- الإعلانات -

مودی ہذیانی کیفیت سے دوچار

پاکستان کے خلاف بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کے لب و لہجے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی تلخی سے عیاں ہوتا ہے کہ انہیںبو کھلاہٹ نے پوری طرح لپیٹ میں لے رکھا ہے۔اگرچہ انہیں پاکستان کے حوالے سے ہمیشہ ہی بغض رہا ہے اور کبھی کلمہ خیرا ن کی زبان سے نہیں نکلا تاہم حالیہ کچھ دنوں سے پوری طرح زہر اگل رہے ہیں،خصوصاً مقبوضہ کشمیر کی بے قابو ہوتی صورتحال کے بعد توان کی بے چینی ،بے کلی اور ہذیانی کیفیت دیدنی ہے۔ اس ہذیانی کیفیت میں اس وقت تیزی دیکھی گئی جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں دہشت گردوں کے گن گائے جاتے ہیں‘ وہاں کی حکومت دہشت گردی کے نظریہ سے متاثر ہے۔ دہلی کے لال قلعے میں یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے سفید جھوٹ پر انحصار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر (آزاد کشمیر) اور گلگت کے عوام نے اپنے لئے آواز اٹھانے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ مودی کا کہنا تھا کہ پشاور کے سکول پر دہشت گردوں کے حملے میں معصوم بچوں کی ہلاکت پر بھارت کی پارلیمنٹ اشک بار تھی پوری قوم نے ان بچوں کیلئے آنسو بہائے۔یہ ہماری انسانیت ہے لیکن دوسری طرف، جہاں دہشت گردوں کے گن گائے جائیں، دہشت گردی کے حملوں میں معصوم لوگوں کے مرنے پر جشن منائے جاتے ہیں۔جس طرح بلوچستان،گلگت اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر (آزاد کشمیر) کے لوگوں نے میرا شکریہ ادا کیا ہے، میرے ملک کی ساری آبادی کا شکریہ ادا کیا، میں بھی ان کا شکر گزار ہوں۔ مودی کے یہ الفاظ بیمار ذہن کی مکمل عکاسی ہے۔پاکستان نے اسے رد کردیا ہے بلکہ آزاد کشمیر،بلوچستان اور گلگت کی عوام اسے بلی کے خواب چھچڑے قرارد ے رہی ہے۔ چند روز قبل بھی نریندر مودی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان بلوچستان اور آزاد کشمیر میں ہونے والے مبینہ زیادتیوں کا جواب دے۔لیکن نریندر مودی کی بے سروپا رام کہانی میں کہیں بھی بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جاری حکومت مخالف احتجاجی لہر کا ذکر نہیں تھا۔ تاہم شدت پسندی میں ملوث نوجوانوں کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ شدت پسندی کا راستہ ترک کر کے قومی دھارے میں شامل ہو جائیں۔مودی کی یہ بار بار دہائی اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری نوجوان مودی کے ہاتھ سے نکل چکا ہے ،وہ نہیں چاہتا کہ کشمیر پر ماضی کے قاتل اعلیٰ کا ہاتھ ہو۔ مودی نے کہاکہ پشاور کے آرمی سکول پر دہشت گردوں کے حملے میں معصوم بچوں کی شہادت پر بھارتی کی پارلیمنٹ اشک بار تھی ۔ لیکن حقیقت یہ ہے یہ مگر مچھ کے آنسو تھے،جو اسوقت بہائے گئے تھے۔مودی جی تمہارا اصل چہرہ یہی ہے جو کل کی تقریر میںسامنے آیا ہے۔پاکستان ایک عرصہ سے یہی تو کہہ رہا ہے کہ بھارت بلوچستان میں گڑ بڑ میں ملوث ہے ،مودی نے کل پاکستان کے اسی الزام کا اقرار کرلیا ہے۔سرتاج عزیز نے درست کہا ہے کہ مودی کے خطاب نے ثبوت دیدیا کہ بھارت ”را“ کے ذریعہ بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی تقریر پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے گزشتہ پانچ ہفتوں سے مقبوضہ کشمیر میں جاری خراب صورتحال سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے۔کشمیری نوجوان روزانہ حق خودارادیت کے حصول کیلئے احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ اب تک 70 سے زائد بے گناہ کشمیری شہید اور چھ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ 37 روز سے مقبوضہ کشمیر میں مکمل کرفیو ہے۔ میڈیا اور انٹرنیٹ کا مکمل بلیک آو ¿ٹ ہے۔ اس احتجاج کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ کشمیریوں کی داخلی تحریک ہے جو حق خودارادیت کے حصول سے متعلق ہے جس کا سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیریوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کا آزاد کشمیر سے کوئی موازنہ ہی نہیں بنتا۔