- الإعلانات -

وفاقی وزیر داخلہ نے قوم کی صحیح ترجمانی کی

8اگست 2016ء کو کوئٹہ میں اندوہناک دہشتگردی کا واقعہ پیش آیاجس میں وکلاءکی بڑی تعداد سمیت 73افراد جاں بحق جبکہ150سے زائد افراد زخمی ہوئے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ واقعہ محض ایک دن کی کارروائی نہیں تھی۔یہ دہشتگردی مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی۔پہلے منو جان روڈ پر بلوچستان بار کے صدر بلاول انور کاسی کو قتل کیا گیا اور پھر جب انکی میت سول ہسپتال میں لائی گئی تو بار کے صدر کے باعث بہت سے وکلاءہسپتال پہنچے،دہشتگردوں کو مکمل یقین تھا کہ بارکے صدر کے قتل کے بعد ہسپتال میں وکلاءکا اکھٹا ہونا لازمی ہے یہی وجہ تھی کہ دہشتگردوں نے اگلا ہدف سول ہسپتال کو رکھا ہوا تھا۔جونہی وکلا ءکی تعداد زیادہ ہوئی تو دہشتگردوں نے وہاں خودکش دھماکہ کر دیاجس سے ناقابل تلافی جانی نقصان ہوا۔اس دہشتگردی کی نذر دو صحافی بھی ہوئے جو کہ اس وقت اپنے پیشہ ورانہ فرائض سر انجام دے رہے تھے۔اس دہشتگردی کے واقعے کے بعد آرمی چیف اور جنرل راحیل فوری طور پر کوئٹہ پہنچے اور دہشتگردی کیخلاف جنگ کیلئے اہم فیصلے کئے جس میں کومبنگ آپریشن تیز کرنا شامل ہے۔جس کے بعد وزیر اعظم نے پے درپے سکیورٹی کے حوالے سے اہم اجلاس کی صدارت کی اور مزید اہم فیصلے لئے گئے۔گزشتہ روز بھی اسی سلسلے میں اہم اجلاس ہوا اور وزیر اعظم نے اہم فیصلے کئے۔یہاں یہ بات قابل زکر ہے کہ تمام اہم اجلاسوں میں سول اور ملٹری قیادت اکٹھی نظر آئی۔سول اور ملٹری قیادت کا اکھٹا ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ پارلیمنٹ قوم کی آواز ہے اور جب پارلیمنٹ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شاباش دی جاتی ہے تو جان کا نذرانہ دینے والوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔یہ تو ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے نہ کہ محض چند ہزار روپے ماہانہ کے عوض کوئی بھی اپنی جان نہیں دیتا۔یہ حب الوطنی کا خاص الخاص جذبہ ہی ہوتا ہے جو ہمارے جوانوں کو بہادری کے ساتھ اگلے مورچوں پر لڑنے کی ہمت دیتا ہے اور اگر ان کی ہمت بڑھانے کیلئے جب قوم ان کو سلیوٹ کرتی ہے تو ان کے جذبے اور بڑھ جاتے ہیں ۔لڑنے کیلئے ہمت و حوصلے کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اس لئے ہمیں اپنی سکیورٹی فورسز کی ہمت افزائی ہی کرنی چاہئے اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن زیر غور نہیں۔اب آتے ہیں اصل موضوع پر۔جس پارلیمنٹ سے سکیورٹی فورسز کے جوانوں کے حوصلے بلند ہونے کی آواز اٹھنی چاہئے تھی وہیں سے افسوس کے ایسی آواز گئی جس سے قوم کے سر شرم سے جھک گئے کہ اس قوم کی نمائندگی ایسے افراد کر رہے ہیں جو کہ اپنی ہی ان سکیورٹی فورسز کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیںجو کہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اس ملک و قوم کی حفاظت کر رہے ہیں۔ہم راتوں کو سوتے ہیں تو انہی عظیم ماﺅں کے سپوتوں کے باعث ہی جو کہ دن رات سنگلاخ و برفانی پہاڑوں اور جنگلوں و ریگستانوں اور دریاﺅں پر دشمن کے ہر وار کو ناکام بنانے کیلئے چاک و چوبند کھڑے ہیں۔پارلیمنٹ سے ایسی بھی آواز آئی جس میں یہ کہا گیا کہ یہ ملک اسٹیبلشمنٹ کیلئے ہے یا اسٹیبلشمنٹ اس ملک کیلئے۔یقین مانیئے جب پارلیمنٹ سے ایسی آواز آئی تو بہت دکھ ہوا ۔اس ملک و قوم کے ٹیکس سے پلنے والے آج کس منہ سے بات کر رہے ہیں۔ان لوگوں نے اس ملک کی خاطر کیا کیا۔جمہوری قوتوں کی خامیوں کو گننا شروع کیا جائے تو شائد دل کی بھڑاس نکلے اور ان کو آئینہ نظر آئے لیکن مجھے یقین ہے کہ ملک دشمن عناصر کو خوش کرنے والے بیانات سے یہ لوگ پھر بھی باز نہیں آئیں گے۔ملک دشمن باتیں کرنے والے ان نام نہاد جمہوری نمائندوں سے ایک سوال تو بنتا ہے کہ ان کی اس ملک کیلئے کیا قربانیاں ہیں یہ کس حیثیت سے اس ملک کی خاطر لڑنے والوں پر تنقید کر رہے ہیںکیا اس تنقید سے دشمن خوش نہیں ہو گا؟ضرور ہو رہا ہو گا۔قومی اسمبلی کا کام قانون سازی ہے اس قانون سازی کیلئے ایک طریقہ کار طے ہے جس کیلئے مختلف ایشوز پر بحث کی جاتی ہے مگر کچھ جو کہ بہت کم ہیں اس فورم کو غلط استعمال کرتے ہیںاگر میں غلط کہ رہا ہوں تو گزشتہ 3روز سے سوشل میڈیا کا جائزہ لیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔سچ پوچھیں تومیں جتنا بھی لکھتا میرے دل کی بھڑاس کم نہیں ہو سکتی تھی اور نہ ہی میرا دل مطمئن ہوتا لیکن 10اگست 2016ءکی وفاقی وزیر داخلہ کی قومی اسمبلی میں تقریر نے دل مطمئن کر دیا۔چودھری نثار علی خان نے قوم کی صحیح معنوں میں ترجمانی کر دی یہی وجہ ہے کہ اس معاملے پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی تقریر نے بالکل وہی آئینہ دکھایا جو کہ قوم ان لوگوں کو دکھانا چاہتی تھی۔گزشتہ روز بھی کوئٹہ میں زرغون روڈ پر دھماکہ ہوا جس میں ایک جج بال بال بچ گئے۔تمام سکیورٹی ادارے باہمی روابط سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے جو کوششیں کر رہے ہیں ان میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے اور اگر قانون میں کہیں خامی ہے تو اس کو بھی دور کیا جانا چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ کرپشن کرنے والوں پر بھی بلا امتیاز مضبوط ہاتھ ڈالا جائے اور ملک دشمن عناصر کے ایجنڈے کو تقویت دینے والے افراد کو پارلیمنٹ میں آنے سے روکا جائے یہی اس ملک و قوم کیلئے بہتر ہو گا۔