- الإعلانات -

مسئلہ کشمیر کا حل ہی پائیدار امن کا ضامن

 بھارت نے پاکستان کی طرف سے کشمیر پر مذاکرات کی پیشکش پر مشروط آمادگی ظاہر کردی ہے اس آمادگی کا پیش خیمہ پاکستان کی وزارت خارجہ کا خط قرار پایا جس میں مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر باقاعدہ بات چیت کا کہا گیا لیکن بھارتی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت بات چیت کیلئے تیار ہے لیکن مذاکرات کا محور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی ہونا چاہیے ۔ پاکستان کو جوابی خط خارجہ سیکرٹری ایس جے شنکر کی طرف سے لکھا گیا ہے بھارتی ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ بھارت اب بھی مقبوضہ کشمیر کوانڈیا کا اٹوٹ انگ حصہ گردان رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ پاکستان کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ مقبوضہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر متنازعہ علاقہ تسلیم کیا جاتا ہے ۔ کشمیریوں کی حق خودارادیت کی تحریک کوختم نہیں کیا جاسکتا ۔ مسئلہ کشمیر کا حل صرف پاک بھارت مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ بھارت سرحد پار ہونے والی دہشت گردی کا الزام پاکستان کے سر تھوپ کر خود کو بری الذمہ نہیں کرسکتا یہ بھارتی پروپیگنڈہ بے سروپا اور من گھڑت ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ بھارت”را“ کی پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کو چھپانے کی جو کوشش کررہا ہے وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگی کیونکہ پاکستان کے پاس ”را“ کی دہشت گردی کے ٹھوس شواہد ہیں اور دنیا کو بھارت بے وقوف نہیں بنا سکتا اور نہ ہی ہمدردی حاصل کرسکتا ۔ بھارت صرف دہشت گردی پر بات کرنے پر بضد ہے لیکن پاکستان بھی مسئلہ کشمیر پر مذاکرات چاہتا ہے پاکستان کی شروع سے کوشش رہی ہے کہ پڑوسی ملک کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار رہیں اور متنازعہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے لیکن بھارت کا مخاصمانہ رویہ ہی رکاوٹ ہے بھارت کی دوعملی پاکستان کے امن مشن کو سبوتاژ کررہی ہے۔ بھارت برسوں سے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت نہیں دے رہا اور نہ ہی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں پر عمل کررہا ہے بھارت کی بربریت اور سفاکی دیکھ کر ابن آدم کا دل خون کے آنسو روتا ہے ۔ بھارتی فوج جس طرح کشمیریوں کو مشق ستم بنا رہی ہے یہ عالمی برادری کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا فوری نوٹس لینے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت اس وقت تک کرتا رہے گا جب تک کشمیریوں کو حق خودارادیت نہیں دیا جاتا ۔ بھارت ہٹ دھرمی کو چھوڑے اور نیک نیتی سے مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کرے جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا اس وقت تک خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکے گا ۔ تقسیم ہند کے وقت ریڈ کلف کی غیر منصفانہ تقسیم سے گورداسپور، بٹالہ ، کوٹ پٹھان اور زیرہ کے کئی علاقے بھارت کو دئیے گئے ۔ یہ بو یا ہوا بیج آج بھی پاک بھارت کیلئے تنازعہ بنا ہوا ہے ۔ اقوام متحدہ بھارت کی جارحیت کا نوٹس لے اور مسئلہ کشمیر کے ادراک کیلئے اپنا کردار ادا کرے ۔ آخر کب تک مقبوضہ کشمیر کے عوام ظلم و ستم کا نشانہ بنتے رہیں گے ۔ پاکستان بھارت سے مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنے کا خواہاں ہے لیکن بھارت سرحد پار دہشت گردی کا بہانہ بنا کر بھان متی کا کردار ادا کررہا ہے ۔ یہ مسائل کا حل نہیں پاکستان کشمیر پرمذاکرات کا خواہاں ہے اور یہ واحد راستہ ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان فاصلوں کو کم کرسکتا ہے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قابض ہے جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ ہٹ دھرمی اور جارحیت بھی ہے۔ بھارت دہشت گردانہ سوچ سے باہرنکلے اور خطے کے امن کو تباہ ہونے سے بچائے مسئلہ کشمیر ہی خطے میں پائیدار امن کا ضامن ہے۔ اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار تو کررہا ہے لیکن مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھی اس کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ مقبوضہ کشمیر پر بھارتی بربریت تحریک آزادی کو نہیں روک سکتی ۔ پاکستان کا مسئلہ کشمیر پر موقف واضح ہے ۔ بھارت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کرے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تناظر میں مسئلہ کشمیر کو حل کرے یہ یہ وہ راستہ ہے جو امن کی طرف جاتا ہے عالمی برادری کو بھارتی جارحیت اور دہشت گردی پر چپ سادھے نہیں بیٹھا رہنا چاہیے۔ امریکہ 80 شہادتوں پر آنکھیں اور کان بند کیے بیٹھا ہے اور اس کا جھکاﺅ بھارت کی طرف ہے حالانکہ پاکستان ”را“ کی دہشت گردی کے ثبوت دے چکا ہے اور امریکہ بھارت پر دباﺅ ڈالنے کی بجائے بھارت کا ساتھ دے رہا ہے جو اس کے عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے اور دنیا اس کے کردار سے نا آشنائے محض نہیں ہے۔
پیپلز پارٹی کا حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کا اعلان
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی ستمبر میں حکومت کے خلاف سڑکوں پرآئے گی ۔ حکومت پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے ٹی او آرز پر ٹس سے مس نہیں ہوئی حکومت کچھ لچک دکھائے تو بات چیت شاید آگے بڑھ سکے۔ گالیاں دینا اور لڑنا میری سیاست نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ چوہدری نثار ہمیں بتائیں کہ وہ کون شخص تھا جو ایان علی اور ڈاکٹر عاصم کیلئے ان کے پاس سفارش لے کر گیا ۔ چوہدری نثار نے کہا تھا کہ ہماری حکومت کے دوران ایک سال میں نظام ٹھیک نہیں ہوا تو استعفیٰ دے دوں گا جو بندہ اپنے لیڈر کو جیل میں دیکھ کر بھی گھر پر بیٹھا رہے وہ کیا استعفیٰ دے گا ۔ دوسری طرف عمران خان نے کہا ہے کہ کرپشن کے خلاف سڑکوں پر جنگ لڑتے رہیں گے ۔ فائنل میچ الیکشن ہوگا۔ نواز شریف احتساب سے خوفزادہ اور قوم سے جھوٹ بول رہے ہیں ۔اپوزیشن لیڈر اور چیئرمین تحریک انصاف کے بیانات کے تناظر میں دیکھا جائے تو سیاسی اُفق پر بادل گہرے ہوتے دکھائی دیتے ہیں جو کسی بھی وقت طوفان کا رخ اختیا رکرسکتے ہیں۔ حکومت ٹی او آرز پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور نہ کرسکی جس سے پانامہ کا ہنگامہ بڑھتا ہی جارہا ہے اور ہر طرف کرپشن کرپشن کی بازگشت سنائی دے رہی ہے ۔ تحریک انصاف پہلے ہی سڑکوں پر سراپا احتجاج ہے اور عوامی تحریک بھی تحریک قصاص چلائے ہوئے ہے اور اب حکومت کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے بھی ستمبر میں حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کا اعلان کردیا ہے جس سے حکومت کے خلاف سیاسی محاذ مضبوط ہوتا جارہا ہے اور حکومتی بے اعتنائی کا یہ عالم ہے کہ یہ ٹی او آرز کے معاملے کو سلجھانے میں ناکام ہے حالانکہ حکومت کا یہ فرض قرارپاتا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلے ان کے تحفظات کو دور کرے لیکن نواز حکومت کا یہ المیہ ہے کہ اس کے چند وزراءمعاملات کو ٹھنڈا کرنے کی بجائے الٹا گرما رہے ہیں جس سے حکومت آئے دن سیاسی بحران کا شکار ہوتی جارہی ہے ۔سیاسی جماعتوں کا پانامہ لیکس پر سڑکوں پر نکلنا حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہے اس معاملہ کا حل نکالا جاسکتا ہے لیکن صد افسوس کہ حکومت کی طرف سے سیاسی تدبر اور بصیرت سے کام نہیں لیا جارہا جس سے برداشت کا جمہوری کلچر فروغ نہیں پارہا اور محاذ آرائی کی راہ ہموار ہورہی ہے ۔ پیپلز پارٹی کا سڑکوں پر آنا حکومت کیلئے مسائل کھڑے کرسکتا ہے۔ حکومت مخالف چلنے والی تحریکیں اگر زور پکڑ گئیں تو پھ رحکومت سیاسی دلدل میں پھنس کر رہ جائے گی اس لئے حکومت ہوش کے ناخن لے اور سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلے اور ٹی او آرز کے معاملے کو اتفاق رائے سے حل کرے سیاسی عدم استحکام ملک اور قوم کیلئے نیک شگون نہیں اور جب تک سیاسی استحکام نہ ہو ملک ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن نہیں ہوسکتا۔