- الإعلانات -

دہشت گردی کی جنگ کے بارے میںسکالروں کی رائے

مشہور تا ریخ دان، ماہر اقتصادیات، صحافی ، مقرر، لیکچرر، امریکہ کے اندرونی اور خارجہ پالیسی کے نقاد، تین کتابوں کے مصنف، ڈیمو کریٹک پا رٹی کے ممبر ویبسٹر ٹراپلی نے ایک ٹاک شو میں افغانستان اور دہشت گر دی کی جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اصل میں دہشت گر دی جنگ کو پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر نے کے لئے شروع کی ہے اور امریکہ کی کو شش ہے کہ افغانستان جنگ کو پاکستان میں منتقل کیا جائے ۔ ویبسٹر تراپلی کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اتحا دی افغان جنگ کو پاکستان منتقل کرنے میں کافی حد تک کامیاب بھی ہو گیا ہے ۔ ویبسٹر ٹراپلی کا کہنا ہے کہ 11 ستمبر کا واقعہ امریکی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے اہل کاروں نے false flage Operation یعنی ایک نام نہاد جنگ کے لئے تیار کیا تھا تاکہ امریکہ کو بغیر کسی حجت کے اور بلا روک ٹوک کسی ملک کے خلاف کا روائی میں مشکل نہ ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈرون حملے اس سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ ویبسٹر تراپلی کا کہنا ہے کہ ہر منگل کو وائٹ ہاﺅس میں ایک میٹنگ ہوتی ہے جس میں صدر اوباما کو ایک لسٹ پیش کی جاتی ہے اور سی آئی اے کی ہٹ لسٹ پر، بڑی بڑی شخصیات کو قتل کر نے کے لئے اوباما با قا عدہ اجا زت دیتے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ امریکہ افغان جنگ پاکستان اسلئے منتقل کر نے کی کو شش کر رہا ہے تاکہ پاکستان کو نسلی اور لسانی بنیادوں یعنی پختونوں ، بلو چیوں ، پنجابیوں ، سندھیوں، شیعہ سُنی اور دوسرے گروہی لائنوں پر منقسم اور تو ڑا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے سوڈان کو دوحصوں ، عراق کو تین گروہوں ، سربیا کو بھی کئی گروہوں میں تقسیم کیا اور اب انکی کو شش ہے کہ لیبیا اورشام کو گروہی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کیاجائے۔ گا رڈین اخبار کے ایک محقق اور سکالر مائیکل میچر لکھتے ہیں کہ دہشت گر دی کی جنگ بو گس اور فراڈ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی دہشت گر دی کی جنگ اور 9/11 کے واقعات جو امریکہ کی خفیہ اداروں نے بنا ئی تاکہ دوسرے ممالک پر حملوں کے لئے اور یا ان پر قبضہ کرنے کے لئے جواز بنا یا اور راستہ ہموار کیاجائے۔ایک اور بڑے سکالر جو فلجز کہتے ہیں کہ دنیا کی سبب سے بڑی دہشت گر دی کی بنیاد امریکہ میں ہے۔ انڈیپنڈنٹ میں پیٹرک کوک برن لکھتے ہیں کہ دراصل دہشت گر دی کی جنگ ، دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔پیو جو ایک عالمی سروے اور ریسرچ ادارہ ہے اُنکا کہنا ہے کہ امریکہ خلیج کے تیل پر اس جنگ کی وجہ سے قابوکرنا اور دنیا پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ کے ایک مشہو ر سکالر اور سیاسی نقادچو مسکی نے کہا کہ پو ری دنیا میں بین الاقوامی دہشت گر دی کا سبب بڑی طاقتیں ہیں جسکی روح رواں امریکہ ہے۔ افغانستان پر امریکہ کے حملے کے بارے میں چومسکی کہتے ہیں کہ بے گنالوگوں کو قتل کرنا دہشت گر دی ہے بلکہ دہشت گر دی کی جنگ نہیں۔ نیو یارک ٹائمز لکھتے ہیں (2007) کہ عراق پر امریکہ کے حملے اور ان پر قبضہ کر نے سے نئی نسل میں اسلامی رجعت پسندی اور انتہا پسندی کو ابھر نے کو مو قع ملا اور دہشت گر دی کے تمام خطرات 9/11کے بعد مزید بڑھ گئے۔ سال 2007میں بی بی سی ایک سٹڈی رپورٹ میں کہتے ہیں کہ دہشت گر دی کی جنگ ، دراصل دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔اس سٹڈی میں 2003 کے عراق حملے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گر دی کی سب سے بڑی وجہ دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی وجہ ہے۔ اگر ہم امریکہ کی دہشت گر دی کی جنگ پر نظر ڈالیں تو براﺅن یو نیو ر سٹی کے مطابق امریکہ کی دہشت گر دی کی جنگ پر 5 ٹریلین ڈالریعنی 5 ہزارارب ڈالر خرچ ہوئے۔ علاوہ ازیں اس جنگ میں 4 لاکھ لوگ قتل ، 8 لاکھ لوگ زخمی ، 80لاکھ لوگ نقل مکانی پر مجبو ر ہو گئے۔اگر اس جنگ پر خرچے کی فی کس امریکی خرچے کا اندازہ لگائیں تو اس سے امریکہ کی فی کس 16 ہزار ڈالر اور چار ممبر فیملی کو 64ہزار ڈالر کا نُقصان ہو تا ہے ۔ علاوہ ازیں اس جنگ سے پاکستان کو بھی بے تحا شا نُقصان ہوا ۔ اس جنگ کی وجہ سے پاکستان کی معیشت 100ارب ڈالر کا نُقصان ہوا۔ 50 ہزار بے گناہ لوگوں کا قتل عام ہوا اور 7 ہزار قانون نا فذ کرنے والے اداروں کے اہل کار شہید ہوئے۔ علاوہ ازیں ملک کا بنیادی ڈھانچہ بالکل تباہ و بر باد ہوا۔ وہ ممالک جنکی پاکستان نے منصوبہ بندی کی تھی وہ ہم سے کئی گنا آگے نکل گئے۔ مگر مُجھے پاکستانی اور امریکی حکمران بتا دیں کہ امریکہ اور پاکستان نے اس جنگ سے کیا کمایا ۔ کیا اتنے زیادہ وسائل خرچنے کے با وجود دھشت گر د اور انتہا پسند ختم ہوگئے۔ کیا اتنی خطیر رقم خرچنے کے کے بعد دنیا میں امن اور سکون آگیا۔ کیا مستقبل میں اس جنگ سے سکون اور امن آئیگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں کچھ شر پسند ملک کی بگڑتی ہوئی امن و آمان سے فائدہ اُٹھا کر تخریب کاری اور دہشت گر دی میں ملوث ہیں مگر اس میں بھارت،اسرائیل اور امریکہ خصو صی طور پر ملو ث ہے۔ہمیں اندرونی اور بیرونی دہشت گر دوں دونوں پر نظر رکھنی چاہئے۔ ہمیں صرف طا لبان رٹنے کے بجائے امریکہ ، انڈیا اور امریکہ کانام بھی لینا چاہئے۔ مرحوم جنرل حمید گل نے ایک انٹر ویو میں کہا تھاکہ بھارت آج سے تیس سال پہلے کسی بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے کے عوص ایک لاکھ روپے دیتے تھے اب تیس سال بعد وہ تخریب کار کو دھماکے اور ان دھماکے میں ہلاک ہونے والے فی کس کا کتنے پیسے دیتے ہو نگے