بھارت دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے لیکن ایک بڑا ملک خود بخود عظیم ملک نہیں بن جاتا۔ خصوصاً وہ ملک جب حق خودارادیت مانگنے والے نہتے شہریوں کو اپنی سکیورٹی فورسز کے ظلم و ستم کا نشانہ بناتا ہے اورپیلٹ گنوں سے ایک سو نوجوانوں کو بینائی سے محروم کر چکا ہے۔ بھارت کو ادراک کرنا ہو گا کہ جموں و کشمیر جیسا بنیادی تنازعہ گولیوں سے بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سنجیدہ سفارتکاری کے ذریعہ ہی حل ہو گا۔ مودی کے بیان کو جہاں پاکستان نے مسترد کیا ہے وہاں خود بھارتی میڈیا بھی اس کے لتے لے رہا ہے۔اپوزیشن جماعتیں اس پر سخت ردعمل دکھا رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلی اورنیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ نے قابض بھارتی فوج کے مظالم اور وادی میں جاری کشیدہ صورتحال کاذمہ دار مودی سرکار کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں تناﺅ اور بے چینی پاکستان کی وجہ سے نہیں ہے، بھارتی سرکار پھر ایک بار اپنے پرانے اور ناکام طریقہ کار کے ذریعے کشمیر کی صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کررہی ہے،جب حد پار ہوجائے گی پھر بیان بازیوں اور مسلسل نشستوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ عمر عبداللہ کا اپنے بیان میں کہاکہ نئی دہلی نے پھر ایک بار کشمیر کے حالات اور جذبات کو تسلیم کرنے سے گریز کیا ہے،کشمیری نوجوانوں میں جوش و جذبات بڑھنے کا داعش اور خلافت مومنٹ کے احیا کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے، کشمیر میں بڑھتے ہوئے غم و غصے کی بنیادی اور واحد وجہ نئی دلی کی طرف سے مسئلہ کشمیر کی حقیقت سے بھاگنا ہے۔کانگریس کے رکن اور سابق بھارتی سفیر مانی شنکر آئرنے مودی سرکار کو باور کرایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں شورش اور گڑ بڑ کی ذمہ داری پاکستان پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ مذاکرات بیک وقت شروع کرے۔ خود مختاری کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ کشمیریوں کو خودمختاری دی جا سکتی ہے۔پاکستان پر الزام تراشی اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی توہین کرنے پر بھارتی وزیراعظم کو ان کے چیف جسٹس نے ہی آئینہ دکھا یا ہے‘ جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے کہا کہ مودی کی تقریر انتہائی مایوس کن تھی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے وزیراعظم مودی کے یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کو انتہائی مایوس کن قرار دیا۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے کہا کہ دوسروں کی نہیں اپنی خبر لیجیے۔
مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ
کشمیری حریت پسند مجاہد مظفر وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں اٹھنے والی عوامی احتجاج کی لہر گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہے گزشتہ روز بھی بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر بارہ مولا، اسلام آباد، پٹن، بانڈی پورہ اور کدال سمیت مقبوضہ وادی کے مختلف شہروں میں لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں ریلیوں، جلسوں اور مظاہروں میں حصہ لیاور اور پاکستانی پرچم اٹھا کر پاکستان زندہ باد اور جیوے جیوے پاکستان کے نعرے لگائے اور فوج، پولیس کی فائرنگ اور پیلٹ گن کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ قابض بھارتی فورسز کے تمام تر ظلم و تشدد کے باوجود احتجاج کی لہر میں کوئی کمی نہیں آئی۔ سرینگر میں سکھ برادری کے لوگوں نے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے مظاہرہ کیا اور شمعیں روشن کیں اور ڈاکٹروں اور میڈیکل سٹاف نے پیلٹ گن فائرنگ سے نوجوانوں کو اندھا کرنے کیخلاف دھرنا دیا دہلی میں ایوان بالا، راجیہ سبھا میں کشمیر میں جاری تشدد کے حوالے سے اپوزیشن نے بھی اپنی توپوں کا رخ مودی سرکاری کی طرف کئے رکھا اور صورت حال کا جائزہ لینے اور کشمیریوں سے بات چیت کیلئے ارکان پارلیمنٹ کا وفد مقبوضہ کشمیر بھجوانے اور پیلٹ گن کا استعمال بند کرنے کا مطالبہ کیا ۔