- الإعلانات -

”اوورسیزپاکستانیز کمیشن پنجاب “کی لائق تحسین کارکردگی

وزیراعلیٰ و چیئرمین اوورسیزپاکستانیز کمیشن پنجاب شہباز شریف نے اوورسیز پاکستانیز کمشن پنجاب کی پہلی سالگرہ اور جشن آزادی کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج انتہائی اہم دن ہے۔ دیارغیر میں لاکھوں کی تعدادمیںرہنے والے پاکستانی وطن عزیز کے عظیم سفیر ہیں اوران کے مسائل کے حل کیلئے قائم کیے گئے ادارے ”اوورسیزپاکستانیز کمیشن پنجاب “کی کارکردگی لائق تحسین ہے۔ پنجاب سے شروع کیے گئے اس کار خیر کو پورے ملک تک بڑھانے کی ضرورت ہے۔
اوورسیزپاکستانیز کے مسائل کے حل کے لئے جس جذبے اورمحنت کے ساتھ یہ ادارہ کام کررہا ہے اگرملک کے تمام ادارے اسی جذبے اورلگن کے ساتھ کام کرنے کا عہد کرلیں اورپوری قوم یکجان دوقالب ہوکرفیصلہ کرلے تویقینا ملک کے حالات برسوں میں نہیں بلکہ ہفتوں میں بدل جائیں گے اورپاکستان کو درپیش تمام چیلنجز اورمسائل حل ہوجائیں گے۔وزیراعلیٰ نے ان اضلاع میںون ونڈو سٹیشن قائم کرنے کا اعلان کیاجن اضلاع سے زیادہ لوگ دیار غیر میں قیام پذیر ہیں۔ عدالت عالیہ سے بات کر کے اوورسیزپاکستانیوں کے کیسوں کے حوالے سے علیحدہ عدالتیں بنانے کے حوالے سے جائزہ لیا جائے گا۔
برطانیہ ہو یا امریکہ یاناروے یا کوئی اورملک دنیا میںسو فیصد کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں۔ تاہم ان ممالک میں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے اور کسی بھی غلط کام پرقانون ایسا حرکت میں آتا ہے کہ کسی کو معاملے پر اثر انداز ہونے کی ہمت نہیں ہوتی اورنظام اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ اوورسیز پاکستانیز کمشن پنجاب نے بھی اسی طرز پر کام کرکے ایک اعلی مثال قائم کی ہے۔ اوورسیزپاکستانیز کمشن پنجاب نے بھی ٹیم ورک کا اعلی معیار قائم کیا ہے۔
وائس چےئرمین کیپٹن(ر) خالد شاہین بٹ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ وزیراعلیٰ شہبازشریف کے ذہن کی اختراع اور کاوشوں کا نتیجہ ہے۔میرٹ اور شفافیت اس ادارے کا نصب العین ہے۔کمشنر افضال بھٹی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی کارکردگی کے بارے میں آگاہ کیا اور بتایا کہ اب تک ادارے کو چار ہزار کے قریب شکایات موصول ہوئیں جن میں سے دو ہزار شکایات کا ازالہ کردیا گیا ہے۔ادارے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے بھر پور استفادہ کیا جارہا ہے اور تمام اضلاع میں کمیٹیاں پوری طرح متحرک ہورکر کام کررہی ہیں۔سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل کے حل کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی پورے ملک میں تحسین کی جارہی ہے اور آزاد کشمیر حکومت کی درخواست پر وہاں ایسے ادارے کے قیام کیلئے بھر پور تعاون فراہم کیا گیا ہے۔بیرون ممالک بسنے والے پاکستانی خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو سب اس ادارے کی کارکردگی کے معترف ہیں۔
پاکستان کو آج کئی مسائل کا سامنا ہے اور یہ مسائل ہمارے اپنے پیداکردہ ہیں۔ہمیں اجتماعی بصیرت اورکاوشوں سے ملک کو مسائل کے چنگل سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرناہے۔کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں اگر قوم ملک کی تقدیر بدلنے کا فیصلہ کرلے اور محنت ،امانت اوردیانت کوشعار بنا نے کا عزم کرلے تو منزل کے حصول میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوسکتی۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی مزید 7،8سال تک وفاکرتی تو یقینا پاکستان بھارت سے آگے ہوتا اوریہ مسائل کے گرداب میں نہ پھنسا ہوتا۔ بدقسمتی سے قائد اعظم اس دنیا ئے فانی سے رخصت ہوگئے اورقوم آج تک نئے قائد کی تلاش میں ہے۔ ایمانداری ،سچائی اورخلوص نیت سے عوام کی خدمت کرنے والی قیادت کو عوام ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔
وزیر اعلی نے انسپکٹر جنرل پولیس کو اوورسیز تھانوں کے قیام کے پروگرام پر جلد سے جلد عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اوورسیز تھانے ان شہروں میں ترجیحی طور پر بنائے جائیں جہاں سے لوگوں کی بڑی تعداد بیرون ملک مقیم ہے۔ اوورسیز تھانوں کے قیام کے بعد ایئر پورٹس پر فرنٹ ڈیسک بھی بنائے جائیں تا کہ بیرون ملک سے آنے والے پاکستانیوں کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو فوری طور فرنٹ ڈیسک سے رجو ع کر سکیں۔ اضلاع میں اوورسیز پاکستانیز کمشن پنجاب کے اجلاسوں میں متعلقہ اضلاع کے ڈی سی اوز اور ڈی پی اوز کی موجودگی ہر صورت یقینی ہونی چاہیے۔ چیف سیکرٹری ہر دوماہ بعد اوورسیز پاکستانیزکمشن پنجاب کے اجلاس کی صدارت کریں گے اور میں ہر تین ماہ بعد کمشن کی کارکردگی کا جائزہ لوں گا۔ میڈیکل کالجوں میں اوورسیز پاکستانیوں کے بچوں و بچیوںکے لئے میرٹ کی بنیاد پر 76 نشستیں مختص کر دی گئی ہیں۔
شہبازشریف نے تقریب کے دوران دلچسپ پیرائے میں بھی گفتگو کی جس سے اوورسیز پاکستانیز بہت محظوظ ہوئے۔ وزیراعلیٰ نے امریکہ کے شہر شکاگو میں مقیم علی حیدر ملک سے پوچھا کہ آپ کو آپ کی رقم کمیشن نے واپس دلائی ہے، کیا اس کیلئے کچھ دینا تونہیں پڑا؟ جس پر علی حیدر نے کہا کہ میں نے کچھ اور تو نہیں دیا لیکن مٹھائی اور گلاب جامن دیئے ہیں۔ جس پر شہبازشریف نے کہا کہ خوشی پر منہ میٹھا کرانا ہماری روایت ہے لہٰذا گلاب جامن کھلانا تو ٹھیک ہے۔اگر اس طرح محنت سے کام کیا جائے تو ہم مل کر پاکستان کو سدھار سکتے ہیں۔