- الإعلانات -

وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس

وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس بڑی اہمیت کا حامل قرار پایا اس میں آرمی چیف جنر ل راحیل شریف ، ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر، وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔ اجلاس میں انٹیلی جنس میکنزم کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کی منظوری دی گئی اور قوانین میں خامیاں دور کرنے دہشت گردی میں ملوث غیر ملکی ایجنسیوں کے معاملہ کو عالمی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ بھی طے پایا کہ وفاق صوبوں کو تمام وسائل فراہم کرے گا ۔ اس موقع پر سیاسی و عسکری قیادت نے آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کو ہر قیمت مکمل کرنے کا عزم کیا اور یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کے خلاف شہر شہر کومبنگ آپریشن ہوگا ۔ صوبائی اپیکس کمیٹیوں کو فعال کیا جائے گا اور انٹیلی جنس اداروں کو مزید اختیارات دئیے جائیں گے اور ملک بھر میں سیکورٹی فورسز کہیں بھی بغیر اجازت چھاپے مار سکیں گی تحفظ پاکستان بل میں مزید توسیع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ دہشت گرد عدلیہ عوام اور ہمارے طرز زندگی اور قومی سلامتی کے دشمن ہیں انہو ںنے ہی بینظیر کو شہید اور آرمی پبلک سکول کو نشانہ بنایا ۔ وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں جو پالیسی بیان دیا وہ سیاسی بصیرت اور تدبر کا عکاس ہے ۔ سیاسی و عسکری قیادت نے کومبنگ آپریشن کا دائرہ ملک بھر بڑھانے کا جوفیصلہ کیا ہے اس کے دوررس نتائج برآمد ہونگے۔ دہشت گردی کے نظریے کو شکست دینے کیلئے سیاسی و عسکری قیادت پرعزم ہے۔ سانحہ پشاور کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا اگر اس پر کماحقہ عملدرآمد کیا جاتا تو آج دہشت گردوں کا قلع قمع ہو جاتا لیکن بدقسمتی سے نیشنل ایکشن پلان کے اہداف پورے نہ ہو پائے اور کئی نکات پر سرے سے عمل ہی نہ کیا گیا ۔ نیشنل ایکشن پلان پر ہر صورت عمل کرکے ہی پاک سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے ۔ دہشت گرد ملک میں عدم استحکام اور بدامنی پھیلا کر اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ ان کی بھول ہے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اور قوم اس وقت ایک پیج پر ہے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں ۔ آپریشن کومبنگ کا دائرہ ملک بھر میں پھیلانے سے اب یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ ملک و قوم کے دشمن اب کہیں بھی چھپ نہیں سکیں گے۔ دہشت گردوں ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی اس بات کی آئینہ دار ہے کہ وطن کا گوشہ گوشہ ، قریہ قریہ ،نگرنگر دہشت گردوں سے پاک ہوگا۔ ملک میں کئی ایسے مدارس موجود ہیں جو انتہا پسندی کی ترغیب کا باعث بن رہے ہیں ان پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے جب تک ایسی سوچ کو لگام نہیں دی جائے گی اس وقت تک دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا مشکل ہے ۔ دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے اور بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیاں اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ہیں یہ پاکستان میں افراتفری پھیلنے کی سازش کررہا ہے لیکن پاک فوج چوکس ہے وہ دہشت گردوں سے بھی نمٹ رہی ہیں اور بیرونی سازش کو بھی ناکام بنا رہی ہے ۔ پاک فوج کی قربانیوں کے نتیجہ میں ملک میں امن لوٹتا دکھائی دے رہا ہے اور کئی علاقے دہشت گردوں کے تسلط سے آزاد کروائے جاچکے ہیں اور ان کا نیٹ ورک تباہ کردیا گیا ہے سینکڑوں کو ہلاک کردیا گیا ہے فوجی عدالتیں دہشت گردوں کو ان کے بھیانک انجام تک پہنچانے میں ممدومعاون ثابت ہورہی ہیں۔ کوئٹہ واقعہ کے بعد سیاسی و عسکری قیادت کے کیے گئے فیصلے عوام کی امنگوں کے ترجمان ہیں ان پر عملدرآمد اور ان کے مطلوبہ مقاصد اور اہداف حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان انٹیلی جنس میکنزم مزید مستحکم بنانے کی منظوری مستحسن اقدام ہے۔ دشمن پاک چین راہداری منصوبوں کو ناکام بنانے کی سازش کررہا ہے جس کے خلاف اس طرح کے اقدامات ضروری ہیں۔ دہشت گردی اب عالمی مسئلہ بن چکا ہے اور دنیا بھر میں بدامنی پھیلتی جارہی ہے جس کی روک تھام کیلئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔ عالمی برادری اس سلسلہ میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے متاثرہ ملکوں کی ہرممکن مدد کرے اور مشترکہ حکمت عملی بروئے کار لائے تاکہ دنیا کے امن کو مضبوط بنایا جاسکے جب تک دہشت گردوں کے نظریے کو شکست نہیں دی جائے گی اس وقت تک پائیدار امن قائم نہیں ہوسکے گا۔ دہشت گردی کی اجازت دنیا کا کوئی ملک نہیں دیتا اسلام تو امن و سلامتی کی تعلیم دیتا ہے اور ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں اور ان دشمنوں کو ان کے بھیانک ا نجام تک پہنچانا ہی امن کا ضامن قرار پائے گا۔ سیاسی و عسکری قیادت نے جو فیصلے کیے ہیں وہ دہشت گردی کے خاتمے کا باعث بنیں گے لیکن ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے یہ وطن اور اس کی فضا آج سوگوار ہے اور انگارے اس دھرتی کا مقدر بنائے جارہے ہیں لیکن دشمن ان مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگا ۔وزیراعظم کی زیرصدارت ہونیوالے اجلاس میں جو فیصلے سامنے آئے ہیں ان کے دوررس نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔
نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی تجویز
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ جن تنظیموں پر پابندی ہے ان پر سختی سے عمل کیا جائے اوردہشت گردی کو روکنے کیلئے پارلیمنٹ کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی بنائی جائے اپوزیشن لیڈر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے کہنے پر فوجی عدالتیں نیکٹا اور ایکشن پلان مانا اب ذمہ داروں کو پارلیمنٹ بلائیں ہم سوال کریں گے ہم کب تک بے گناہ لوگوں کی شہادتوں پر آنسو بہاتے ریں گے۔ نیشنل ایکشن پلان پر حکومت منفی سیاست نہ کرے ۔ قائد حزب اختلاف کی تجویز پر حکومت سنجیدہ غور کرے اور اس صائب تجویز کو قابل عمل بنائے ۔ حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ اپوزیشن کو اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے اور اس کے تحفظات دور کرتی ہے ۔ محاذ آرائی سے جمہوریت غیر مستحکم ہوتی ہے یہ وقت اتفاق و اتحاد کا ہے اور ملک کو اس وقت دہشت گردی جیسے مسئلے کا سامنا ہے مل جل کر ملک کو اس ناسور سے بچانا ہے اس کیلئے پوائنٹ سکورننگ کی بجائے حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے ۔ برداشت کا کلچر اپنا کرہی جمہوریت کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ حکومت اپوزیشن لیڈر کے تحفظات کو دور کرے اور مثبت رویہ اپنا کر آپس کی تلخیوں کودور کرے یہی سیاسی بصیرت ہے۔ وزیراعظم نے خورشید شاہ کو جس طرح منایا وہ ان کے اعلیٰ ظرف اور سیاسی تدبر کا عملی مظاہرہ ہے جس کو سراہا جارہا ہے حکومت اور اپوزیشن مل جل کر ملک کو چیلنجز سے نکالیں۔ یہ وقت اور یہ گھڑیاں سیاسی استحکام کی ہیں اور جمہوریت کی بقا اسی میں ہے کہ ملک میں سیاسی فضا خوشگوار ہو اور سیاسی ہم آہنگی ہو-