کی بہتری میں عمران خان ، پر ویز خٹک یا تحریک انصاف کا کوئی کر دار نہیں ۔ نا صر خان درانی بذات خود ایک مُنجھے ہوئے تجربہ کار پولیس افسر ہے اور یہی وجہ ہے کہ اُنکی بہترین لیڈر شپ میں پولیس پہلے سے کسی حد تک بہتر ہے۔ اور اس بہتری کا سارا کریڈٹ نا صر خان دُرانی کو جاتا ہے۔جہاں تک تحریک انصاف کی حکومت کی کار کردگی ہے وہ کوئی خاص نہیں۔ عمران خان اپنے تقریروں میں صحت اور تعلیم کی جو بات کرتے ہیں تو ان دونوں وزراءشہرام ترہ کئی اور تعلیم کے وزیر عاطف خان کے آبائی گاﺅں میں چلے جائیں اور انکے آبائی گاﺅں صوابی اور مردان میں بالترتیب صوابی کا ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور مردان میں سکولوں کی حالت زار دیکھیں تو انکو خود پتہ چلا جائے کہ ان دونوں وزرائے کرام کے علاقوں میں ہسپتال اور تعلیمی اداروں کی کیا حالت ہے۔ خدا کی قسم چند دن پہلے ڈسٹرکٹ ہسپتال ایک دوست کی بچی دکھانے گئے ہسپتال میں تھر مامیٹر اور سپرٹ تک نہیں تھا۔صوابی کا ڈسٹرکٹ ہسپتال میں زندگی میں اتنی خستہ حالت میں نہیں دیکھا تھا۔2013کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نواز نے ایک کروڑ 48لاکھ ، تحریک انصاف نے 80لاکھ کے قریب اور پاکستان پیپلز پا رٹی نے 68 لاکھ ووٹ لئے۔ ا ور اسی طر ح تحریک انصاف ، پاکستان مسلم لیگ نواز کے بعد دوسری بڑی سیاسی طاقت تھی۔ کے پی کے لوگوں کی تحریک انصاف سے انتہائی توقعات تھی مگر تین سال گزارنے کے با وجود کوئی خاطر خوا پراگریس نہیں ہوئی۔گذشتہ دنوں خیبر پختون خوا کے مختلف حصوں سے یاروں دوستوں سے کسی بڑے فنکشن میں ملنے کا مو قع اور صوبے اور ملک کے سیاسی صورت حال پر گُفت و شنید کا موقع ملا۔ مختلف سیاسی پا رٹیوں کے ان صائب رائے میڈیا اور سیاست سے وابستہ کا ر کنوں اور یا ر دوستوں کے ساتھ بات چیت سے میں اچھی طر ح سمجھ گیا کہ تحریک انصاف کی مقبولیت وہ نہ رہی جو ۳۱۰۲ کے الیکشن سے پہلے اوریاعام انتخابات کے کچھ عرصہ بعد رہی۔ میں شیخ رشید احمد کے اس بیان سے با لکل اتفاق کرتا ہوں کہ خیبر پختون خوا میں پٹھان کسی کو ایک دفعہ اقتدار میں آنے کا موقع دیتے ہیں اور ووٹ دیتے ہیں۔یہ لوگ بار بار کسی پا رٹی کو اقتدار میں آنے اور ووٹ نہیں دیتے۔ اُنہوں نے کہا کہ میں نے خان صاحب کو کہا ہے کہ اگر آئندہ عام انتخابات میں کچھ کا ر کر دگی دکھانی یا ووٹ لینے ہیںتو اس وقت آپ کو جواقتدار ملا ہے اس سے بھر پور استفادہ کریں۔ مگر یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے پونے تین سال اقتدار میں رہنے کے با وجود بھی یہ پارٹی کوئی خا ص قابل ذکر کا ر کر دگی نہیں دکھا سکی ۔اقتدار آنے کے بعد چند مہینوں تک غالباً جب شوکت یو سف زئی وزیر صحت تھے تو لوگوں کو ہسپتالوں میںمُفت دوائی دی جاتی تھی مگر اسکے بعد پھر وہی پرانی روش جاری ہے۔میرا تعلق چونکہ صوابی سے ہے جہاں سے صوبائی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر اور صحت کے سنیر وزیر شہرام خان ترہ کئی کابھی تعلق ہے ۔ مگر حکومت کے ا تنے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے ان دو بڑے شخصیات نے صوابی کے لئے جو کچھ کرنا تھا وہ نہ کرسکے ۔