- الإعلانات -

پاکستان کی بقاءکی ضمانت

 14 اگست پاکستان کی آزادی کا دن ہے اس دن اور اس ماہ کی مناسبت سے پاکستانی قوم اےک جزباتی لگاﺅ رکھتی ہے ہم ا س ماہ مےں آزادی کی خوشےاں مناتے ہےں گھرون پر پرچم لہرا کر اےک آزاد ملک کے شہری ہونے پر فخر کرتے ہےں لےکن حالےہ واقعات کو اگر دےکھا جائے تو ےہ بات زہن مےں آتی ہے کہ اگر ہم نے اس ملک کے حالات کو بدلنا ہے تو پھر خود کو بدلنا ہو گا اس ملک مےں حقےقی تبدےلی لانے کے لئے ہر سےاست کو ہر نظرےہ کو ہر زاوےے کو صرف پاکستان کی بقاءاور ا سکی ترقی مےں بدلنا ہو گا آج ملک دہشت گردی کا شکار ہے اور ےہ اےک اےسی آگ ہے جو ہم نے خود ہی اپنے گھر مےں لگائی ہے سانحہ کوئٹہ جس مےں کئی قےمتی جانےں ضائع ہوئی جس کا ہر پاکستانی کو دکھ اور افسوس ہے اس مےں ضائع ہونےوالی جانےں بچائی جا سکتی تھےں اگر ہمارے سےاست دان دہشت گردوں کے خلاف بنائے جانے والے نیشنل ایکشن پلان کو اپنی مرضی کے مطابق نہ چلانے کی کوشش کرتے اسی نیشنل ایکشن پلان کو وہ اس کی روح کے مطابق جاری رہنے دےتے تو شاےد ےہ وباءاگر ختم نہ ہو گئی ہوتی تو آخری سانسےں ضرور لے رہی ہوتی نیشنل ایکشن پلان میں پاکستان میں عسکریت پسندی کو قطعی برداشت نہ کرنے کا جو عندیہ دیا گیا تھااگر وہ پورا ہوتا تو آج کے حالات مختلف ہوتے ۔سوائے فوجی عدالتوں کے قیام کے نیشنل ایکشن پلان کی باقی 18 دفعات محض وعدوں کی حیثیت مےں باقی ہیں اور کسی ایک پر بھی صحیح طریقے سے عمل نہیں ہو سکا۔ اور اب نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ اندرونی سلامتی کی بحث میں نیشنل ایکشن پلان نظرانداز ہونا شروع ہوگیا ہے پاکستان کی فوج نے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں حاصل کی ہیںاور انھےں کی بدولت پاکستان کے اندر بھی دہشت گردی کے معاون نیٹ ورک ختم کےے جا رہے ہےں ملک بھر مےں میں عسکریت پسندی کے خلاف ایک منظم حکمت عملی کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس حکمت عملی کا قبلہ درست نہ ہو اور اسے باہمی ادارہ جاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر نہ رکھا جائے ۔سانحہ کوئٹہ پر پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے خفیہ ایجنسیوں اور سکیورٹی ایجنسیوں کے بارے میں جو لب و لہجہ اختیار کیا اس کا کوئی جواز نہ تھا ارکان اسمبلی کو اس طرح حکومتی اداروں یا ایک دوسرے پر سطحی الزامات عائد کرنے سے گریز کرنا چاہےے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ہر دہشتگرد حملے کے بعد را کے ملوث ہونے کا شور نہیں مچانا چاہیے را پر الزام عائد کرنے سے کام نہیں چلے گا انہوں نے الزام لگایا کہ ملک دشمن عناصر ہماری ایجنسیوں کے پے رول پر ہیں یہ ہمارے انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی ہے ہماری ایجنسیاں گدلے پانی سے سوئی ڈھونڈ سکتی ہیں تو دہشتگردوں کی تلاش میں کیوں ناکام رہیں۔