- الإعلانات -

فارن پالیسی

 اپنی فارن پالیسی پر آدمی جب جب نگاہ ڈالتا ہے حیرت سے سوچتا ہے کس اوسط درجے کے لوگ ہماری بستی میں سلطان ہوتے رہے اورکیسی معمولی ذہنی صلاحیتوں کے پاس ہماری فارن پالیسی رہن پڑی رہی۔
ہماری فارن پالیسی ٹی ایس ایلیٹ کی وہ ویسٹ لینڈ ہے جہاں معقولیت کا کوئی نخلستان نہیں ملتا۔نامعلوم لوگ نامعلوم حکمت کے تحت ایسے فیصلے کرتے رہے کہ آدمی ان کا مطالعہ کرے تو احساس زیاں کی شدتیں کاٹنے کو دوڑتی ہیں۔
یہ ہم ہی تھے جنہوں نے گاندھی کی اس رائے کو رد کر دیا کہ ریاستوں کے مستقبل کا فیصلہ ان کے عوام کو کرنے دیا جائے۔ہمارا اصرار تھا کہ ریاستوں کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام نہیں بلکہ ان کے والی کریں گے۔اور جب کشمیر کے مہاراجہ سے بھارت نے اپنے حق میں فیصلہ لے لیا تو آج نصف صدی گزرنے کے بعد اب ہمیں وہاں کے عوام کے فیصلے کا انتظار ہے۔اور اس انتظار میں ہم اتنے یکسو ہیں کہ ہم نے کشمیر کمیٹی کا سربراہ حضرت مولانا فضل الرحمن کو بنا دیا ہے۔یہ جاننے کے لئے اس کے بعد آئن سٹائن ہونا ضروری نہیں کہ اس کمیٹی کی کارکردگی کیا تھی،کیا ہے اور کیا ہو گی۔ہم نے بڑے جوش و جذبے سے آ پریشن جبرالٹر شروع کیا ۔کشمیر کے لوگوں نے گھروں پر پاکستانی پرچم لہرا دیے۔لیکن اگلی صبح لوگ جاگے تو ہمارے کمانڈو واپس جاچکے تھے اور بھارت دوبارہ قبضہ کر چکا تھا۔کیونکہ ہمارے سارے اندازے غلط نکلے تھے۔ہمارا خیال تھا بھارت بین الاقوامی بارڈر پر جنگ کو نہیں لے جائے گا اور اس کے جرنیل ہمارے فیلڈ مارشل سے پوچھ کر ڈیپلائمنٹ کریں گے۔لیکن اندازے غلط ثابت ہوئے اور جبرالٹر کا جواب لاہور وغیرہ پر حملے کی صورت ملا توہم نے سارا غصہ ٹیکسٹ بک بورڈ پر نکالا اور ہم ایک عرصے تک یہی پڑھتے رہے کہ بھارت نے رات کی تاریکی میں چوروں کی طرح لاہور پر حملہ کر دیا۔
ہمیں امریکی ڈالروں کی مہک نے یوں متاثر کیا کہ ہم اس کے دم چھلے بن گئے۔ہم نے کمیونزم کے خلاف کرائے کے سپاہی کا کردار اس دل جمعی سے ادا کیا کہ اپنا ستیا ناس کروا کر دم لیا۔قومیں ایک دوسرے کے مفادات میں حلیف بھی ہوتی ہیں اور حریف بھی مگر ہم نے تو حد ہی کر دی۔حامد حسن ڈیفینس جر نل آف پاکستان میں لکھتے ہیں کہ ہمارے فیلڈ مارشل نے امریکہ سے کہا کہ بس آپ فیصلہ کر لیں ۔میں آپ کو بتا دوں کہ ہماری فوج آپ کی فوج بھی ہو سکتی ہے۔چنانچہ ایک وقت آیا کہ امریکی جرنیل جلال آ باد میں کھڑے ہو کر نعرہ تکبیر بلند کرتے پائے گئے اور ہمارے امیر المومنین صرف امریکی ڈالروں کی مہک سے بے خود رہے ۔کسی نے یہ نہ سوچا کہ جب یہ جہاد ختم ہو گا اور ڈالر آنے بند ہو جائیں گے تو کیا ہو گا۔نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔آج ہم امریکی ڈالروں کے حصول کے لئے ایک نئی جنگ لڑ رہے ہیں مگر کہیں بھی کو ئی ایسی فکری ایکسر سائز نظر نہیں آ رہی کہ اس جنگ کے اختتام پر ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔سیکولر مولویوں کی خواہشات اپنی جگہ مگر خواہش کبھی خبر نہیں بن سکتی ۔امریکہ کو بہر حال یہاں سے نکلنا ہے اور امریکہ کے نکلنے کے بعد طالبان کی نفسیات ایک فاتح کی نفسیات ہوں گی۔اس کے ہاں یہ فخر ہو گا کہ برطانیہ اور سوویت یونین کے بعد افغانوں نے امریکہ کو بھی بھگا دیا۔اس عالم میں طالبان اور ہمارے تعلقات کی نو عیت کیا ہو گی؟ کیا کبھی کوئی ایسی بحث ہم نے پارلیمنٹ میں سنی؟لے دے کے ہم نے ایک دفاعِ پاکستان کونسل بنائی ہے کہ آنے والے ایام میں وہ پل کا کردار ادا کر سکے۔لیکن اس کونسل کو تو خود پاکستان میں اہل سیاست کسی کے دست ہنر کا معجزہ قرار دے رہے ہیں اس پر طالبان کیا خاک اعتبار کریں گے۔دنیا میں کسی مہذب ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ قومی اہمیت کے فیصلے پس چلمن کوئی کر دے۔غوروفکر ہوتا ہے۔آزادانہ بحث ہوتی ہے۔ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اپنی سفارشات دیتے ہیں۔ان پر بات ہوتی ہے ۔پھر فیصلہ ہوتا ہے۔لیکن ہمارے ہاں علمی رویوں کا فقدان ہے۔ہم وہ نون غنے ہیں جو فارن پالیسی کے ذریعے اپنی سیاست چمکاتے ہیں۔امریکہ ہم سے خفا ہے کہ ہم کولیشن فنڈ کی رقم لینے کی خاطر نئے مقتل کیوں آباد نہیں کرتے اور ہمارے سیاستدان امریکہ کی لائن لیتے ہیں اور شور مچاتے ہیں گڈ اور بیڈ طالبان میں فرق کیوں ہے۔جب اپنے ہی اہل سیاست ریاستی اداروں کو سینگوں پر لے لیں تو اس افسوسناک عمل کی آدمی کیسے تحسین کرے۔