سارے اضلاع کے ڈی ایچ کیو ہسپتال اور بالخصوص صوابی ضلعی ہسپتال کوسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال ہونا چاہئے مگر تین سال اقتدار گزرنے کے با وجود بھی ویسے کے ویسے گند جہاں پر اندر جانے کو دل نہیں کرتا۔ بد قسمتی سے اس ہسپتال میں ڈاکٹروں کی غفلت اور ایم ایس کی کمزور اور لوز ایڈمنسٹریشن کی وجہ سے روزانہ صوابی سے تعلق رکھنے والے کئی مریض لُقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔
٭٭٭٭٭
وزیر صحت اور سپیکر اسد قیصرکے نو ٹس میں اس قسم کے غلط باتوں کی نشاندھی بھی کی گئی مگر سمجھ نہیں آتی کہ وہ کونسا جادو اور سحر گری ہے جس جادو گری اور سحر کی وجہ اسد قیصر اور شہرام ترہ کئی مفاد عامہ کی خاطر ایم ایس اور ہسپتال کے غفلت برتنے والے ڈاکٹروں کے خلاف ایکشن نہیں لیتے اور خود بد نام ہو رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ تو سندھ اور پنجاب کو فتح کرنے گئے ہوئے ہیں مگر اُنکو پہلے اپنے صوبے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ اُن کو صوبے کے عوام کے لئے بڑے اقدا مات اور ترقیاتی کام کرنے ہونگے ورنہ اب تک پاکستان تحریک انصاف کے نے کچھ نہیں کیا ہے۔سوشل میڈیا پر اکثر و بیشتر مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے ووٹر اپنے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کی گمشدگی کے اشتہارات دیتے رہتے ہیں۔ بلکہ میں تو ایک نتیجے پر پہنچا ہوں کہ تحریک انصاف پر لوگوں نے جو اعتماد اور ٹرسٹ کا اظہار کیا تھا اسے وہ فائدہ اور استفادہ نہیں اُٹھا سکے۔ ایسے مو قع زندگی میں کبھی کبھی ملتے ہیں اور سمجھ دار وہ سیاست دار اور لیڈر ہوتے ہیں جو ان مواقع سے استفادہ اور فائدہ اُٹھا سکیں۔اب تک خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف بالخصوص تعلیم اور صحت کے شعبوں جو کا رکر دگی ہے وہ تو نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر تحریک انصاف اور عمران خان نے موقع اور حالات کی نزاکت سے فائدہ نہیں اُٹھایا اور انکی کا ر کردگی ایسی کی ویسی رہی تو مُجھے یقین نہیں کہ تحریک انصاف آئندہ 2018ءکے عام انتخابات میں کے پی پی چند سیٹیں بھی لے سکیں۔ تحریک انصاف کی نا قص کا ر کردگی کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیر مقام، اے این پی ، پی پی پی اور جماعت اسلامی روز بروز عوام میں مقبول ہو رہی ہے اورآئندہ سیاسی قوتوں کے طو ر پر اُبھر رہی ہے۔تحریک انصاف کی مایوس کُن کا کر دگی سے اب کے پی کے عوام اس بات سوچنے پر مجبور ہیں کہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ایک انتہائی دیانت دار انسان ہیں اور اسکے علاوہ وہ صوبے میں اے این پی کے ترقیاتی کاموں کو اچھی نظروں دیکھتے ہیں اور اسکے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کی مزدور دوست پالیسیوں کی تعریف کرتے ہیں۔تحریک انصاف کی نا قص کا رکردگی کا اندازہ تو اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی صوابی میں بلدیاتی الیکشن میں بُری طر ح شکست کھا گئی جو شہرام خان اور اسد قیصر کا آبائی علاقے ہیں۔