ان کا ےہ بےان پوری قوم کے دل آزاری ہے کےونکہ ساری قوم جانتی ہے کہ اگر آج پاکستان کی مخافظ ےہ اےجنسےاں نہ ہوتی تو اس کے دشمن اسے کب کا ختم کر چکے ہوتے ےہ بات محمود خان اچکزئی کو ذہن نشےن کر لےنی چاہےے کہ آج تک ملک کی خاطر قربانےاں صرف ہماری مسلح افواج نے دی ہےں کسی سےاست دان کو ےہ اعزاز نہےں مل سکا کہ وہ ملک کی خاطر اپنی جان دےں ہاں البتہ اقتدار کی خاطر کئی سےاست دان بھانسی گھاٹ تک ضرور پہنچے ہےںاور بہے سے تو اےسے بھی نکلے ہےں جنھوں نے اس ملک کا سودا کرنے کی تےارےاں بھی کر لی تھےں انھےں اےجنسےوں کی بدولت وہ لوگ اےسکپوزبھی ہوئے اور ذلےل و خوار بھی پاکستان کی ایجنسیاں محدود وسائل میں بہترین کام کررہی ہیںمحمود خان اچکزئی ان درجنوں واقعات کا علم نہیں رکھتے جنہیں ان ایجنسےوں نے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ناکام بنایا ہے ملک میں متعدد ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں را کے ایجنٹ پکڑے گئے ہیں اور کسی اور ملک کی اےجنسی نے نہےں بلکہ ہماری ہی اےجنسےوں نے پکڑے ہےں جس کی سب سے بڑی اور تازہ ترین مثال کل بھوشن یادیو کی گرفتاری ہے جس نے سی پیک منصوبوں کو سبوتاژکرنے اور بلوچستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے عزائم واضح کئے ہیں یہی نہیں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سمیت متعدد حکام نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں پر تشویش ظاہر کی ہے اس لئے جب ”را” کی بات ہوتی ہے تو یونہی نہیں ہوتی ٹھوس ثبوت کے ساتھ کی جاتی ہے کوئٹہ سانحہ کو ہرگز خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی نہیں قرار دیا جا سکتا ہماری خفیہ ایجنسیوں کی پیشہ وارانہ صلاحیت عالمی طور پر تسلیم کی جاتی ہےں ان کا یہ الزام بہت سے پاکستان دشمنوں کیلئے مفید ثابت ہو سکتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر ہماری ایجنسیوں کے پے رول پر ہیں۔براہ راست دہشت گردی میں ملوث گروپوں کے خلاف پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انٹیلی جنس کی بنیاد پر مشترکہ آپریشن ضروری ہیں اور یہ آپریشن وقتاً فوقتاً ہوتے بھی رہتے ہیں۔ اگر یہ آپریشن موثر ثابت نہیں ہو رہے تو اداروں کے درمیان باہمی تعاون اور اعتماد جیسے مسائل کو پہلے حل کرنا پڑے گالےکن کوئٹہ جےسے واقعات کے بعد ملک کی نامور اےجنسےوں پر لگائے جانے والے الزمات نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ ہماری مسلح افواج کا مورال ڈاﺅن کرنے کی اےک گھنونی سازش ہے جس کی پوری قوم مذمت کرتی ہے کےونکہ ساری قوم جانتی ہے کہ پاکستان کی بقاءکی ضمانت ہماری مسلح افواج اور ان کے زےر کمان ےہ نامور خفےہ اےجنسےاں ہی ہےں کسی سےاست دان کو ےہ ہر گز زےب نہےں دےتا کہ جس ملک نے اسے عزت ،مرتبہ اور عہدہ دےا ہو وہ اسی کی مسلح افواج ےا ان کی خفےہ اےجنسےوں کے بارے مےں اےسی بات کرئے اگر وہ اےسا کہتا ہے تو وہ کھبی بھی مخلص نہےں ہے ۔