- الإعلانات -

الیکٹرانک میڈیا پر بے ہو دہ فلمیں اوراشتہارات

میرے ایک دوست کاکہنا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا پر بھارت کی بے ہو دہ فلمیں ، اشتہارات دکھاتے ہیں وہ تو ایک علیحدہ بات ہے مگر بد قسمتی سے آج کل ہماری پاکستانی الیکٹرانک میڈیا جو کچھ دکھاتے ہیں وہ تو بھارت اور غیر مذہب ریاست سے بھی زیادہ بد تر اور انتہائی شرم ناک ہے۔ بے ہو دہ ڈرامے، فلمیں، بے شرم فیشن شوتو ہمارے پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کا ایک روٹین ہے مگر آج کل زیادہ تر پاکستانی چینلز سے خاندانی منصوبہ بندی کے لئے جو اشتہار دکھاتے ہیں میرے خیال کوئی بھی بہن بھائی، باپ بیٹا اور کوئی بھی سنجیدہ ، ذی شعور اور مشرقی اور اسلامی سے تھوڑے سے مانوس والدین خاندانی منصوبہ بندی کے اس اشتہار کو نہیں دیکھ سکتے۔ اگر ہم ٹی چینلز پر اُردو اور با لخصوص پشتو اور پنجابی فلموں کی بات کریں تو اس قسم کی فلمیں دکھا کر عُریانیت اور فحا شی کو مزید پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ اگر الیکٹرانک میڈیا والوں نے پیسے کمانے تھے تو اس کے اور بھی بُہت سارے طریقے تھے مگر کم از کم اس قسم کے اشتہار اور فلموںکو تو الیکٹرانک میڈیا پر نہ دکھائیں، تاکہ کرنٹ آفیر والے چینلز پر فیملی ممبر آپس میں بیٹھ کر کم از کم حالات حا ضرہ کے پرو گرام تو اکٹھادیکھ سکیں۔خدارا الیکٹرانک میڈیا کو تو کچھ اللہ کا خوف کرنا چاہئے اور ایسے اشتہارات ڈرامے اور پرو گرام نہیں دکھا نا چاہئے جس سے عام لوگ اور با لخصوص جوان بے راہ روی کا شکار ہو۔ گذشتہ دن میں پنڈی سے اسلام آباد جا رہا تھا۔ میرے ساتھ 15یا 16 سال کا ایک بچہ بیٹھا ہوا تھا۔ بچے نے مو بائیل کو ہا تھ میں پکڑا ہوا تھا۔ نیو کٹا ریاں سے ایچ نائن تک بچے نے مو بائیل فون سے سر اوپر نہیں اُٹھایا۔ اورسارے سفر میں موبائیل کے ساتھ مسلسل مشغول و مصروف رہا۔ فی زمانہ یہ مسئلہ صرف اس ایک بچے کے ساتھ نہیں بلکہ مسئلہ خواہ جوان ہے یا در میانہ عمر کا سب کے ساتھ ہے ۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے ٹین ایجرز نے موبائیل، انٹر نیٹ اور کیبل کو اتنا سر پہ سوار کیا ، کہ اُنکو ان چیزوں کے علاوہ اور چیزوں کی فُر صت نہیں۔ اگر ہم اپنی معا شرتی اور سماجی نظام اقدار کو دیکھیں تو مشرقی روایات اور اخلاقی اقدار کے مطابق عام طور پر دو الفاظ استعمال ہو تے ہیں تعلیم اور تربیت۔ آج کل کے بچے کسی نہ کسی صورت رٹھااور نقل کر کے ٹوٹی پوٹی تعلیم تو حا صل کر لیتے ہیں مگر بد قسمتی سے تربیت کا سلسلہ ایسا کے ویسا رہ جاتا ہے جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل انسانیت اور بشر یت سے دور ہو تی جا رہی ہے۔ بچے کے پاس انٹر نیٹ، کیبل، موبائیل اور کر کٹ سے فُرصت ہو تو وہ اچھی اور مُثبت باتیں سُننے کے لئے تیار ہو گا ۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ بچوں کے پاس اس لغویات کی وجہ سے دوسری اچھی باتیں سُننے کے لئے وقت نہیں۔ اور بد قسمتی سے نہ تو والدین اور نہ اساتذہ کرام اور بزر گوں میں وہ صلا حیت رہی کہ وہ اپنے بچوں کی مناسب طریقے سے تربیت کر لیں، نتیجتاً ہمارے نسل کے مشاہیر اور ہیرو ہمارے صحابہ کرام ، بُزرگان دین اوراولیائے کرامؒ کے بجائے شا ہ رُخ خان سلمان خان ، رینا رائے، مائیکل جیکسن اور ایشو ریا رائے ہیں۔ مُجھے اچھی طر ح یاد ہے کہ ماضی میں اسا تذہ کرام تعلیمی اور تربیت کے لحا ظ سے اتنے مکمل ہوتے کہ وہ اپنے شا گر دوں کی نہ اچھے طریقے سے تعلیم پایہ تکمیل تک پہنچاتے بلکہ اُنکی تربیت بھی احسن طریقے سے کر تے، مگر بد قسمتی سے آج کل کے اساتذہ کرام تو اکیڈمک اور نہ تر بیت کے لحا ظ سے اتنے کمپیٹنت ہے کہ وہ اپنے شا گر دوں کی منا سب طریقے سے تعلیم اور تربیت کی ذمہ داری پو ری کر سکیں۔اسمیں کوئی شک نہیں کہ موبائیل فون، کیبل اور انٹر نیٹ اکسویں صدی کی سب سے اچھی اور فائدہ مندایجادات ہیں اور اس سے اچھے طریقے سے استفادہ کیا جا سکتا ہے، مگر بد قسمتی سے ہر قسم کی ا نفار میشن تک رسائی ہر بچے اور جوان کا حق نہیں ہو تا ۔ ہا ں عمر کی اُس حدپر جہاں اُسکی ضرورت محسوس ہو تو اسکو ضروراُس انفا رمیشن اور اطلا عات تک رسائی ہونی چایئے، مگرPremature یعنی وقت سے پہلے کچھ انفار میشن اور اطلاعات انتہائی خطر ناک اور مہلک ثابت ہو سکتی ہیں۔ مُجھے ڈر ہے اگر بچے اور جوان مو بائیل ، انٹر نیٹ اور کیبل میں اس طر ح دلچسپی لیتے رہیں گے تو ایک وقت ایسا آئے گا جب ہم صرف نام کے مسلمان رہیں گے۔ نہ تو ہمیں اپنے مذہب کے بارے میں پتہ ہو گا اور نہ اپنے مشاہیر کے بارے میں ، جسکا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ اخلاقی اور اسلامی قدریں جو ہمیں دوسری قوموں سے ممتاز کر تی ہیں ہم میں ختم ہو جائیں گی اور ہمارا معا شرہ بھی اہل مغرب کی طر ح شُتر بے مہار کی صورت اختیار کر لے گا۔ جہاں پر گھروں میںوالدین کی مو جو دگی میں بچوں کے ساتھ گرل اور بوائے فرینڈز آتے ہیں اور والدین اپنے جذبات اور احساسات کو دبا کر کھونگے کی طرح یہ ڈرامے دیکھتے رہتے ہیں۔امریکہ کے ایک سکالر کہتے ہیں کہ امریکہ کی نوجوان نسل کو تین چیزوں نے خراب کیا موبائیل فون ، میڈیا اور سگریٹ۔ روس کے ایک مشہور سکالر نیارن جس نے روس کی ٹوٹنے کی اور اب امریکہ کے ٹوٹنے کی پیشن گوئی دی تھی کہتے ہیں کہ امریکہ کے زوال کے دو بڑے اسباب ہونگے نمبر اول امریکہ میں اخلاقی قدروں کا جنازہ اُٹھنا اور دوئم امریکہ کی معاشی بد حالی ۔بر طا نیہ کے ایک یہودی پر و فیسر ناتھن ابراہم اپنی کتاب jewish Superemism میں کہتے ہیں یہودی فحا شی اور عریانی کی صنعت کو مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر تے ہیں۔ اور اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں بھی مغربی ممالک ٹیلی کام انڈسٹر ی اور میڈیا کے شعبوں میں سر مایہ کاری تو کرتے ہیں مگر اُن ُ شعبوں مثلاً زراعت، توانائی، سائنس اور ٹیکنالوجی کی طر ف نہیں آتے جس سے وطن عزیز میں حقیقی ترقی آسکے ۔ میں والدین سے استد عا کرتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کی مناسب طریقے سے نگرانی کریں اور حکومت سے بھی یہ استد عا کر تا ہوں کہ وہ وطن عزیز میڈیا چینلز ، انٹر نیٹ اور کیبل کی طر ف اتنی تو جہ نہ دیں بلکہ اُن شعبوں کی طر ف توجہ دیں جس سے واقعی حقیقی ترقی اور خو شحالی آسکتی ہو۔اگر دیکھا جائے تو موبائیل فون کے مالی نُقصانات کے علاوہ طبی نُقطہ نظر سے بُہت زیادہ نُقصانات بھی ہیں۔کنگ سعو د یو نیو ر سٹی کے کالج آف فزیالوجی اور میڈیسن ریاض کے ایک تحقیقی مقالے میں لکھتے ہیں کہ جو لوگ موبائیل فون استعمال کر تے ہیںان میں22 فی صد کو سر درد6 فی صد کو گرنے اور ڈگمگانے کی ، 5فی صد لوگوں کو تھکا وٹ اور5 فی صد لوگوں کو ٹینشن اور ڈیپریشن کی بیماری ہوگی۔یو نیور سٹی آف واشنگٹن کے پرو فیسر ہنری لائی اور این پی سنگھ نے دس سالہ تحقیق کی اور اسی تحقیق کی رو سے پتہ چلا کہ موبائیل کی تابکا ری سے ڈی این اے انتہائی خراب ہوتی ہے جو لا علاج بھی ہے۔بلیک ویل کے ایک اور ریسر چ میں کہتے ہیں کہ جو لوگ 30منٹ تک موبائیل فون استعمال کر تے ہیں تو بر قی مقناطیسی لہریں دماغی کا ر کر دگی میں انتہائی تبدیلی لاتی ہے۔اگر دیکھا جائے تو مو جودہ دور میں حکمران وقت ، والدین اور اسا تذہ کرام پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں اور خا ص طو ر پر نئی نسل کو اس مہلک چیزوں سے بچائیں۔ سورة التحریم میں ارشاد خداوندی ہے اے ایمان والو تم اپنے آپکو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاﺅ ۔ شرم اور حیا کسی بھی انسان کا زیور ہے اور جس قوم میں شرم حیا ختم ہو جاتی ہے وہ قوم تباہ اور برباد ہو جاتی ہے۔حضرت عثمان بن مظمون فرما تے کہ میں پہلے رسولﷺ کی شرم و حیا سے اسلام لایا تھا ۔ با قی موت بر حق ہے ہمیں فضول مشاغل کو چھوڑ کر انکی تیاری کرنی چاہئے ۔حضور ﷺ سے کسی صحابی نے دریافت کیا کہ سب سے زیادہ عقل مند اور سب سے زیادہ مختاط کون ہے؟فرمایا سب سے زیادہ مختاط وہ ہے جو موت کےلئے تیاری کرے کیونکہ اسکے لئے دنیا اور آخرت دونوں شراکت ہے۔
بقول اقبال
کبھی اے نو جوان تدبر کیا تونے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
کچل ڈالاتھا جس نے پاﺅں میں تاج سر دارا
عرض کیا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشین کیا تھے
جہاں گیر و جہاں دارد جہانباں و جہاں آرا
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو مارا
مگر وہ علم کے موتی ، کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں انکو یو رپ میں تو دل ہوتا ہے پارا