- الإعلانات -

صدر مملکت کا مرکزی جشن آزادی کی تقریب سے خطاب

صدر ممنون حسین نے جشن آزادی کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے، دیدہ اورنادیدہ دشمنوں کو بھاگنے نہیں دیا جائے گا، شہدا کے خون کا پورا حساب لیا جائے گا، پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کی عالمی سطح پر حمایت جاری رکھے گا۔ اس تقریب میںوزیراعظم نواز شریف، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ایئر چیف اور نیول چیف، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور ملک کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی ۔ صدر ممنون حسین نے پوری قوم کو آزادی کی مبارکباد دی۔ صدر مملکت نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب آخری مراحل میں ہے۔ یقین ہے کہ آخری کاری ضرب لگا کردہشت گردوں کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کردیں گے۔مسلح افواج اورقانون نافذ کرنے والے اداروں نے جان پر کھیل کر ملک کا دفاع کیا ہے۔ دشمن کی چال کو سمجھتے ہوئے ٹھنڈے دل سے کام لیا جائے اوراختلافات کو ہوا دینے سے گریز کیا جائے۔ہمیں یوم آزادی پر کشمیری بھائیوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کےمطابق چاہتا ہے۔ کشمیری بھائیوں کی اخلاقی سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔ ملک کی ترقی اور استحکام کا راز جمہوریت میں پوشیدہ ہے۔ اقتصادی استحکام اور بدامنی کے خاتمے کیلئے قومی ایجنڈے پر کام کرناہوگا۔ قومی زندگی میں ہر سطح پر قانون کی حکمرانی یقینی بنایا جائے۔ سانحہ کوئٹہ کے غمزدہ خاندان اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھیں۔ سانحہ پر ہمارے دل دکھی ہیں۔ کوئٹہ کے شہدا کا خون ہم پر قرض ہے۔ شہدا کے خون کا پورا حساب لیا جائے گا۔ صدر مملکت نے بجا فرمایا مسائل کے ادراک کیلئے جدوجد آزادی جیسے جذبے کی ضرورت ہے اگر ملک میں قانون کی حکمرانی قائم ہو جائے تو عدل و انصاف کا بول بالا بھی دکھائی دے گا ۔ قوم تو چاہتی ہے کہ ملک میں قانون کی بالادستی ہو آج ملک کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے ان کا مقابلہ کرنے کیلئے سیاسی ہم آہنگی اور استحکام کی ضرورت ہے اور سیاسی مکالمے سے ہی مسائل اور الجھے معاملات حل ہوا کرتے ہیں لیکن جب تک سیاسی تدبر اور بصیرت سے کام نہ لیا جائے اس وقت تک سیاسی استحکام قائم نہیں ہوسکتا۔ صدر نے جشن آزادی پر جو خطاب کیا ہے وہ قومی امنگوں کا ترجمان ہے لیکن آج پاکستان کا 69 واں یوم آزادی ہم سے یہ تقاضا کررہا ہے کہ اس ملک کو جس نظریہ کے تناظر میں بنایا اس کی پاسداری کی جائے اس کو اسلامی اصولوں کے سانچے میں ڈھالا جائے اور اسے اسلامی فلاحی ریاست بنایا جائے ۔ آج قائد اور علامہ اقبال اور شہداءتحریک پاکستان کی روحیں تڑپ تڑپ کا ہم سے یہ سوال کررہی ہیں ۔ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے ہم نے کیا کیا؟ آج پاکستان میں دہشت گردی ، بدامنی ، کرپشن ، مہنگائی اور بیروزگاری اور اقربا پروری کارجحان بڑھ رہا ہے جو لمحہ فکریہ ہے جہاں تک پاک فوج کی قربانیوں کا تعلق ہے قوم ان کو کبھی بھی فراموش نہیں کر پائے گی ۔ دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کا کردار بے مثال ہے جس کو عالمی سطح پر سرہا جارہا ہے ۔ اس ملک کو مسائل سے نکالنا ہے تو پھر سیاسی استحکام لانا ہوگا ورنہ ترقی و خوشحالی کی منزل ہم سے کوسوں دور رہے گی اور مکار دشمن کی سازشیں ہوتی رہیں گی ۔ یوم آزادی کے حقیقی مقاصد کا حصول ہی ملکی ترقی کا ذریعہ قرارپاسکتا ہے چنانچہ اس ضمن میں حکومت کو سنجیدہ غور وفکر کرنی ہوگی۔حکومت سیاسی حکمت عملی اورتدبرکامظاہرہ کرتے ہوئے الجھے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کرے۔حقیقی خوشی اس وقت ہوگی جب پاکستان اسلامی فلاحی ریاست بن کرابھرے گا۔
