- الإعلانات -

سازش کی انتہا

4 جولائی کو جب ارض مقدس سعودی عرب میں دہشت گردی کے ایک ہی روز تین واقعات رونما ہوئے تو عالم اسلام میں تشویش کی لہردوڑ گئی تھی ۔ دہشت گردی کا یہ واقعہ ماہ رمضان کے آخری ایام اور عیدالفطر سے دو روز قبل عین افطاری کے وقت ہوا ۔ان میں ایک واقعہ مسجد نبوی کے قریب جبکہ ایک واقعہ جدہ میں امریکی قونصلیٹ کے باہر ہوا۔ واقعہ جہاں بھی ہو وہ قابل مذمت ہوتا ہے مگر مسجد نبوی کے قریب ایسی کارروائی سے عالم اسلام کے ہر فرد میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ۔ اگرچہ سعودی عرب میں ایسے واقعات کم ہوتے ہیں لیکن دہشت گردی کی تاریخ بہرحال پچاس سال پر مشتمل ہے۔ سعودی حکومت ان سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت سخت قوانین نافذعمل رکھتی ہے اور عملاً ایسے عناصر کی بیخ کنی کیلئے سخت سزاﺅں پر بھی عمل درآمد کرتی ہے لیکن اس کے باوجود اکا دکا واقعات کا رونما ہونا اچھنبے کی بات نہیں ہے کیونکہ بین الاقوامی قوتیں ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت عالم اسلام کو نشانے پر رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ کچھ عرصہ میں سعودی عرب جو مقابلتاً دیگر عرب ممالک کی سازشوں سے محفوظ تصور کیا جارہا تھا اب ان سازشوں کی زد میں آگیا ہے ۔تازہ دہشت گردانہ واقعات انہی سازشوں کی کڑیاں ہیں۔4 جولائی کی دہشت گردی پر امت مسلمہ کی تشویش تو اپنی جگہ مگر پاکستان کیلئے اس میں خاص تشویش کی بات یہ تھی کہ امریکی قونصلیٹ کے سامنے ہونے والی کارروائی کے حملہ آور مبینہ عبداللہ گلزار کے ڈانڈے پاکستان سے ملا دئیے گئے۔ عرب میڈیا سے بار بار عبداللہ گلزار کو پاکستانی نیشنل کے طورپر اچھالا گیا ۔ پاکستانیوں کیلئے یقیناً یہ بات تشویشناک تھی۔خود پاکستان کیلئے یہ ایک پریشان کن صورتحال تھی۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ پاکستان جو مقدس سرزمین کو اپنے سر کا تاج سمجھتا ہے اسکے خلاف کوئی پاکستانی ایسی بیہمانہ حرکت کر گزرے ۔ یقیناً اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ پاکستان نے اس واقعے کی کھل کر سخت الفاظ میں مذمت کی اور سعودی حکومت کو اپنے تعاون کا ہر ممکن یقیناً دلایا ۔ عام پاکستانی بھی اس بات کو سمجھتا تھا کہ ایسا ممکن نہیں ہے یقیناً اس سارے واقعہ کے پیچھے کوئی لمبی منصوبہ بندی اور سازش کارفرما ہو گی۔حالات و واقعات کی کڑیاں ملانے سے اگلے روز ہی حقیقت سامنے آنے لگ گئی تھی کہ عبداللہ گلزار نامی دہشت گرد پاکستانی نہیں بلکہ اس کے پاس جعلی پاکستانی شناختی کارڈ ہے جسے پاکستان کے خلاف استعمال کیاگیا۔ ابتدا ہی میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ جعلی شناخت والا کوئی افغانی ہوسکتا ہے یا پھر کسی اور ملک سے اسے بھیجا گیا ہے چنانچہ بعدازاں تحقیقات کا عمل تیز ہوا تو حیران کن انکشافات سامنے آئے اور ان خدشات کو تقویت ملی، جب اپریل میں بھارتی وزیراعظم سعودی عرب کے خصوصی دورے پر وہاں گئے تھے اور اپنے خفیہ عزائم کا کہیں نہ کہیں اظہار بھی کرتے رہے۔ مودی کے دورہ سعودی عرب پر پاکستان میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس دورے کے پس پردہ مقاصد سعودی عرب اور پاکستان میں دراڑ ڈالنا ہے، چاہے اس کیلئے اسے جہاں تک جانا پڑے ۔ چنانچہ اس دورے کے بعد اس کے منفی اثرات محسوس کیے جانے لگے تھے۔یہ ایک طویل بحث طلب موضوع ہے تاہم دہشت گردی کے اس واقعہ کے بعد پاکستان کو ملوث کرنے کی سازش پاکستان نے محسوس کرلی۔ عبداللہ گلزار نامی دہشت گرد کی جب چھان پھٹک کی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ پاکستانی نہیں بلکہ ایک بھارتی شہری ہے جو وہاں کی ایک تنظیم انڈین مجاہدین کا سابق کارکن ہے۔ عبداللہ گلزار کا اصل نام ذوالفقار فیاض احمد کاغزی کے طورپر سامنے آیا جو مہاراشٹرا کا رہنے والا تھا۔انڈین مجاہدین نامی تنظیم کے ساتھ کافی عرصہ کام کرتا رہا لیکن بعدازاں اختلافات کے باعث اس نے تنظیم سے علیحدگی اختیار کرلی اور اپنی تنظیمی قیادت سے انتقام لینے کیلئے ”را“ کو جوائن کرلیا۔ ”را“ جو اس دہشت گرد تنظیم کی بیخ کنی کےلئے سرگرم تھی ان کی شکل میں اس کے ہاتھ ایک اہم مہرہ لگ گیا چنانچہ ”را“ نے جان بخشی کے عوض اسے خاص ٹاسک سونپ دیا ۔ رپورٹس کے مطابق 2006 میں انڈین مجاہدین نامی مذکورہ تنظیم کا ایک سرگرم کارکن ذبیح الدین انصاری ابو جندل ”را“ کو چکمہ دے کر کسی طرح غیر قانونی طورپر پاکستان داخل ہوا تو اس کے تعاقب اور گرفتاری کیلئے عبداللہ گلزار کو بھی غیر قانونی طورپر پاکستان د اخل کردیا ۔یہاں آکر اس نے پہلا کام جعلی شناختی کارڈ حاصل کیا۔یہاں آکر اس نے پاکستان کی کالعدم تنظیموں میں گھسنے کی کوشش کی تاکہ اس کے ذمے لگائے گئے ٹاسک کو جلد حاصل کیا جاسکے لیکن اس سلسلے میں اسے کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی ۔بتایا جاتا ہے کہ اسی دوران ذبیح الدین انصاری پاکستان چھوڑ کر سعودی عرب چلا گیا ۔ پھر جب عبداللہ گلزار اصل نام ذوالفقار فیاض کو معلوم ہوا تو وہ اس کے پیچھے سعودی عرب جا نکلا۔پاکستان میں قیام کے دوران وہ ”را“ کے رابطے میں رہا اور ذبیح الدین ابو جندل کے بارے میں معلومات آگے بھیجتا رہا۔ ابو جندل کے سعودی عرب جانے پر ”را“ کا کام آسا ن ہوگیا اور جون 2012ءمیں سعودی حکومت نے ذبیح الدین ابو جندل کو پکڑ کر بھارت کے حوالے کردیا ۔ اس کے بعد ذوالفقار فیاض کو دوبارہ پاکستان جا کر انڈین مجاہدین تنظیم کے مزید کارکن ڈھونڈنے کا ٹاسک سونپا گیا چنانچہ وہ پھر پاکستان آگیا۔جہاں وہ ایک بار پھر کالعدم تنظیموں میں گھسنے کی کوشش کرتا رہا لیکن ایک بار پھر اسے ناکامی ہوئی مشکوک سرگرمیوں کے باعث جب مختلف حساس ادارے اس کے تعاقب میں پڑے تو وہ 2014 میں ایک بار پھر سعودی عرب بھاگ نکلا ۔ وہاں جاکر اس نے داعش سے رابطے شروع کردئیے ۔ معلوم ہوا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کو اس بارے میں معلوم ہوچکا تھا کہ ان کا ایجنٹ داعش کے قریب ہوچکا ہے لیکن اس نے سعودی حکومت کو اس بارے آگاہ نہ کیا۔ یوں جب یہ دہشت گردانہ کارروائی ہوئی تو سب سے پہلے بھارتی میڈیا نے اس پر شور مچایا اور اسے پاکستانی ظاہر کیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک بھارتی تھا جسے ”را“ نے پاکستان اور سعودی تعلقات خراب کرنے کیلئے استعمال کیا۔ صد شکر کہ سعودی عوام نے اسے زیادہ سنجیدگی سے نہ لیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ کوئی پاکستانی ایسی حرکت نہیں کرسکتا۔