- الإعلانات -

قابل رشک شہادتیں

uzairahmedkhanحرم پاک میں صفہ اور مروہ کے قریب ہیوی کرین گرنے کی وجہ سے تقریباً 87کے قریب عازمین حج شہید ہو گئے جبکہ دوسو سے زائد زخمی ہو گئے ، حادثے کے وقت بارش اور سخت طوفان چل رہا تھا اس بادو باراں کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا ، اس میں کوئی شک نہیں کہ جن عازمین حجاج کو شہادت نصیب ہوئی ہے ، یقیناً ان کے لواحقین کو غم اور دکھ ہو گا، لیکن در اصل یہ غم اور دکھ کی بات نہیں مکہ مدینہ وہ شہر پاک ہیں جہاں پر ہر مسلمان کی دعا ہو تی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس وقت پورا کیا ہوا ہو تو اس کی جان مکہ مدینہ میں نکلے ، اللہ رب العزت مرنے والے کو جنت البقیع میں جگہ عطا فرمائے ، یہ خواہش لے کر ہر حاجی اور عمرہ ادا کرنے والا وہاں پر جاتا ہے اور جو بھی وہاں وفات پا جاتا ہے ، اس پر یقیناً ہر مسلمان رشک کر تا ہے اور دعا کر تا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا ہی موقع اسے بھی عطا فرمائے ، حرم پاک میں پیش آنے والے حادثے کے دوران شہید ہونے والے عازمین حج اس دنیا کے وہ خوش قسمت ترین افراد ہیں ، جنہیں اللہ تعالیٰ براہ راست جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے گا اور پھر چونکہ وہ شہید ہوئے ہیں ، رب تعالیٰ کی ذات ہر سال ان کی روحوں کو حج کی کرنے کی سعادت بھی عطا فرمائے گا ، مکہ مکرمہ اور مدینہ شریف اللہ تعالیٰ کے محبوب رسول کریم ﷺ کے شہر ہیں اور وہاں پر تو رحمتیں ہی رحمتیں ہیں ، پھر جس شخص کی وہاں پر تدفین ہو جائے وہ کتنا خوش نصیب ہو گا ، شہید تو ویسے بھی زندہ ہو تا ہے ، لیکن ہمیں وہ شعور نہیں کہ ہم اسے دیکھ سکیں، اللہ تعالیٰ نے حرم پاک میں شہید ہونے والے حجاج کرام کو اس اعلیٰ مقام پر فائز کیا ہے جو کہ قابل رشک ہے ، راقم کو اللہ تعالیٰ کی ذات نے تقریباً 4مرتبہ حرم پاک جانے کی سعادت سے نوازا ، حج اور عمرے ادا کئے حج اکبر بھی اس میں اللہ کی ذات نے اس راقم کے نصیب میںلکھا ، ہر مرتبہ راقم یہ دعا کرتا ہوا گیا کہ اے اللہ تعالیٰ اگر تو نے میری مٹی عزیز کرنی ہے تو مکہ مدینہ میں کر اور میری آخری آرام گا ہ جنت البقیع کو بنا دے سو دیکھا جائے جن لوگوں کو اللہ نے یہ موقع فراہم کیا وہ کتنے خوش نصیب ترین لوگ ہیں ہر وقت حرم پا ک سے آذان کی آواز گونجنا اور پھر وہاں پر رحمتوں کا بارش کا ہونا یہ خوش نصیبی نہیں تو پھر اور کیا ہے ، مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں پہلی مرتبہ مدینہ منورہ پہنچا ، جنت البقیع میں جانے کی سعادت حاصل کی تو وہاں پر میرے ایک ہم نام قاری صاحب سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے کہا کے عزیر صاحب یہاں تو بس عنایات ہیں عنایات ہیں آپ مانگتے جائیں پھر آپ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اپنے محبوب پاک ﷺ± کی ذات کے صدقے آپ کو کس طریقے سے نوازتی ہے ، میں نے وہاں جا کر باقاعدہ طور پر یہ دیکھا کہ جو کچھ بھی اس ناچیز نے اللہ پاک ذات سے وہاں مانگا وہی کچھ ملا بلکہ اسے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ کی ذات نے کر م کیا بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ ادھر اللہ کی بارگاہ میں درخواست پیش کی اور کچھ دیر بعد ہی اس کی نوازشات شروع ہو گئیں ، حرم پاک اور مدینہ منورہ جانے والا ہر شخص وہاں پر رحمتوں کا طلب گا ر ہوتا ہے ، جنت الفردوس کا سوالی ہوتا ہے ، آپ ﷺ کی قربت کا متلاشی ہوتا ہے ، جھولیاں پھیلا پھیلا کر انتہائی عاجزی سے گڑ گڑا کر رب تعالیٰ کے حضور خیر مانگتا ہے وہاں پر تو اللہ کی ذات کسی کو واپس ہی نہیں کرتی ہے خاص کر میدان عرفات میں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے کہ اے فرشتو دیکھو میرے یہ لوگ سب کچھ چھوڑ کر میرے حضور حاضر ہوئے ہیں اور جو کچھ بھی مانگ رہے ہیں ان کو عطا کیا جائے ، اللہ تعالیٰ کی ذات دیکھ کر بے انتہا خوش ہو تی ہے کس عجز و انکساری سے مسلمان اس کی ذات سے رحمتوں کے طلب گار ہیں ، آج جو حجاج کرام وہاں پر شہید ہوئے ہیں کیا انہوں نے اسی عجز و انکساری سے وہاںکی مٹی میں دفن ہونے کے بار ے میں دعا نہیں مانگی ہو گئی یقیناً مانگی ہو گی اور اللہ کی ذات نے اسے قبول بھی فرمایا ، لہذا یہ لوگ خو ش نصیب ہیں ، اللہ کی ذات ہر مسلمان کو مکہ مدینہ میں مدفن ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور جب وقت نزع آ ن پہچے تو اللہ کی ذات ایسا سلسلہ کرے کہ دعا کرنے والا شخص کسی نہ کسی صورت وہاں موجود ہو ، راقم کی بھی اس ذات بابرکات کی بارگاہ میں یہ ہی دعا ہے کہ جب بھی آخری وقت آئے تو اللہ کی ذات جنت البقیع میں دفن ہونے کی توفیق عطا فرمائے اٰمین ثم اٰمین ، اس سے بڑی دنیا میں اور کوئی خوش نصیبی نہیں ہے دنیا بھی سنور گئی آخرت بھی سنور گئی جو لوگ وہاں پر شہید ہو گئے ہیں ان کی نماز جنازہ بھی حرم پاک میں ہی ادا کی جائے گی ، یہ تمام عازمین حج قابل رشک ہیں ، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا ، جن افراد کو وہاں پر شہادتیں نصیب ہوئیں ان پر اس ذات بابرکات کی خاص عنایات تھیں اور اللہ کی ذات نے انہیں اپنے خاص لوگوں میں منتخب کر لیا تھا