- الإعلانات -

افغانستان حقیقت سے آنکھیں نہ چرائے

پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم بارڈر پر دونوں اطراف کی آمدورفت کےلئے تعمیر کردہ گیٹ کھول دیا گیا ہے۔گیٹ کو پاکستانی پرچم کے رنگوں سے رنگا گیا ہے، پاکستان کا افغانستان کےساتھ سرحد پر 7 مقامات پر گیٹ کی تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے، جس میں چترال میں ارندو، بلوچستان میں چمن، قبائلی علاقے باجوڑ میں گروسل ، مہمند ایجنسی میں نوا پاس، کرم ایجنسی میں کلارچی، شمالی وزیر ستان میں غلام خان اور جنوبی وزیر ستان میں انگور اڈہ شامل ہیں۔یہ بات بھی واضح رہے کہ رواں سال 13 جون کو پاک افغان سرحدی علاقے طورخم پر گیٹ کی تعمیر کے معاملے پر پاکستان اور افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔افغان فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے علی جواد چنگیزی بھی دیگر 2 سیکیورٹی اہلکاروں اور 10 افراد کے ہمراہ زخمی ہوئے تھے، بعدازاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم بارڈر کراسنگ پر باڑ لگانے کے تنازع کے بعد دونوں ممالک نے اپنے اپنے سرحدی علاقوں میں اضافی فوج اور بکتر بند گاڑیاں تعینات کردی تھیں اور سرحد پار معمول کی نقل و حرکت معطل رہی۔دونوں ملکوں کے درمیان ڈیورنڈلائن یا سرحد پرایسی کشیدگی کوئی پہلا واقعہ نہیں۔قیام پاکستان کے بعد سے ایسے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ڈیورنڈ لائن ہی ہے جو 2430کلومیٹر لمبی ہے۔
آج افغانستان بھارت کی ایما پر گڑے مردے اکھاڑنے پر تلا ہوا ہے۔بھارتی لابی افغانستان میں بیٹھ کر ہر سازش بروئے کار لا رہی ہے جس سے پاکستان کے مسائل میں اضافہ ہو۔ڈیورنڈ لائن کے سو سالہ معاہدے کے خاتمے کا شوشہ بھی برطانیہ میں مقیم ایک بھارتی پروفیسر نے چھوڑا تھا۔ڈیورنڈ لائن کی تاریخی حقیقت سے آگاہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے میں کسی مدت کا سرے سے ذکر ہی نہیں ہے۔یہ تھیوری اسی پروفیسر ڈاکٹر سدھو نے گھڑی تھی۔ان کے علاوہ ایک افغانی ڈاکٹر جی اوف روشن نے یہی پروپیگنڈا کیا۔ناگاساکا یونیورسٹی کے ایک بھارتی پروفیسر دیپک باسو مزید دور کی کوڑی لائے کہ جس طرح ہانگ کانگ کو 99سال کی لیز پردیا گیا تھا اسی طرح فاٹا اور دیگر قبائلی علاقے انگریزوں کو لیز پر دیے گئے تھے جبکہ دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ معاہدے میں لیز کا لفظ بھی کہیں استعمال ہی نہیں ہوا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ معاہدے کے آرٹیکل 2اور 3 میں لکھا ہے کہ افغانستان اس پار کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گا۔اس حقیقت سے افغان حکام کا آنکھیں چرانا دن کو رات کہنا ہے۔کیا افغان حکام نہیں جانتے کہ جب تاج برطانیہ نے ہندوستان کی سونے کی چڑیاکو اپنے پنجرے میں بندکیاتواسے روس جیسی بڑی طاقت سے خطرہ تھا۔چنانچہ انیسویں صدی کے آخر میں وائسرائے ہند نے افغانستان کے بادشاہ امیر عبدالرحمن سے خط و کتابت شروع کی اور برطانوی ہندوستان کے امور خارجہ کے نگران سرہنری ڈیورندکو کابل بھیجا تاکہ اس خطرے کا کوئی حل نکالا جا سکے۔مختصر کوشش کے بعد نومبر1893ءمیں دونوں حکومتوںکے درمیان باقائدہ ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے نتےجے میں سرحدی پٹی کا تعین کردیاگیا۔یہ سرحدی پٹی ”ڈیورنڈ لائین“ کہلائی اور اسی نام سے آج تک یاد کی جاتی ہے۔