- الإعلانات -

حکمران ہر حا ل میں مز ے میں

ملک میں قتل و غا ر ت کا با زار گر م ہے ۔ کو ئٹہ میں وکلا ءپر قیا مت گز ری ۔ شہر میں قیا مت بر پا تھی ، دہشت گر دو ں نے ہسپتا ل میں خو دکش حملہ کر کے پیغا م دیا ہے کہ با زار ہو ں کہ شہر کے ہسپتا ل ڈ اکٹر ہو ں پر و فیسر ، شیعہ ہو ں کے سنی ، پٹھا ن ہو ں کہ بلو چ ، پو لیس ہو کہ فو جی، جو ان ،خوا تین ہو کہ بزرگ ! دکا ند ار ہوں کہ سردار ہم سے دو ر ہوںکہ نز دیک وہ ہما رے نشا نہ سے با ہر نہ ہیں ۔ ملک میں کو ئٹہ کے واقعہ نے جو پر یشا نی و خو ف پید ا کیا ہے ۔ اسے عوا م نے بڑ ی دیرتک محسو س کر نا ہے ۔ مگر خوا ص اور سیا ستد انو ں اور حکمرا نو ن نے ا س واقعہ پر اپنی اپنی زبا ن بو ل کر اپنے آ پ کو انسا ن دو ست نہیں انسا ن دشمن ثا بت کیا ہے ۔ ملک میں دہشت گر دی کے ایک ہزار واقعے ہو چکے ! مر نے والو ں کی تعداد کا شما ر مشکل ہے عمو ما ً مر نے والو ں میں ، وزیر مشیر ، جنر ل ، ججز ، وغیر ہ شا مل نہ ہیں عمو ما ً مر نے والے عا م لو گ مزدور ، کلر ک ،استا د ، دکا ند ار ،سپا ہی آ تے ہیں ،اور سر دار ان عا م لو گو ں کے مرنے کو جا نو ر کے برابر ہی تصو ر نہیں کر تے ! اور نہ ہی یہ وڈیر ے لو گ ملک کے کسی نقصا ن کو نقصا ن تصو ر کر تے ہیں ۔ ملک سیلا ب کی تبا ہ کا ر یو ں کا شکا ر ہر سا ل ہو تا ہے۔ اور لا کھو ں عا م لو گ سیلا ب سے متا ثر ہو تے ہیں ۔ ہر سا ل کئی ہزارکسا ن مزدور نہ صر ف سیلا ب سے اپنے کچے مکا نا ت سے ہا تھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ فصلا ت کو تبا ہ کر بیٹھتے ہیں ۔ جا نو رو ں ، بچو ں کی قر با نی پیش کر تے ہیں ۔ ہر سا ل یہی سلسلہ جا ری رہتا ہے ۔ مگر حکمر انو ں نے آ ج تک اس مسلسل جا ری رہنے والے عذاب کا آ ج تک کو ئی حل نکا لنے کی کو شش تک نہ کی ہے ! ہر سا ل کر پشن کی مد میں اربوں روپے سر کا ری اہلکا رو ں کی جیبو ں میں چلے جا تے ہیں ۔ قو می تر قی اور ضر ور ت کے منصو بے سیا ست کی نظر ہو جاتے ہیں ۔ نہ حکمر ان ان قو می منصو بو ںکو شر وع کر تے ہیں ۔ اور نہ ہی ذمہ دار اعلیٰ افسران ان منصو بو ں کو چلا نے کےلئے منصو بہ بند ی کر تے ہیں مسئلہ کشمیرہو کہ افغا ن با رڈز کا معا ملہ ان معا ملا ت اور مسا ئل کو حل کر نے کےلئے قو می سطح پر کو ئی پا لیسی اختیا ر نہیں کی جا تی ، جس کا نقصا ن ممبر ان ، اسمبلی ، امراءافرا ء، سر دار اور وڈیر و ں یا بیو رو کر یسی نہیں بلکہ غر یب عوام کو ہو تا ہے ۔ اگر مسئلہ کشمیر کو قو می اور ملکی مسئلہ سمجھا جا تا ۔ اس مسئلہ کو بین الا قو می سطح پر اٹھا یا رکھا جا تا ۔ اقوام متحد ہ سے تعا ون اس مسئلہ کے حل سے مشر و ط کر دیا جا تا ۔ مسلم امہ کو اس مسئلہ پر اعتما د میں لیکر اس سے اس مسئلہ کے حل کےلئے ما لی جا نی ، اخلا قی سیا سی سفا رتی مد د لی جا تی ۔ اور ہند و ستا ن سے اس مسئلہ کے حل تک تعلقا ت کو منقطع رکھنے کی پا لیسی اپنا ئی جا تی تو آ ج روز انہ کشمیر ی اپنے جا ن ما ل اور عزت کی قر با نی نہ دے رہے ہو تے ! عر ضیکہ حکمران طبقہ نے مسئلہ کشمیر جو کہ دراصل عوام کا مسئلہ ہے اس کے حل کےلئے نہ اس مسئلہ پر مسلم امہ کو استعما ل کیا ہے اور نہ ہی اقوام متحد ہ میں اس مسئلہ کے حل کےلئے عملی کو شش کی گئی ہے ۔ مشر قی تیمو ر اور سو ڈا ن کے عیسا ئیوں نے آ ج تحر یک آ زادی شر وع کی اور کل ان کو اقوام متحدہ اور مسلم دنیا کے مخا لفین نے آزاد ملک دیکر ان کو امن اور سلا متی کے سا تھ رہنے کے مو اقع فر ام کئے ۔ ادھر کے کشمیر یو ں نے ہند و ستا نی قبضے کے خلا ف 50سا ل پہلے تحر یک آزادی شروع کی اور اس تحر یک میں شہید ہو نے والی ہزاروں جا نو ں کی قر با نی کے با و جو د کشمیر یو ں کو آ زادی نہ ملی۔ کشمیر کے ایشوپر ہم بھا ر ت سے تین چا ر جنگین لڑ کر کھر بو ں روپے آگ ، با رود اور اسلحہ پر صر ف کر چکے ! مگر بے سود ! ان جنگو ں میں شہید ہو نے والے غر یب اور عا م لو گ ہیں ۔ اس مسئلہ سے ما لی طو ر پر متا ثر ہو نے والے بھی عا م لو گ ۔ اس مسئلہ کے لئے حکمر انو ں نے کو ئی مضبو ط اور مفید مو قف اختیا ر تک نہ کیا ۔ اگر ہم بھا رت سے اپنے تعلقا ت منقطع رکھتے تو دنیا ہما رے مو قف کو تسلیم کر تے ہو ئے بھا رت کو اس مسئلہ کے حل کےلئے مجبو ر کر تی ! چو نکہ یہ مسئلہ ملک اورقوم کا ہے۔ کسی وزیر مشیر ، جنر نیل کا ذاتی نہیں ! اسلئے یہ مسئلہ نصف صد ی کی جد و جہد کے با وجو د حل ہو تا نظر نہیں آ تا ! اور نہ ہی اس پر کو ئی قو می سطح کا مو قف اختیا ر کیا جا تا ہے ! ادھر کو ئٹہ میں بے شما ر لو گو ں کے ما ر ے جا نے پر بجا ئے اس کا کو ئی حکمرا ن حل پیش کر تے ۔ دشمن کے خلا ف کو ئی مر بو ط کا روا ئی کر تے !اپنے ہی جنگ سے بر سر بیکار لو گو ں کے خلا ف زیر افشا ئی کر نے لگے ! دشمن ملک اور دشمن قو تو ں کے خلا ف آواز بلند کر نے کی بجا ئے حکمران کی اپنی سپاہ کے خلا ف کی بیا ن باز ی ملک دشمن کے بر ابر ہے ۔ ان وڈیر و ں، سر دارو ںکو قوم اور ملک سے کو ئی غر ض نہیں ۔ وہ قوم کو جنگ سے نکالنے اور دشمن کو شکست دینے کی بجا ئے اپنی ہی افواج پر تنقید کر کے قوم کو کمز ور اور دشمن کو مضبو ط کر نے میں مصر وف ہیں ! جس ملک کی قیا دت کا یہ کر دا ر ہو گا ! اس ملک کے مسا ئل حل نہیں ہو تے بلکہ اس کے مسا ئل اور مشکلا ت میں اضا فہ ہو تا رہتا ہے ۔ اور حکمر ان ہر حال میں مز ے کر تے ہیں !