- الإعلانات -

جدوجہدآزادی،راج ناتھ اور….!

دنیا بھر کے نامور فنکاروں ، ڈاکٹروں ، ماہرین تعلیم ، مصنفین ، اہل علم ، صحافیوں اور دیگر نمایاں شخصیات کی جانب سے مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے ۔ انھوں نے ایک مشترکہ خط جاری کیا گیا جس میں گذشتہ چند ہفتوں سے کشمیر میں جاری خوفناک مظالم کا تذکرہ کیا گیا ہے اور کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق برطانیہ اور دنیا بھرسے محض 48 گھنٹوں کے اندر اس خط پر نمایاں شخصیات کے ایک ہزار تراسی سے زائد دستخط جمع ہو گئے ہیںا ور یہ سلسلہ مزید تیزی سے جاری ہے۔اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ بھارتی حکمرانوں نے یوں تو گزشتہ 69 برسوں سے پاکستان کے خلاف نہ ختم ہونے والی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا ایسا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کی بابت تقریبا ہر با خبر پاکستانی بخوبی آگاہ ہے ۔ مگر تقریبا ایک ماہ قبل سے نہتے کشمیریوں کے خلاف دہلی کی سفا کانہ روش نے دنیا بھر کے انسان دوست حلقوں کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ دہلی سرکار نے برہان وانی کی شہادت کے بعد تو ریاستی دہشتگردی کا ایسا بازار گرم کیا ہے کہ جس کا تصور بھی کوئی مہذب فرد یا معاشرہ نہیں کر سکتا اور اس سلسلے میں ہر آنے والے دن کے ساتھ شدت پیدا ہوتی جا رہی ہے ۔دوسری طرف سارک کانفرنس کے نام پر بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ پاکستان کو دوستی کے فریب میں مبتلا کرنے کی کوشش کر چکے ہیں ۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل چار نومبر2014 کو بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اسرائیل کے دورے پر گئے تھے۔ اور وہاں انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کی تھی ۔ اور کئی معاہدوں پر دستخط کئے تھے ۔ ان معاہدوں میں سر فہرست دونوں ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مابین پاکستان اور بھارت کے دیگر پڑوسی ممالک کے خلاف انٹیلی جنس اور سیکورٹی کے نام پر نئی حکمت عملی مرتب کی گئی تھی ۔ علاوہ ازیں اسرائیل نے بھارت میں اسلحہ سازی کے مشترک منصوبوں کا بڑے پیمانے پر آغاز کیا تھا ۔واضح رہے کہ اس سے پہلے 28 ستمبر2014 کو نیویارک میں مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان خصوصی ملاقات میں نیتن یاہو نے کہا تھا کہ بھارت کے ساتھ لا محدود اشتراک عمل کیا جائے گا۔ اس ضمن میں انھوں نے یہ الفاظ استعمال کیے تھے The Sky is Limit, In Israeli – Indian Relations ۔ اس کے بعد بھارتی وزیر اعظم اور انڈین نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اجیت ڈووال نے نیتن یاہو سے ایک سے زائد مرتبہ ملاقات کی۔اس کے بعد 1999 میں پاک بھارت مابین کارگل محاذ آرائی کے دنوں میں اسرائیل نے انڈین آرمی کی عملی امداد کی تھی ۔ اس کے بعد 2000 میں اس وقت کے بھارتی وزیر داخلہ لعل کرشن ایڈوانی نے اسرائیل کا دورہ کیا جس کے بعد 2003 میں اسرائیلی وزیر اعظم ایرل شیرون ستمبر 2003 میں دورے پر بھارت آئے ۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ موجودہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج 2006 تا 2009 تک انڈو اسرائیلی پارلیمانی فرینڈ شپ سوسائٹی کی صدر رہیں اور 2008 میں انہوں نے اسی حیثیت سے اسرائیل کا دورہ کیا لہذا جب مئی 2014 میں مودی نے انہیں وزیر خارجہ مقرر کیا تو اسرائیلی حکومت اور میڈیا نے اس کو دونوں ممالک کے مابین تعلقات کے حوالے سے انتہائی نیک شگون قرار دیا تھا ۔ یوں بھی مودی کے جیتنے کے بعد غیر ملکی سربراہوں میں سب سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے انہیں ٹیلی فون پر مبارک باد دی تھی اور توقع ظاہر کی تھی کہ دونوں جانب کی نظریاتی ہم آہنگی کی وجہ سے باہمی تعلقات کو شاندار فروغ حاصل ہو گا ۔2007 سے جون 2014 تک شمون پیرز اسرائیل کے صدر رہے ۔ وہ بھارتی دورے پر گئے تھے اور انھوں نے وزیر اعظم مودی سے طویل مذاکرات کیے تھے ۔یہاں اس امر کا ذکر بھی بے جا نہ ہو گا کہ بھارت اسرائیل سے بہت بڑی پیمانے پپر اسلحے کی خریداری کرتا ہے ۔ علاوہ ازیں یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں کہ 1980 کے عشرے میں ایک بار ایک مرحلے پر اسرائیل اور بھارت نے مشترکہ طور پر پاکستان کے ایٹمی مراکز پر حملہ کرنے کی سازش رچی تھی جو پاکستان کے بروقت انتباہ کی وجہ سے عملی شکل نہ اختیار کر پائی ۔یہ امر بھی توجہ کا حامل ہے کہ پانچ اگست2016 کو بھارتی پارلیمنٹ کے رکن اور ترنمول کانگرس کے اہم رہنما ڈریک او برائن نے پارلیمنٹ میں راج ناتھ کے حالیہ دورہ پاکستان میں اپنائی گئی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنا یا ۔ انھوں نے کہا کہ اس بابت پاکستان پر الزام تراشی کرنے کی بجائے حقیقت پسندانہ پالیسی اپنانی چاہیے اور پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کی بجائے خود دہلی سرکار کی جانب سے ( مقبوضہ ) کشمیر میں جاری ظالمانہ روش کو خیر باد کہنا ہو گا اور اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ دہلی کی حالیہ پالیسیوں کے لئے خود بھارت کی بجائے کوئی اور ذمہ دار نہیں اور اس ضمن میں وہاں جاری انسانی حقوق کی پا مالیوں کو روکنا ہو گا ۔ وگرنہ معاملات اس نہج پر پہنچ سکتے ہیں جہاں اصلاحِ احوال کی گنجائش بھی باقی نہیں بچے گی ۔مودی سرکار اور ان کے پروردہ حسینہ واجد اور افغان حکومت کی جانب سے حالیہ سارک کانفرنس کے پہلے اور بعد جو اشتعال انگیز رویہ اپنا یا گیا ، اس سے بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مودی سرکار پاکستان کی بابت کیا عزائم رکھتی ہے ۔اس ضمن میں یہ امر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ دہلی کا حکمران گروہ ہمیشہ سے پاکستان اور اپنے دیگر ہمسایہ ممالک کے خلاف سازشوں میں مصروف رہا ہے اور مختلف اوقات میں بھارت کے تعلقات اپنے تمام ہمسایہ ممالک بشمول نیپال ، مال دیپ ، سری لنکا ، بھوٹان ، بنگلہ دیش ، چین کے ساتھ انتہائی کشیدہ رہے ہیں اور اس تمام صورتحال کی ذمہ داری خود بھارت کے علاوہ کسی دوسرے پر نہیں ڈالی جا سکتی ۔امید کی جانی چاہیے کہ دہلی کے حکمران اپنی دیرینہ روش کو چھوڑ کر مثبت طرز عمل اپنائیں گے تا کہ جنوبی ایشیا خصوصا مقبوضہ کشمیر کے تنازعے کو اقوام متحدہ کی قرارداداوں کے مطابق حل کیا جا سکے ۔