- الإعلانات -

نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیلئے ٹاسک فورس کا قیام

سانحہ کوئٹہ نے ایک بار پھر سیاسی و عسکری قیادت کو سر جوڑنے پر مجبور کردیا ۔ وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت طویل اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان کیلئے مانیٹرنگ ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس فورس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نمائندے شامل ہونگے ۔ اجلاس میں فوجی عدالتوں میں توسیع کیلئے سیاسی اتفاق رائے اور وزرائے اعلیٰ سے مشاورت کا فیصلہ بھی کیا گیا کاش سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے بعد نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا جاتا تو آج صورتحال اس طرح گھمبیر نہ ہوتی لیکن ہمارے سیاسی ناخداﺅں کی تساہل پسندی اور روایتی سرد مہری کا یہ نتیجہ ہے کہ وطن عزیز اس وقت دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور پاک سرزمین میں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے اور فضا سوگوار ہے اور یہ چاند اور پھول جیسا وطن انگارے برسانے کی منظر کشی کررہا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر کماحقہ عملدرآمد نہ ہونا حکومتی سست روی ہے ۔ عسکری قیادت نے تو دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے میں کوئی کسر اٹھا باقی نہ چھوڑی جنرل راحیل شریف کی بے باک قائدانہ صلاحیتوں کے نتیجہ میں عالمی سطح پر بھی پاک فوج کے کردار کو سراہا جارہا ہے اور داد بیداد دی جارہی ہے لیکن تشنہ تکمیل پہلو یہ ہے کہ اس ضمن میں پاکستان کی مدد نہیں کی جارہی پاکستان دہشت گردی کے خلاف جو جنگ اس وقت لڑ رہا ہے وہ فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے اور یہ امید کی جارہی ہے کہ اس جنگ کے مطلوبہ اہداف بہت جلد پورے ہوتے دکھائی دیں گے ۔ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنائے تاکہ آپریشن ضرب عضب کے مقاصد پورے ہوسکیں اس کیلئے نیشنل ایکشن پلان ہی وہ ذریعہ ہے جس پر عمل کرکے ملک کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے ”را“ کے ذریعے دہشت گردی بھی کروائی جارہی ہے اور اندرونی سیاسی حالات بھی کشیدگی کی طرف جارہے ہیں ۔ حکومت تمام معاملات میں سیاسی اتفاق رائے پیدا کرے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ آسانی سے کیا جاسکے۔ ہمارے ہاں قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد اور ان کی پاسداری کا فقدان ہے جس سے عدل و انصاف دیکھنے میں نہیں آتا اور سماجی نا انصافی عملاً دکھائی دیتی ہے قانون سے بالاتر کوئی نہیں اس کا اطلاق اعلیٰ و ادنیٰ پر ہوتا ہے لیکن یہ امر توجہ طلب اور مضحکہ خیز ہے کہ ادنیٰ معمولی سی قانون شکنی کی گرفت میں آجاتا ہے اور اعلیٰ آئین توڑنے پر قانونی گرفت میں نہیں آتا یہ تضاد اور تفریق ایک سوالیہ نشان ہے۔ قانون شکن جو بھی ہو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے پاک فوج ، انٹیلی جنس ادارے دہشت گردی کے خلاف دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اور ان کی قربانیوں کے عوض امن قائم ہوتا دکھائی دے رہا ہے ان اداروں پر تنقید اور حرف گیری کسی بھی لحاظ سے درست نہیں بلکہ قابل سزا قرار پاتی ہے ۔ چنانچہ ایسی زبان استعمال کرنے سے گریز کیا جائے جو کسی کی دل آزاری کا باعث بنے۔ فوج تو اپنا کام دیانتداری سے کررہی ہے اور اس کی فرض شناسی لائق تحسین ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے بجا فرمایا ہے کہ فوج تو اپنا کام کررہی ہے حکومت نے عمل نہیں کیا یہ بات بے کم و کاست ہے حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتی تو آج نیشنل ایکشن پلان کی مانیٹرنگ کیلئے ٹاسک فورس قائم کرنے کی نوبت نہ آتی ہمارا استدال یہ ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جو اقدامات کیے ہیں ان پر فوری عمل درآمد کیا جائے اور نیشنل ایکشن پلان پر تیزی سے عمل کرکے اس کے مطلوبہ اہداف پورے کیے جائیں ۔ سیاسی و عسکری قیادت کا دہشت گردی کے خلاف پرعزم ہونا اس امر کا عکاس ہے کہ پاک سرزمین سے دہشت گردی کا ناسور ختم ہوکر رہے گا۔ ملک میں امن اور سکون کی بحالی حکومت اور اس کے تمام ریاستی اداروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے ۔ حکومت اپنے فرض کو نبھاتے ہوئے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ممکنہ ضروری وسائل فراہم کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرے۔
عدالت عظمیٰ کے ریمارکس حکومت کیلئے لمحہ فکریہ
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انورظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم 5 رکنی لارجر بنچ نے کراچی بدامنی کیس کے دوران کوئٹہ سانحہ پر افسوس اور اظہار برہمی کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ سیکورٹی اقدامات کاغذوں پر نہیں عملاً کیے جائیں نجی گارز میںایجنٹ بھرتی ہوسکتے ہیں ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں نئے سانحہ کا انتظار نہ کریں فوری اقدامات کیے جائیں ۔ پرائیویٹ سیکورٹی گارڈز کی اسکریننگ کی جائے ۔ عدالت عظمیٰ کے ریمارکس حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔ چیف جسٹس نے بجا فرمایا حکومت کسی نئے سانحہ کا انتظار کرنے کی بجائے موثر اقدامات کرے یہ حکومت کا فرض پاتا ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے اور امن قائم کرے ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ جب کوئی واقعہ رونما ہو جاتا ہے تو اس پر آنسو بہائے جاتے ہیں اور اقدامات کیے جاتے ہی اداروں کو اپنی ذمہ داری بطریق احسن نبھانا ہوگی تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جاسکے ۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے ان پر حکومت کو سنجیدگی سے غوروفکر کرنی چاہیے اور اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا چاہیے۔ ایک کامیاب حکومت وہ ہوتی ہے جس میں امن و امان قائم ہو لوگوں کے جان و مال کا تحفظ ہو ،بیروزگاری اور مہنگائی نہ ہو اور استحکام ہو حکومت کو جملہ مسائل کے حل کیلئے اپنی توانائیاں بروئے کار لانی چاہیے اور اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا چاہیے جمہوریت میں عوام یہ حق رکھتے ہیں کہ وہ حکومت سے پوچھ سکیں۔
سائبر کرائمز بل کی منظوری
قومی اسمبلی نے سائبر کرائمز بل کی منظوری دے دی ہے اس بل کے نمایاں خدوخال کا طائرانہ جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس بل کے تناظر میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے ، مذہبی منافرت پھیلانے ، بچوں سے غیر اخلاقی سلوک کرنے اور ویڈیو شیئر کرنے پر 14 سال قید اور 5 کروڑ تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔ اپوزیشن نے اس بل پر اپنے تحفظات ظاہر کیے اور احتجاج بھی کیا لیکن بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ۔ سائبر کرائمز بل پر دیانتداری سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ بل تو بنا دئیے جاتے ہیں لیکن ان کی زد میں عموماً غریب لوگ آتے ہیں امیر کہیں نہ کہیں سے اپنے لئے تحفظ کا راستہ نکال لیتے ہیں قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنا کر ہی داد رسی کے تقاضے پورے کیے جاسکتے ہیں۔ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اس کی نظر میں سب برابر ہونے چاہئیں