- الإعلانات -

کرپشن کے بتوں کو پاش پاش کرنے والا قائد چاہیے

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے یوم آزادی کے موقع پر حضوری باغ میں منعقدہ خصوصی تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ قیام پاکستان کیلئے لاکھوں جانثاروں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا لاکھوں شہداءکی روحیں آج بھی منتظر ہیں پاکستان کب صحیح معنوں میں قائد ؒ اور اقبالؒ کا پاکستان بنے گا۔ مسلمانوں نے شاندار اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرکے الگ وطن حاصل کر لیا لیکن آج اتحاد کی ان صفوں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور ہر کوئی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانا چاہتا ہے اور بندوق کی نوک پر اپنے عقائد دوسروں پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔ کیا یہی قائدؒ اور اقبالؒ کا خواب تھا۔ کیا شہداء نے اسی لئے اپنی جانیں قربان کی تھیں، یقینا نہیں۔ اس قوم کو آج بھی ”ابراہیم“ چاہیئے، کوئی ایسا قائد چاہیئے جو کرپشن کے بتوں کو پاش پاش کرسکے۔ جہالت، غربت کا خاتمہ کرے اور امیر اور غریب میں بڑھتی ہوئی تقسیم کو کم کر سکے اور قومی وسائل کی لوٹ مار کو روک سکے۔ اشرافیہ اور عام آدمی میں فرق نہ رہنے دے۔ یہ تھا پاکستان بنانے کا اصل مقصد۔ آج کا پاکستان قائدؒ کا پاکستان ہے، نہ اقبالؒ کا پاکستان۔
وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہا ناامیدی کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہمیں مل کر ناامیدی کو دریابرد کر دینا چاہیئے۔ آج احتساب کی باتیں وہ کرتے ہیں جو سر سے پاﺅں تک کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ احتساب کا نعرہ لگانے والوں کے دائیں بائیں وہ لوگ کھڑے ہیں جنہوں نے اس قوم کے اربوں کھربوں روپے معاف کرا رکھے ہیں اور جنہوں نے اس شہر میں قبضوں کی داستانیں چھوڑی ہوئی ہیں۔ اربوں کھربوں کے قرضے ہڑپ کرنے کے بعد ایسے عناصر کو احتساب کی باتیں کرنا زیب نہیں دیتا۔ اب جب وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں ہر شعبے کی بہتری کیلئے کام شروع ہو چکا ہے تو اس پر یہ لوگ دھرنے دینا چاہتے ہیں۔ کیا پاکستان اس لئے بنا تھا۔70 برس میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا، اب اس کا کڑا احتساب کرنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کشمیر میں بے گناہ مسلمانوں کا خون گر رہا ہے اور وادی سرخ ہو گئی ہے۔ بھارتی افواج معصوم کشمیریوں کا قتل عام کر رہی ہیں اور آزادی کی تحریک کو دبایا جا رہا ہے اور ہم صرف بیان جاری کرنے کے علاوہ کوئی سکت نہیں رکھتے۔ پاکستان مضبوط ہوتا تو بھارت کی یہ مجال نہ تھی وہ کشمیریوں کو ہاتھ لگاتا۔ کشمیر ضرور بنے گا پاکستان اور یہ بالکل اسی طرح ہوگا جس طرح مشرقی جرمنی خود مغربی جرمنی کی جھولی میں آ گرا اور دیوار برلن ٹوٹ گئی۔
پورے ملک میں خادم اعلیٰ کے نام سے شہرت پانے والے محمد شہباز شریف نے بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب منصب سنبھالنے کے بعد پہلے خطاب میں کہا تھا کہ وہ اپنے آپ کو وزیراعلیٰ نہیں بلکہ خادم تصور کرتے ہیں۔گزشتہ تقریباً ساڑھے سات سالہ اقتدار میں عملی اقدامات کی بناء پر انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ وزیراعلیٰ نہیں بلکہ واقعی خادم اعلیٰ ہیں۔ اقتدار میں عام آدمی کی فلاح و بہبود کے لئے جو انقلابی اقدامات انہوں نے اٹھائے ہیں وہ دوسرے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے لئے قابل تقلید ہے کیونکہ صوبہ خیبرپی کے،سندھ ،بلوچستان ،آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان اور فاٹا سے بھی صدائیں بلند ہو رہی ہیں کہ ہمیں بھی ایک خادم پنجاب محمد شہباز شریف چاہیے۔پانامہ لیکس میں ان کے نام کوئی آف شور کمپنی نہیں اور نہ ہی ان کے بیٹوں کے نام پر کوئی اکاو ¿نٹس ہیں۔کرپشن کے خلاف جہاد کرتے ہیں۔قومی خزانے کی ایک ایک پائی قوم کی امانت سمجھتے ہیں اور اپنی ذات سے متعلق یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر ان پر کرپشن ثابت ہو جائے تو مرنے کے بعد ان کی لاش کو پھانسی پر لٹکایا جائے۔
پنجاب کے عوام کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں محمد شہباز شریف جیسا حکمران نصیب ہوا ہے۔محمد شہباز شریف میں عوام کی خدمت کا اس حد تک جنون پایا جاتا ہے کہ ناساز طبیعت اور ڈاکٹروں اور اپنے بڑے بھائی وزیراعظم محمد نواز شریف کے منع کرنے کے باوجود بھی عوام کی مشکلات اور مسائل کے حل کیلئے رات کے ایک بجے تک کام کرتے ہیں صبح پانچ بجے اٹھ کر مختلف جاری ترقیاتی سکیموں کا دورہ کرتے ہیں۔تھانوں اور ہسپتالوں کا بھی اچانک معائنہ کرتے ہیں۔محمد شہباز اپنی محنت ،لگن ،ذمہ داری اور جانفشانی سے کام کرنے کی بین الاقوامی سطح پر بھی خاص شہرت رکھتے ہیں۔محمد شہباز شریف سیاست کو عبادت کا درجہ دیتے ہیں۔غریب کی غربت کا مذاق اڑانے کے بجائے اس کی دادرسی اور دلجوئی کرتے ہیں۔مظلوموں کی فریاد سنتے ہیں اور ظالم کا ہاتھ روکتے ہیں۔یتیموں اور بیواو ¿ں کے سروں پر شفقت کا ہاتھ رکھتے ہیں۔عوام کی خدمت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ جس طرح محمد شہباز شریف عوام کی خدمت کے لئے دن رات کام کر رہے ہیں باقی تین صوبوں کے وزیراعلیٰ بھی محمد شہباز شریف کی تقلید کریں تو پاکستان کی تقدیر بدل جائے گی۔