پیپلز پارٹی کا (ن )لیگ کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے پازٹی قائدین کو( ن) لیگ کو ٹف ٹائم دینے کیلئے فری ہینڈ دے دیا ۔ کرپشن کے خلاف ملک بھر جلسے ، جلوسوں اور ریلیوں کے حوالے سے آئندہ ماہ میں حتمی فیصلے کیلئے مشاورت کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔ آئندہ چند روز میں اراکین پارلیمنٹ سے بھی ملاقات کریں گے ۔ یہ ردعمل وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی پیپلز پارٹی پر شدید تنقید کے بعد سامنے آرہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ شریف برادران جمہوریت نہیں کرپشن بچانا چاہتے ہیں ان کے تمام ٹوپی ڈرامے ناکام ہونگے ۔ ملک میں جتنی کرپشن آج ہورہی ہے وہ دنیا میں ایک ریکارڈ ہے ۔ پانامہ لیکس پر پارلیمانی ٹی او آرز کمیٹی اپنی موت مرچکی ہے ہمیں ن لیگ کے ٹی او آرز قبول نہیں کرپشن کے خلاف تمام اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر ایک ہوسکتی ہیں ہم بھی میدان میں آنے کیلئے تیار ہیں ۔ حکمرانوں کو اپنی لوٹ مار اور کرپشن کا حساب دینا ہوگا ان کو کسی صورت بھاگنے نہیںدیں گے ۔ پہلے ہی تحریک انصاف ، عوامی تحریک سڑکوں پر احتجاج کرتی دکھائی دیتی ہیں اور پیپلز پارٹی بھی اس احتجاجی تحریک کا حصہ بن جاتی ہے تو پھر سیاسی گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارش ہونے کا امکان ہے اور سیاسی ابر آلود موسم جمہوریت کیلئے کسی بھی لحاظ سے نیک شگون قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ حکومت معاملہ کو ٹھنڈا کرنے کی بجائے جب گرم کرنے کی روش اپنائے گی تو اس کے نتائج خود حکومت کے مخالف ہی جائیں گے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی رفاقت ٹوٹتی ہے تو پھر سیاسی حالات گھمبیر ہونے کا خدشہ ہے۔ حکومت سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے اور ان کے تحفظات کو دور کرے ۔ پانامہ لیکس پر اپوزیشن کے مطالبے کو حکومت سنجیدہ لے اور خودکو احتساب کیلئے پیش کرنے میں ٹال مٹول سے کام نہ لے ورنہ پانامہ کا ہنگامی اس کو بے بس کردے گا اور سڑکوں پر کرپشن کرپشن کی صدائیں حکومت کی شہرت کو دھچکا لگانے کا باعث بن سکتی ہیںتاہم پیپلز پارٹی کا مصلحت پسندی سے نکلنا ہی اس کیلئے سود مند قرار پاسکتا ہے ورنہ اس کی ساکھ خراب ہوگی ۔ بلاول بھٹو نے پارٹی قائدین کو فری ہینڈ دے کر حکومت کو یہ باور کرایا ہے کہ وفاقی وزیر کے الزام ان کی برداشت سے باہر ہیں سیاستدانوں کے ایک دوسرے پر الزام درالزام کا سلسلہ جموری کلچر پر منفی اثرات مرتب کررہا ہے ۔ الزام کو ثابت اور پھر سزا کے عمل سے گزارنا ہی اصل کام ہے جس میں دیدہ دانستہ سرد مہری اور طوطا چشمی کی جارہی ہے ۔ حکومت کیلئے بہتر یہی راستہ ہے کہ وہ اپوزیشن کو اعتماد میں لے اور ان کے تحفظات دور کرے۔
بھارتی فوج کی کنٹرول لائن پر اشتعال انگیز فائرنگ
یوم آزادی کے موقع پر کنٹرول لائن پر بھارتی اشتعال انگیز فائرنگ پر پاکستان نے شدید احتجاج کیا ہے۔بھارتی افواج نے نیزہ پیر سیکٹر میں سویلین آبادی والے علاقے کو نشانہ بنایا ۔ پاک فوج کی جوابی فائرنگ سے دشمن کی توپیں خاموش ہوگئیں ۔ بھارتی مکاری اور دوعملی کا یہ عالم ہے کہ ایک طرف یہ سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کرتے چلا آرہا ہے تو دوسری طرف بھان متی کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان سے مذاکرات کا ڈھونک رچائے دکھائی دیتا ہے اور پیشگی شرائط بھی مشروط کررہا ہے ۔ بھارت کا مخاصمانہ اور جارحانہ رویہ پاکستان کیلئے تشویش کن بنتا جارہا ہے بھارت پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیاں کروا کر عدم استحکام اور بدامنی پھیلانے کی کوشش کررہا ہے اور مسئلہ کشمیر کو بھی جان بوجھ کر حل نہیں کررہا پاکستان اس مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنے کا خواہاں ہے