- الإعلانات -

حکومتی ڈنگ ٹپاﺅ پالیسی کے نتائج خطرناک ہونگے

مئی 2013ءکو عام انتخابات کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی تھی۔پاکستان مسلم لیگ کی حکومت سنبھالنے سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی تھی جو کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور معذول ججز کی بحالی کے معاملات میں پس پشت رہی بصورت دیگر دونوں جماعتوں نے حکومت کرنے کیلئے مفاہمت کو ہی مفاہمت سمجھا۔اس وقت تو سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری کی اس مفاہمت کی پالیسی کو بہت سراہا گیا۔اور تو کوئی کام نظر آتا نہیں تھا اس لئے ہر خوشامدی مفاہمتی پالیسی کے تعریفی پل باندھتا نظر آرہا تھا اور جمہوری نمائندے بھی نتائج سے بے خبر اسی تعریف کے بھنور میں پھنستے چلے گئے اور پھر نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے کہ وفاق کی علامت پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی جماعت بن گئی اور اگر عمران خان کے الزامات کو سچ مانا جائے تو پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کی جماعت بن کر رہ گئی۔میری نظر میں مفاہمتی پالیسی نے صرف پی ایم ایل این اور پی پی پی کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس ملک کی جمہوریت کو بھی کمزور کیا۔کسی بھی حکومت میں اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے کیونکہ عوام کی اپوزیشن کی شکل میں ملک کے مستقبل کیلئے ایک امید نظر آتی ہے اور جب سیاسی جماعتیں مفاہمتی پالیسی اختیار کر لیں تو پھر عوام کو انکا مسیحا نہیں نظر آتا ایسی صورت میں عوام کو اس نظام سے اعتبار اٹھنا شروع ہو جاتا ہے لہذاجمہوری قوتیں انجانے میں جمہوریت کو کمزور نہ کریں ورنہ ہوتا وہی ہے جو عوام چاہتے ہیں اور سیاسی قوتیں ایک بات یاد رکھیں کہ عوام صرف سیاسی کارکن نہیں ہوتے ۔تو میں بات کر رہا تھا کہ ملک میں جونہی مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی تو اسے بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی صورت میں مفاہمتی اپوزیشن کا سامنا تھا لیکن اچانک پاکستان تحریک انصاف میدان میں آگئی اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے لگی۔پاکستان تحریک انصاف کے چار حلقوں کو کھولنے کا مطالبہ زور پکڑتا گیا لیکن پی ٹی آئی کا مطالبہ جتنا بھی زور پکڑ رہا تھا حکومت نے اسے اتنا ہی نظر انداز کرنا شروع کر دیا اوروقت ٹپاﺅ پالیسی کو حکومت اپنی کامیابی تصور کرنے لگی۔اسی دوران انتخابات سے قبل انتخابی نظام کی درستگی کیلئے متحرک ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی سپریم کورٹ سے اپنی درخواست مسترد ہونے کے بعد دوبارہ دھرنے کا اعلان کر دیا۔ایک طرف تو حکومت عمران خان کے مطالبے کو گھانس نہیں ڈال رہی تھی تو دوسری طرف ماضی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کے اعلان کو کچھ زیادہ ہی سنجیدہ لیکر حکومت نے جارحانہ حکمت عملی اپنا لی جس کے نتیجے میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن ہو گیا۔اس سانحے نے پورے پاکستان کے عوام کے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا۔پہلے سے مایوس عوام میں شدید نفرت نے جنم لیا اور وہ حکومت کیخلاف سراپا احتجاج بننے کیلئے تیار ہو گئی۔ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد کے وقت حکومتی حکمت عملی نے احتجاج کی ممکنہ شدت کو کم تو کر دیا لیکن پاکستان عوامی تحریک نے حکومت کیخلاف فیصلہ کن جنگ کا فیصلہ کیا۔چونکہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر ہر آنکھ اشکبار تھی اس لئے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف جو پہلے ہی سراپا احتجاج تھی ڈاکٹر طاہر القادری کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گئی۔