- الإعلانات -

محمود خان اچکزئی کا بیان عقل سے بعید ہے

کوئٹہ خود کش حملے میں کل 90 افراد شہید ہوئے جس میں 50 وکیل حضرات بھی شامل تھے ۔ اس واقعے میں 110 کے قریب لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔حسب سابق اس بار بھی جنرل راحیل شریف سب سے پہلے مو قع پر پہنچ گئے ۔ جنرل راحیل شریف نے ایک بیان میں کہا کہ کوئٹہ دہشت گردی کے اس واقعے بھارت کی خفیہ ایجنسی "را "شامل اوراس قسم کے کاروائی کا مقصد عوام کے جذبوں کو پست کرنا اور” سی پیک "کے منصوبے کو ناکام بنانا ہے۔ جہاں تک وزیر اعظم نواز شریف کی بات ہے تو نواز شریف بھی مو قع پر پہنچ گئے تھے۔ مگر انہوں نے دبے الفا ظ بھی بھارت اور” را” پر تنقید نہیں کی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی "را "نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور پاک چین اقتصادی کو ریڈور کو ناکام کرنے کے لئے فنڈ بھی مختص کیا ہوا ہے اور بھارت کی خفیہ ایجنسی کی کو شش ہے کہ اس منصوبے کو ناکام بنا دیا جائے۔ ایک مشہو ر اخبا ر” ڈیلی میل” کا کہنا ہے کہ بھارت کی اندرا گاندھی نے جو نہی بھارت کی وزیر اعظم کا عہدہ سنبھا لا تو ا نہوں نے بھارت کی خفیہ ایجنسی کو یہ ذمہ داری دی کہ وہ کوئی ایسا منصوبہ بنائیں تاکہ پاکستان دنیا کے نقشے سے مٹا یا جاسکے۔ جس نے یہ منصوبہ بندی کی تھی اُنکا نام” رامیش ور ناتھ کاﺅ” تھااور اس منصوبے کو اُسی کے نام” کاﺅ” سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک چلائی جائے گی ۔ اور انکو ایک خود مختار ریاست بنایا جائے گا اور بد قسمتی سے” را "کے قیام کے 30 مہینے بعد 1971 میں مشرقی پاکستان پاکستان سے علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ "کاﺅ "منصوبے کے تحت بلوچستان کو اور خیبر پختون خوا کو ایک علیحدہ خو د مختار ریاست بنانے کی منصوبہ بندی ہے ۔ فی الو قت بلو چستان ، فا ٹا اور ملک کے دوسرے حصوں میں جو افرا تفری اور غیر یقینی صورت حال ہے ، ان میں بھارت ، امریکہ، اسرائیل اور پاکستانی قادیانی ملو ث ہیں۔”کاﺅ منصوبے "کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ رامیش ور ناتھ کاﺅ نے اس منصوبے کو بنا یا ۔” اندرا گاندھی نے منظور کیا”،” مرار جی ڈیسائی نے اس کو اگنو ر کیا” ، "راجیو گا ندھی نے اسکو ریفیوز کیا” اور سونیا گاندھی نے اسکو شروع کرنے کا حکم دیا۔ ریسر چ میں کہا گیا ہے کہ 9/11 کے بعد بھارت کی خفیہ ایجنسی” را "اور امریکی "سی آئی اے” کے درمیان روابط بڑھ گئے۔ اور اس طر ح بھارت اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے بلو چستان کو پاکستان سے جدا کرنے کے لئے منفی کا روائیاں شروع کیں اور ابھی بلو چستان، فا ٹا اور پاکستان کے دوسرے حصوں میں جو کچھ تخریبی کا روا ئیاں ہو رہی ہیں اُس میں دوسرے عوامل کے علاوہ امریکہ کی” سی آئی اے”، بھارت کی "را "اور اسرائیل کی "مو ساد "، وطن عزیز کے کچھ شر پسند عنا صر اور قادیانی افسروں کا ہاتھ ہے۔ کیونکہ قادیانی بھی کسی صو ر ت بھارت کی "را”، امریکہ کی” سی آئی” اے اور اسرائیل کی” مو ساد” سے کم نہیں۔