اس معاہدے کے تحت واخان،کافرستان کا کچھ حصہ، نورستان، اسمار، مہمندلعل پورہ اوروزیرستان کاکچھ علاقہ افغانستان کو سونپ دیاگیاجب کہ استانیہ، چمن، نوچغائی،وزیرستان، بلند خیل، کرم، باجوڑ، سوات،بنیر،دیر،چلاس اور چترال برطانوی ہندوستان کے حصے میں آگئے۔ مشترکہ برطانوی اور افغان سروے اور نقشہ سازی کی کوششوں کے نتیجے میں ابتدائی اور بنیادی حد بندی (ڈیمارکیشن ) میں 800 میل کا احاطہ کیا گیا تھا اور یہ کام 1894 ءسے 1896 ءمیں مکمل ہوا۔ امیر عبدالرحمان خان افغانستان کے وہ حکمران تھے جنہوں نے اپنے ملک میں 1880 ءمیں پہلا پاسپورٹ جاری کیا، جس کا مطلب یہ ہوا کہ انہیں اپنے ملک کے مسافروں کی نقل و حرکت کے حوالے سے دستاویزات کی اہمیت کا اندازہ تھا۔ 1893 ءمیں برطانیہ افغانستان کو ایک آزاد اور شاہی ریاست سمجھتا تھا، حالانکہ اس کے خارجہ امور اور سفارتی تعلقات کے امور برطانیہ کے پاس تھے۔ (حوالہ: سنتھیا سمِتھ کی کتاب : اے سلیکشن آف ہسٹوریکل میپس آف افغانستان۔دی ڈیورنڈ لائن)
تقسیم ہند کے ا علان کے ساتھ ہی شمال مغربی سرحدی صوبے کے مستقبل کا سوچا گیا اور فیصلہ ہوا کہ ریفرنڈم کے ذریعے عوام کی رائے معلوم کی جائے چنانچہ 6جولائی کو برطانوی حکومت کے تحت ریفرنڈم ہوانتائج کے مطابق 99.2%را ئے دہندگان نے پاکستان میں شمولیت کے حق میں رائے دی اور 0.98% رائے دہندگان نے اس سے اختلاف کیا۔ صرف یہی نہیں قبائلی سرداران وعمائدین کے جرگے نے بھی اس ریفرنڈم کے فیصلے کی توثیق کر دی۔اس عوامی فیصلے کے بعد بات ختم ہوجاتی ہے،لیکن افغان حکمرانوں کو یہ فیصلہ ہضم نہ ہوا۔ قیام پاکستان کے بعد جب اس تنازعہ نے سر اٹھایا توقائداعظم نے اپنے تدبر سے اسے حل کیا ،حتی کہ افغان حکام نے یو این او میں پاکستان کو تسلیم بھی کرلیا۔ بعدازاں بھی متعدد مواقع پر ڈیورنڈ لائن کو ایک بین الاقوامی سرحد کے طورپر تسلیم گیا۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ اس سرحدی معاہدے کو جھٹلا دیا جائے جس پر خود افغانستان کے حکمرانوں کے دستخط موجود ہیں۔ ڈیورنڈ لائن کوآج سے تین چار برس امریکہ بھی تسلیم کرچکا ہے۔ مارک گراسمین نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکا ڈیورنڈ لائن کوعالمی سرحد سمجھتا ہے۔اس انٹرویو کے چند روز بعد کابل حکومت نے امریکہ کے خصوصی نمائندے کے موقف کو مسترد کردیا لیکن واشنگٹن میں محکمہ خارجہ نے فوراً ہی گراسمین کے موقف کا دفاع کرتے ہوئے ایک بار پھر اس کا اعادہ کیا تھا۔1947 سے ہی افغانستان میں ایسی حکومتیں آتی رہی ہیں جو داخلہ اور خارجہ پالیسی کے خدوخال پر مختلف سوچ کی حامل رہیں۔چوں کہ کابل کے کمیونسٹ حکمرانوں کو ا ±س وقت سوویت یونین کی پشت پناہی حاصل تھی لہذا ا ±ن کا پختونستان اور ڈیورنڈ لائن کے معاملے پر ان کی سوچ کٹر ہی رہی۔ڈیورنڈ لائن ایک مسلمہ حقیقت ہے اور آئے روز سرحد پار حملوں کے الزامات میں لفظ سرحد استعمال کر کے خود افغان حکومت اسے ایک لحاظ سے تسلیم کرتی ہے۔ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب مسلح سیکورٹی اہلکاروں کی چوکیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کابل دراصل اسے سرحد تسلیم کرتا ہے۔
یہ بات افغانی حکومت کو سمجھنی چاہیے کہ سرکاری سطح پر ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی بڑھے گی اور ایک تنازعہ ختم ہوگا اور دونوں کو مشترکہ دشمن سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