اور پھر دونوں جماعتوں نے لاہور سے اسلام آباد آکر دھرنا دیا جس سے حکومت ہل کر رہ گئی اور کتنا حکومت ہلی اس بارے میں حکومت خود بہت بہتر جانتی ہے تاہم ہمارے تک پہنچنے والی چہ مگوئیوں کے مطابق حکومت جاتے جاتے رہ گئی تھی۔خیر دھیرے دھیرے حکومت سنبھل گئی اور احتجاج کرنے والوں کے پاﺅں کمزور ہو گئے۔آج بھی بالکل ویسی ہی صورتحال ہے لیکن شائد حکومتی آنکھ سے اس صورتحال کا جائزہ اس انداز نہیں لگایا جا سکتا جو عام آنکھ دیکھ رہی ہے۔پانامہ لیکس پر اپوزیشن تقسیم ہوتی نظر آرہی ہے اور حکومت پاکستان تحریک انصاف کو اعتماد میں لینے کے بجائے پرانے مفاہمتی دوست پر ہی اکتفا کر رہی ہے لیکن جس کے پاس سٹریٹ پاور ہے حکومت اس کو گھانس نہیں ڈال رہی ۔بقول عمران خان کے کہ حکومت پانامہ لیکس بارے ٹی او آرز پر بامقصد مذاکرات نہیں کر رہی لیکن حکومت ہے کہ عمران خان کو اہمیت دینے کے بجائے ڈنگ ٹپاﺅ(وقت گزارو)کی پرانی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اسحاق ڈار خورشید شاہ سے ملکر 1956ءکے انکوائری ایکٹ کو ختم کرنیا قانون بنانے پر اتفاق کو بڑی کامیابی سمجھ رہے ہیںجبکہ اصل میں جس سے خطرہ ہے اس سے مذاکرات کے بجائے جارحانہ پالیسی اختیار کی جا رہی ہے (عمران خان کیخلاف قومی اسمبلی میں ریفرنس اسی سلسلے کی کڑی ہے)حالانکہ حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کیخلاف جارحانہ پالیسی اور پاکستان تحریک انصاف کیساتھ مذاکراتی پالیسی اختیار کرتی تو کچھ سمجھ بھی آتاکہ حکومت ماضی کی پالیسی پر عمل نہیں کر رہی لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ حکومت ماضی کی ہی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے نتائج ملک کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔پاکستان عوامی تحریک قصاص و سالمیت پاکستان تحریک کے سلسلے میں 20اگست سے 30اگست تک 140شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دیگی ۔پاکستان عوامی تحریک 20اگست کو لاہور،پشاور ،حیدر آباد سمیت 77شہروں میں،21اگست کو گوجرانوالہ ،سیالکوٹ،،نارووال،گجرات سمیت 21شہروں میں ،25اگست کو ڈی جی خان ،لیہ،راجن پور،مظفرگڑھ سمیت 11شہروں میں ،27اگست کو بہاولپور،لودھراں ،بہاولنگر سمیت 11شہروں میں اور 28اگست کو راولپنڈی ،کوئٹہ،کراچی،جہلم،چکوال،اٹک سمیت بشمول شہر اقتدار اسلام آباد 20شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دے گی۔جس کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری 30اگست کو اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرینگے۔اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کا کنٹینر بھی 21اگست کو گجرات،28اگست کوجہلم اور 3ستمبر کو لاہور جائیگاجہاں عمران خان اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرینگے۔حکومت کے پاس ابھی بھی وقت ہے جارحانہ پالیسی کے بجائے مذاکراتی پالیسی اپنائے اور مسائل کا حل تلاش کرے وقت ٹپاﺅ پالیسی مستقبل کیلئے درست ثابت ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔اگر حکومت نے اپنی روش نہ بدلی تو پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک ایک بار پھر دھرنے اور مظاہروں کے بعد سخت پالیسی اپنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جس سے اور تو کسی کو نقصان ہو نہ ہو لیکن ملک و قوم کا ضرور نقصان ہونے کا خدشہ ہے اس لئے نظام چلانے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نظام کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اس میں موجود خامیوں کو بھی دور کریںاور انصاف کو اپنا طرہ امتیاز بنائیں۔جب تک ملکی نظام میں انصاف کی فراہمی کو اولیت نہیں دی جائیگی اور شفافیت کو نہیں اپنایا جائے گا تب تک حالات قابومیں تو رہ سکتے ہیں مگر درست نہیں ہونگے ۔جب تک عمارت کی بنیادیں مضبوط نہ ہوں تب تک عمارت کے کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