بلو چستان کی علیحدگی کے لئے کا ﺅ منصوبہ 2004-5 میں شروع ہو ا اور پو رے صوبے میں تخریبی کا روائیوں نے کا فی زور پکڑا ہے۔”دی میل "کا کہنا ہے کہ امریکہ کی کا نگرس نے حال ہی میں بلو چستان کے لوگوں کے حق خود ارادیت کی مدد کا اعلان کیا ہے۔ علاوہ ازیں بلو چستان، کراچی اور قبائلی علاقہ جات میں” بلیک واٹر” پاکستان کو غیر مستحکم کر نے لگی ہوئی ہیں۔ایک صحافی وائن میڈسن Wayne Madsenجنہوں نے فو کس ٹی وی، اے بی سی، این بی سی، سی بی ایس،پی بی ایس، سی این این ، بی بی سی الجزیرہ، ایم ایس این بی سی اور دوسرے کئی چینلوں پر کام کیا ہے ،انکا کہنا ہے کہ میں اس بات کی تہہ تک پہنچا ہوں کہ پاکستان اور بلو چستان میں بلیک وا ٹر دہشت گر دی کے حملوں میں ملو ث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلیک واٹر پاکستان کے کراچی، پشاور،اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں تخریبی کا روائیوں میں لگی ہوئی ہیں۔ اور یہ تمام تخریبی کا روائیاں امریکہ سی آئی اے کی ایما پر ہو رہی ہے ۔وائن میڈسن کا کہنا ہے کہ ما ضی قریب میں کوئٹہ میں جو 54 شیعہ لوگ مارے گئے تھے ان حملے کی ذمہ داری طالبان پر ڈال دی گئی ہے ، جبکہ حقیقت میں یہ کا روائی بلیک واٹر نے سی آئی اے، اسرائیلی مو ساد اور بھارت کی را کی مدد سے کی ہے۔ اس جرنلسٹ کے مطابق را، مو ساد اور سی آئی اے بلو چستان لبریشن آرمی،بلوچ ری پبلیکن آرمی اور بلو چستان لبریشن فرنٹ کی مدد کر رہی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے جس طرح پاکستان نے1965 میں بھارت کی فوج کو عوام کی مدد شکست دی تھی اب انشاءللہ پاکستان عوام کے مصمم جذبے کی وجہ سے ہم را اور دوسرے ملک دشمن ایجنسیوں کے اس عزائم کو ناکام بنا دیں گے۔ اگر پاکستان کے عوام اکٹھی ہوں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم بھارت ، اسرائیل یا امریکہ سے ما ر کھائیں۔کیونکہ فوج اُس وقت منظم اور اچھے طریقے سے لڑ سکتی ہے جب مسلح افواج کو عوام کی تائید اور حمایت اور تا ئید حاصل ہو۔ میںما ضی کی فو جی قیادت کی بات نہیں کرتا مگر مسلح افواج کی موجودہ قیادت جنرل راحیل شریف کی قیادت میں اب تک جتنے ایکشن کئے پاکستان کی 19کروڑ کی عوام کی تائید اور حمایت اسکو حا صل ہے۔ میں اس کالم کی تو سط سے سیاست دانوں کو بھی استد عا کرتا ہوں کہ وہ وطن عزیز میں امن وآمان کی خاطر مسلح افواج کا ساتھ دیں ۔ اور چیف آف دی آرمی سٹاف راحیل شریف سے بھی استد عا ہے کہ وہ بلا امتیاز جہاں بھی دہشت گردی کے آثار نظر آئیں ضرب عضب کی طرح اپریشن شروع کردیں ۔علاوہ ازیں نیشنل ایکشن پلان من و عن نا فذ کرنا چاہئے۔ جہاں تک محمود خان اچکزئی نے مسلح افواج اور خفیہ ایجنسیوں پر کڑی تنقید کی تو محمود خان اچکزئی کو را کی ڈیفنس کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے کیونکہ بلو چستان کے گو رنر اُنکے بھائی اور وزیر اعلی اُنکے شریک اتحادی ہے اور میرے خیال میں اچکزئی صا حب کا پورا خاندان کسی نہ کسی حکومت میںہے تو ہسپتال کی سیکورٹی اچکزئی صاحب کی ڈیوٹی بنتی تھی ۔ اگر وہ اچھے طریقے سے ہسپتال کو یا سیکیورٹی کا نظام بہتر بناتا تو ہو سکتا ہے کہ یہ بد قسمت واقع رونما نہ ہوتا۔