- الإعلانات -

سانحہ کوئٹہ پر محمود اچکزئی کا بیان قابل مذمت

 قومی اسمبلی میں سانحہ کوئٹہ پر بحث کے دوران پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہر دہشتگرد حملے کے بعد ”را” کے ملوث ہونے کا شور نہیں مچانا چاہیے ”را” پر الزام عائد کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ کوئٹہ کے سول ہسپتال پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے یہ ایوان صرف دعاﺅں کیلئے رہ گیا ہے۔ میں آئندہ پارلیمنٹ میں فاتحہ خوانی نہیں کروں گا ۔دہشتگردی کے خلاف بلا امتیاز کارروائی لازمی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک دشمن عناصر ہماری ایجنسیوں کے پے رول پر ہیں۔ یہ ہمارے انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی ہے۔ ہماری ایجنسیاں گدلے پانی سے سوئی ڈھونڈ سکتی ہیں تو دہشتگردوں کی تلاش میں کیوں ناکام رہیں ۔ محمود خان اچکزئی کی اس گفتگو پر شیخ رشید احمد نے انہیں ”را” کا ایجنٹ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت سے سب سے زیادہ مراعات لینے والا یہ شخص ”را” کا ایجنٹ ہے۔ وہ ان کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہیں پاکستان کی ایجنسیاں محدود وسائل میں بہترین کام کررہی ہیں۔ محمود اچکزئی نے خفیہ ایجنسیوں اور سکیورٹی ایجنسیوں کے بارے میں جو لب و لہجہ اختیار کیا اس کا کوئی جواز نہ تھا جبکہ قومی اسمبلی کے رکن شیخ رشید احمد نے جس طرح بغیر سوچے سمجھے محمود خان اچکزئی کو ”را” کا ایجنٹ قرار دے دیا یہ انداز گفتگو بھی سراسر نامناسب تھا۔ ارکان اسمبلی کو اس طرح حکومتی اداروں یا ایک دوسرے پر سطحی الزامات عائد کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔یہ حقیقت ہے کہ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ کی گفتگو ہمارے نزدیک لاعلمی پر مبنی ہے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے دانستہ حقائق سے چشم پوشی کی ہے۔ ملک میں متعدد ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں ”را” کے ایجنٹ پکڑے گئے ہیں اور انہوں نے اپنے مذموم مشن کے بارے میں تفصیلات بھی بیان کی ہیں۔ تازہ ترین مثال کل بھوشن یادیو کی گرفتاری ہے جس نے سی پیک منصوبوں کو سبوتاژ کرنے اور بلوچستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے عزائم واضح کئے ہیں۔ یہی نہیں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سمیت متعدد حکام نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ گزشتہ حکومت کے دور میں بھی اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھارت مداخلت کے سلسلے میں ڈوزئیر اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کو پیش کئے تھے اس لئے جب ”را” کی بات ہوتی ہے تو یونہی نہیں ہوتی، ٹھوس ثبوت کے ساتھ کی جاتی ہے۔کوئٹہ سانحہ کو ہرگز خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ ہماری خفیہ ایجنسیوں کی پیشہ وارانہ صلاحیت عالمی طور پر تسلیم کی جاتی ہے۔ محمود اچکزئی دہشتگردی کے ان درجنوں واقعات کا علم نہیں رکھتے جنہیں ایجنسیوں نے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ناکام بنایا ۔ ان کا یہ الزام بہت سطحی اور دشمنوں کیلئے مفید ثابت ہو سکتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر ہماری ایجنسیوں کے پے رول پر ہیں۔ موقع کی مناسبت سے یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ محمود خان اچکزئی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کی دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں کیا ذمہ داریاں ہیں؟ کیا اچکزئی صاحب کی یہی ذمہ داری ہے کہ ان کی پارٹی افغان مہاجرین کے شناختی کارڈ بنوا کر انہیں اپنے ووٹروں میں شامل کرنے کی کوشش کرے۔ بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل ہونے کی حیثیت سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کیا اس کی کوئی ذمہ داری نہیں؟ وزارتیں سنبھالنے اور مفادات حاصل کرنے والوں کو صوبے کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔اسی طرح اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر میڈیاسے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا ہے کہ ”را“ کا راستہ میں نے روکنا ہے، اچکزئی یا نواز شریف نے روکنا ہے؟۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ظاہر ہے کہ ہماری ایجنسیوں نے ہی ”را“ کا راستہ روکنا ہے۔ ہماری ایجنسیاں کیوں بار بار’ را‘پر رک جاتی ہیں؟۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماء محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان نے کوئٹہ سانحہ کے معاملہ پر ایجنسیوں کی جانب انگلی اٹھائی تو سیاسی رہنماو ¿ں نے مذمت کردی۔ نعیم الحق، سراج الحق اور رضا ہارون نے کہا ہے اس وقت ایسا بیان قومی اتحاد کیلئے نقصان دہ ہے۔ جو بلوچستان میں دشمنوں کے ٹھیکیدار ہیں، وہی انتشار چاہتے ہیں۔ قوم دشمن کو پہچان چکی ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا یہ وقت پارلیمنٹ میں سیاست چمکانے کا نہیں، واقعے کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں دہشتگردی کے واقعہ نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا ، ہم نے دہشتگردی کو ختم کرنے کا جو عزم کیا ہے اس واقعہ سے اس کو غیر متزلزل نہیں کیا جاسکتا۔ ہم پہلے سے زیادہ عزم سے آگے بڑھیں گے اور ان کا قلع قمع کرینگے۔ گمراہ عناصر کبھی اسماعیلی برادری کو کبھی کوئٹہ میں ہزارہ برادری ’ کبھی پشاور میں چرچ تو کبھی آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ ملک بھر میں ہر طبقہ فکر’ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اقلیتی برادری کے خلاف دہشتگردی کی کارروائیاں کی جارہی ہیں’ ایسے عناصر عوام اور پاکستان کے دشمن ہیں۔ ہم نے ہر قیمت پر اس نظریئے کو شکست دینی ہے۔ ان کے پیچھے کارفرما ذہن انتہائی مکروہ ہے اور وہ پاکستان میں امن و امان بہتر ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔ بلوچستان بہتر ہوتا اسے برداشت نہیں۔ ہم ان مکروہ عزائم کو خاک میں ملائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ وزیر اعظم نے بالکل درست کہا کہ ہمارے قومی سلامتی کے ادارے پاکستان کی سرحدوں اور پاکستان کے اندر سخت اقدامات کرنے میں حق بجانب ہیں۔ ریاست کی حفاظت کے ساتھ ساتھ سرحدوں کے اندر زندگی کو محفوظ بنانا ان کی ذمہ داری ہے۔پاکستان کے انٹیلی جنس ادارے دن رات محنت کرکے دہشتگردی کو ناکام بنانے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے دہشتگردی کے سینکڑوں منصوبے ناکام بنائے۔ دہشتگردوں کا براہ راست ہدف پاکستان کی اساس ہے۔ مسلح افواج سے عام شہریوں تک ہر پاکستانی ’ قوم کے ان دشمنوں کا ہدف تھا۔ ہمارے ادارے اپنا کام کر رہے ہیں اب کا پاکستان کہیں زیادہ محفوظ اور توانا ہے۔ انٹیلی جنس حکام کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ کوئٹہ سمیت بعض دیگر دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی ہاتھ بھی ملوث ہے اور سی پیک کو سبوتاژ کرنے سے متعلق بھی اہم معلومات ملی ہیں۔ اسی لئے سول و عسکری قیادت نے دہشتگردوں کے خلاف کومبنگ آپریشن کا دائر ہ ملک بھر تک وسیع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کا صفایا کر دیا ہے اور وہاں امن کی فضاء قائم ہے جو دہشت گرد بچ گئے ہیں وہ اپنے آپ کو بچانے کیلئے ٹھکانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہمیں ان دہشت گردوں کو ان خفیہ ٹھکانوں سے نکال کر ختم کرنا ہے ۔