- الإعلانات -

پاک افغان سرحد پر دہشت گردی کو روکنے کیلئے ممکنہ اقدامات

پا ک فوج نے پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کیلئے آپریشن کا آغاز کردیا اس سلسلے میں خیبر ایجنسی کی وادی راجگال میں پاک افغان سرحد پر فوج کے اضافی دستے تعینات کردئیے جبکہ وادی تیراہ میں سیکورٹی فورسز کی زمینی کارروائی اور جیٹ طیاروں کی بمباری کے نتیجہ میں 15 دہشت گرد ہلاک اور11 زخمی ہوگے اور ان کے 9ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیا ۔ پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کیلئے پاک فوج نے جو اقدام کیا ہے اس کے دوررس نتائج برآمد ہونگے ۔ افغان سرحد پر زمینی اور فضائی آپریشن دہشت گردی کے خاتمے میں ممدومعاون ثابت ہوگا ۔ فورسز نے وادی تیراہ اور راجگال میں جس طرح دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا لائق تحسین ہے جب تک پاک افغان سرحد کو محفوظ نہیں کیا جاتا اس وقت تک دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکنا محال ہے۔ پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے اور افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور آماجگاہیں خطے کے امن کو تباہ کرنے کا باعث بن رہی ہیں لیکن افغان حکومت دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی کی منصوبہ بندی بھی افغانستان سے کی جارہی ہے ۔ پاکستان کو ایک طرف بھارت جیسے دہشت گرد ملک کا سامنا ہے اور اس کی خفیہ ایجنسی ”را“ دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے تو دوسری طرف افغانستان میں چھپے بیٹھے دہشت گرد پاکستان کیلئے تشویش کا باعث بن رہے ہیں ۔ افغان سرحد پر مزید فوج کی تعیناتی سرحد پار سے دہشت گردوں کی کارروائیوں کو روکے گی۔ دہشت گردی اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتی جارہی ہے ۔ پاکستان اس کے خاتمے کیلئے کوشاں ہے اور اس کو کافی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ دہشت گردی کی اجازت دنیا کا کوئی مذہب نہیں دیتا ۔ اسلام تو امن و سلامتی کی تعلیم دیتا ہے اور ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ یہ کیسے طالبان ہیں جن کے ہاتھوں معصوم لوگوں کو دھماکوں اور خودکش حملوں سے اڑایا جارہا ہے ۔ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ پاک افغان سرحد کو دہشت گردوں سے محفوظ بنا کر ہی خطے میں امن قائم کیا جاسکتا ہے ۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور چاہتا ہے کہ خطے میں پائدیار امن قائم رہے لیکن دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کی امن کاوشوں کو سبوتاژ کیا جارہا ہے جس سے خطے میں خطرات بڑھ رہے ہیں۔ پاک افغان سرحد پر نیا آپریشن دہشت گردی کے خاتمے کا باعث بنے گا اور امن کا ذریعہ قرار پائے گا ۔ افغان حکومت پاکستان سے بھرپور تعاون کرے اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان طرز کا آپریشن کرے تاکہ دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کیا جاسکے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات دنیا کیلئے مثال ہیں ایک طرف تو پاکستان دہشت گردوں کو آپریشن کے ذریعے ختم کررہا ہے تو دوسری جانب انکی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کےساتھ ساتھ انکے سہولت کاروں کو بھی گرفت میں لا رہا ہے یہی نہیں بلکہ پاکستان دہشت گردوں کی جزا و سزا کا نظام بھی سخت کیے ہوئے ہے اس سلسلے میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مزید 11 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی ۔ یہ دہشت گرد ڈی آئی جی فیاض سنبل ، اے ایس آئی رضا خان،انسپکٹر کامران نیازی ، ایف سی اہلکاروں ، پاک فوج کے میجر عابد مجید کے قتل ، سکولوں پر حملوں میں ملوث تے ان سنگین جرائم کے تناظر میں فوجی عدالت نے ان کو سزائے موت سنائی جس کی آرمی چیف نے توثیق کی فوجی عدالتیں سنگین جرائم میں ملوث دہشت گردوں کو فوری طورپر ان کے منطقی انجام تک پہنچا رہی ہیں جس سے عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہورہے ہیں فوجی عدالتوں کی بہترین کارکردگی کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ اس میں زیر سماعت مقدمات کو مقررہ وقت میں تمام تر قانونی تقاضوں کے تحت نمٹایا جارہا ہے اور دہشت گرد سزا پارہے ہیں۔ فوجی عدالتوں کا قیام دہشت گردی کی روک تھام اور فوری انصاف کا باعث ہے ان میں مزید اضافے کی ضرورت ہے پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب جاری رکھے ہوئے ہے اور اس ضمن میں نیشنل ایکشن پلان بھی بنایا گیا جس پر کماحقہ عمل درآمد نہ ہوا جس پر آرمی چیف نے تشویش کا اظہار بھی کیا تھا ۔ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر فوری عملدرآمد کرے تاکہ اس کے مطلوبہ نتائج اور اہداف پورے ہوسکیں۔ دہشت گردی کا خاتمہ کیے بغیر ملک کو امن کا گہوارہ نہیں بنایا جاسکتا ۔ جنرل راحیل کی بے باک عسکری قیادت میں پاک فوج دہشت گردی کے خلاف جو کردار ادا کررہی ہے یہ قابل ستائش ہے اور دنیا کیلئے قابل تقلید بھی پاک فوج کی قربانیوں کے نتیجہ میں دہشت گردی کا ناسور بتدریج ختم ہوتا جارہا ہے ۔ آپریشن ضرب عضب نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے اور ان کے نیٹ ورک کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے کئی علاقے ان کے تسلط سے آزاد کروا لئے گئے ہیں ۔ دہشت گردی میں پڑوسی ملک بھارت کا ہاتھ ہے اور ”را“ کے ذریعے اس کی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے پردہ چاک ہوچکا ہے اور پاکستان اس ضمن میں مسلسل احتجاج بھی کرتا چلا آرہا ہے لیکن عالمی برادری کی بے حسی اور سرد مہری کا یہ عالم ہے کہ کوئی ردعمل سامنے نہیں آرہا ہے بلکہ امریکہ بھی بھارت کی طرف جھکاﺅ کررہا ہے اور اس کی طرفداری ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے ۔ پاک فوج اندرونی و بیرونی سازشوں سے نمٹنے کیلئے سرگرم عمل ہے دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ سرحدوں پر بھی اس کی کڑی نظر ہے اور یہ ہر وقت چوکس ہے اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کا ملوث ہونا خطے کے امن کیلئے سخت خطرہ ہے پاکستان پرامن ملک ہے اور بھارت کو یہ باور کرواتا چلا آرہا ہے کہ وہ دہشت گردانہ سرگرمیوں سے باز رہے لیکن معاملہ جوں کا توں دکھائی دیتا ہے جو تشویش کا باعث ہے۔ پاکستان کی عسکری قیادت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے ۔ دہشت گردوں کی سزائے موت میں توثیق اس امرکا واضح ثبوت ہے ۔ فوجی عدالتیں حصول انصاف کیلئے جو فیصلے کررہی ہیں ان کے دوررس نتائج برآمد ہونگے۔
مسعود خان آزاد کشمیر کے نئے صدر منتخب
مسلم لیگ(ن) کے امیدوار مسعود خان آزاد کشمیر کے نئے صدر منتخب ہوگئے ۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے مسعود خان کا نام تجویز کیا تھا ۔ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر نے مسعود خان کو صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا ۔ مسعود خان 42 ووٹ حاصل کیے جبکہ پیپلز پارٹی کے چوہدری لطیف اکبر 6ووٹ حاصل کرسکے۔ مسلم کانفرنس اور پی ٹی آئی نے رائے شماری میں حصہ بھی نہیں لیا ۔ مسعود خان اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں پاکستان کے مستقل مندوب ارو سفیر رہے ۔ عوامی جمہوریہ چین میں سفارتی خدمات سرانجام دیں ۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز بیجنگ سے کیا اور مقبول عام قرار پائے۔ نئے منتخب صدر سے کشمیری عوام کی بہت سی توقعات وابستہ ہیں اور عوام کی امیدیں کہاں تک وہ بر لاتے ہیں یہ تو بعد میں پتہ چلے گا تاہم ان کا تجربہ اورس فارتی کارکردگی اس امر کا عکاس ہے کہ وہ آزاد کشمیر کے حل طلب مسائل کیلئے اپنی توانائیوں کو بروئے کار لانے میں کوئی لمحہ فروگزاشت نہیں کریں گے ۔ کشمیری عوام نے جس طرح ان پر اعتماد کا اظہار کیا وہ اس پرپورا اتریں گے اور اپنی ذمہ داریوں کو کماحقہ پورا کریں گے۔ عوام نے جو مینڈیٹ انہیں دیا ہے اس تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے ساتھ ساتھ بیروزگاری ، مہنگائی کاخاتمہ کرنے کے علاوہ لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کو بھی یقینی بنائیں گے