- الإعلانات -

پو لیس اور سیا ستد ان

انسپکٹر جنر ل پو لیس پنجاب کو اند ھیر ے میں رکھا جا رہا ہے ۔ جو پو لیس عوام پسند کر تی ہے ۔ خوا ص انہیں پسند نہیں کرتے اور جنہیںخواص پسند کر تے عوام ان سے نفر ت کر تی ہے ۔ میانوالی کی پسما ند ہ اور پنجا ب کی پسما ند ہ تحصیل عیسیٰ خیل کے گا ﺅ ں کمر مشا نی کے چیئر مین ثنا ءاللہ خان تا نی خیل نے شکو ہ کر تے ہو ئے پو لیس کے چیف مشتا ق سکھیرا سے کہا کہ پو لیس حفا ظت اور امن دینے والا محکمہ ہے ! مگر پو لیس کے غیر معیا ری کر دار کی وجہ سے پو لیس عوام کی نظر و ں سے گر چکی ہے ۔ اور خواص پو لیس کو پسند کر نے لگے ہیں ۔ کیو نکہ عوام کےلئے پو لیس مصیبت اور دشمن اور مخا لف کا کر دار ادا کر تی ہے! اور خواص کا ایجنٹ بن کر تمام طا قت خو اص کےلئے اور خواص کے مخا لفین کے خلا ف استعما ل کر تی ہے ۔ یقینا جب پو لیس کا کر دار ایسا ہو گا ! ظلم بڑ ھے گا ! زیا دتی اور نا انصا فی عا م ہو گی ! طا قتو ر ظا لم اور کمز ور مظلو م ہو گا! ایسے ما حو ل اور معاشر ے میں پو لیس سے محبت نہیں نفر ت بڑ ھے گی ! میانوالی کاا یک تھا نہ مکڑ وال ہے !مکڑ وال پہا ڑی علا قہ ہے ! یہ پہا ڑ قد رتی معد نیا ت سے بھر ے پڑ ے ہیں ! کو ئلہ ان پہا ڑ و ں کا خزا نہ ہے !جو مقا می ممبر اسمبلی نے بےنظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دور میں اونے پو نے خر ید لی تھی ۔اور آج اس خزا نے کو خر ید نے والے کو ئلہ کے کا رو با ر سے روزانہ لا کھو ں روپے کما رہے ہیں ! کو ئلہ کی کا نو ں میں کا م کر نے والے مزدور اپنا خون پسینہ بہا کر کیا کچھ کما تے ہو ں گے ! کیو نکہ کو ئلہ کی دلا لی میں منہ کا لا ہو تا ہے! تو کو ئلہ کے نکا لنے کےلئے کا م کر نے والو ں کو کس مصیبت سے گزر نا پڑ تا ہو گا ! یہ الگ داستان ہے! کہتے ہیں کہ جس نے حکو مت کی حما یت کر کے ذخا ئر اپنے نام کرائے وہ Black Goldکے ما لک بنے اور جنہو ں نے کو ئلہ کو زمین کی تہہ سے نکا ل کر جا ن کی با زی لگا ئی وہ اسی جنگ میں زند گی ہا ر گئے ! اب یہ Black Goldکے ما لک پو لیس کے ما لک بننا چا ہتے ہیں ! بلکہ اس ملک کا کو ئی White Goldیعنی چینی کے کا ر خا نو ں کا ما لک ہے ۔ تو کوئی جا گیر و ں اور کا ر خا نو ں ! ملو ں ! فیکٹر یو ں کے ما لک ہیں یہ سب چا ہتے ہیں کہ ملک کے تما م وسا ئل کے ما لک ہو جا ئیں ! ملک کی تمام دو لت ان کے قبضے میں آ جائے ! ملک کا ہر مزدور ان کا ملازم ہو ! ملک کے تمام وسا ئل ان کے حصے میں آ ئیں اور پھر وہ ان سب کچھ کی ملکیت پر راضی نہیں ہو تے ! و ہ چا ہتے ہیں ملک کے تما م شہر ی اور تمام دیہا تی ان کے خادم یا ان کے ملا زم بن جا ئیں اور جو غلا می و ملازمت پر راضی نہ ہوں ! وہ پولیس کی معا و نت سے جیلو ں میں بند کر دئیے جا ئیں ! ثنا ءاللہ خان نے اخبا ری بیا ن میں جو الزام لگایا ہے ۔ اس کے مطا بق یہ وڈیر ے ! یہ سر دار ! یہ با اختیا ر لوگ تھا نو ں میںایسے لو گو ںکی تعینا تی کر انا چا ہتے ہیں ! جو تھا نو ں میں مقد ما ت کا اند راج ان کی مر ضی سے کر یں ! او ر اگر پو لیس کچھ مقد ما ت اپنی مر ضی یا حقا ئق پر مبنی واقعا ت کے مطا بق در ج کر یں تو اسیے مقد ما ت کو پو لیس خا رج کر ے ! کوئی منشیا ت ! جوا ء! چو ری کا ملزم بنے تو ان سرداروں کے اشا رے پر پو لیس ایسے ملزما ن بے گنا ہ تحر یر کر کے ان کی راہ ہمو ار کر ے ! یا پو لیس ایسے افراد کو چو ری ۔ قتل ، اور منشیا ت کے نا معلو م ملز ما ن کے واقعا ت میں ملو ث کر کے چا لا ن کر ے جو ان نا م نہاد سر داروں کے تا بع فر ما ن نہ ہو ں ۔ ثنا ءاللہ خا ن کا گلہ یہ بھی ہے کہ اکثر ایسے پو لیس افسران کو نہ توکسی ایسے افسر کو صو بہ میں اور آ ئی جی ! انسپکٹر جنر ل کے عہد ے پر ٹکنے دیا جا تا ہے ۔ اگر چہ ایسے افراد کی تعداد انگلیوں پر شما ر کی جا سکتی ہے ! پولیس میں اچھے بر ے دونوں قسم کے لو گ مو جو د ہیں جب دیا نتدار افسر تھا نے تعینا ت ہو تا ہے اور وہ میر ٹ اور انصا ف پر مبنی فیصلے کر تا ہے تو ایسے افسران سے عوام بڑ ے خوش ہو تے ہیں ۔ اور ان افسر ان کو عو ام آ نکھوںپر بٹھا تے ہیں ۔ جر ائم میں کمی آ جا تی ہے اور عوام پولیس پر اعتما د کر نا شر وع کر دیتے ہیں۔ معا شر ہ میں امن و امان کی صو رت بہتر ہو جا تی ہے ۔ ایسے پو لیس افسران اور ایسے حا لا ت جا گیردار، سردار، وڈیر ے کو سخت نا پسند ہو تے ہیں ۔ اور پھر وہ ان افسران کے پیچھے پڑ جا تے ہیںاور ان کوتھانے یاضلع سے باہر نکال کر دم لیتے ہیں !کیونکہ جب تک معاشرے میںبرائی اور مسائل اور پریشانیاں اور عوام مشکل میں نہ ہو ں ۔ ان بڑ و ں کا کا م نہیںچلتا ۔ سکھیرا صاحب ! یہ آ پ جیسے بڑو ں کا کام ہے !فیصلے آ پ کے اختیا ر میں ہیں! تھا نو ں میں با کردار لو گو ں کو لگا ئیں یا اضلا ع میں سفا رشی D.P.Oلگا ئیں ؟ آ پ جیسا کر یں گے نتا ئج ایسے ہی نکلیں گے ؟ پو لیس کو مکمل باا ختیا ر بھی بنائیں ! وڈیر وں ،ممبران اسمبلی اور زرداروں سے آزاد کر یں !ا ورنہ یہ پو لیس دیس میں بر ائیوں ، زیا د تیو ں اور خر ابیو ں کی بنیا د بن کر عوام کے استحصال میں بنیا دی کر دار ادا کر ے گی اور آ پ سب بے وقا ر ہو جا ئیں گے!