- الإعلانات -

دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی امداد کیلئے جامع پالیسی

وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس بڑی اہمیت کا حامل قرار پایا اس میں جہاں وزیراعظم نے دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی امداد کیلئے جامع پالیسی وضع کرنے کی ہدایت کی جو جاں بحق ہونے والے افراد کے خاندانوں کیلئے آمدن تعلیم اور روزگار کے پیکیج کی حامل ہوگی ۔ وزیراعظم نے دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کیلئے جو پالیسی مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے وہ اس امر کی آئینہ دار ہے کہ حکومت شہداءکے بچوں اور لواحقین کی امداد کی ہرممکن اقدامات کررہی ہے۔ حکومت کا اقتصادی راہداری منصوبہ ملک کی ترقی و خوشحالی کا باعث بنے گا اور ترقی پذیر معیشت جب ترقی یافتہ معیشت کی طرف گامزن ہوگی تو معاشی ترقی ہوگی ۔ راہداری کا منصوبہ ہماری معاشی ترقی کا ذریعہ بن پائے گا ۔ حکومت کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے ایک طرف دہشت گردی کا ناسور ہے تو دوسری طرف مکار دشمن کی سازش اس کیلئے درد سر بنی ہوئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی چیرہ دستی اور لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی بھی پاکستان کیلئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان اس وقت جو جنگ لڑ رہا ہے اس میں اس کو کافی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن سیاسی و عسکری قیادت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔ حکومت کی پالیسیاں عوام کی امنگوں کی ترجمان ہونی چاہئیں اس وقت ملک میں بیروزگاری ، مہنگائی اور بدامنی نے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کررکھا ہے ۔ پاک فوج ملک کے امن کی بحالی کیلئے دن رات اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہی ہے یہ پاک فوج کا طرہ امتیاز ہے کہ ملک میں اس وقت امن کا سورج طلوع ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ دہشت گردی میں شہید ہونے والوں کے بچوں اور لواحقین کی فلاح و بہبود کیلئے ایسی پالیسی ہونی چاہیے جو متاثرہ افراد کی فلاح وبہبود کیلئے موثر ثابت ہو۔ وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان نے شہداءکی فلاح وبہبود کیلئے جس پالیسی کی ہدایت کی ہے وہ دوررس نتائج کی حامل قرار پائے گی۔ اس پالیسی کو جلد ازجلد منظوری کیلئے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے ۔ پالیسی وہی کارآمد ہوا کرتی ہے جس کے مقاصد کماحقہ پورے ہوں ۔ وفاقی کابینہ نے شہداءکے لواحقین کیلئے نیشنل انڈوومنٹ فنڈ قائم کرنے کی جو منظوری دی ہے لائق تحسین ہے۔شہداءکی قربانیوں کے نتیجہ میں ملک میں امن قائم ہورہا ہے ان کے لواحقین کی فلاح وبہبود حکومتی فرض قرارپاتا ہے۔
بلوچستان میں مودی کے خلاف مظاہرے
بلوچستان میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بیان کے خلاف مظاہرے کیے گئے پرچم، پتلے نذر آتش ہوئے، نیٹو سپلائی معطل ، مودی کا یار ہے غدار ہے ۔ بھارتی مداخلت نامنظور کے نعروں سے بلوچستان کے درودیوار گونج اٹھے ۔ وزیراعلیٰ نواب ثناءاللہ زہری نے کہا ہے کہ مودی کے بیان پر احتجاج کیلئے بلوچستان بھر میں لوگ باہر نکلے چند ٹکوں کیلئے بھارت کو سلام کرنے و الے غدار ہیں ۔ بھارت بلوچستان کے حالات خراب کررہا ہے ۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کی مداخلت کا کھلا ثبوت ہے۔ نریندر مودی نے بلوچستان میں مداخلت کا اعتراف کیا ہے۔ بھارت نے جو جنگ شروع کی اس میں فتح ہماری ہوگی ۔ مقررین نے کہاکہ مودی کے حواریوں کو چن چن کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ مودی کی بلوچستان بارے ہرزہ سرائی کے خلاف مقررین نے جن خیالات اور ردعمل کا اظہار کیا وہ حب الوطنی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔مودی بھان متی کا کردار ادا کررہے ہیں بھارت خود ایک دہشت گرد ملک ہے اور”را“ کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی اس کا واضح ثبوت ہے۔ بھارت پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعہ عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کی ہماری پاک فوج بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ۔ بھارت ایک طرف سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے تو دوسری طرف دہشت گردی کے ذریعے خطے کا امن تباہ کرنے کی سازش کررہا ہے مودی کا اصل چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے اور وہ اس طرح کی سرگرمیوں سے اپنے عزائم کی تکمیل کبھی بھی نہ کر پائے گا۔ پاکستان مکار دشمن کی چالوں سے بخوبی واقف ہے۔ بھارت کشمیری عوام پر ظلم ڈھارہا ہے اور اس کی سفاکی کے نتیجہ میں سینکڑوں افراد شہید ہوچکے ہیں بھارت کشمیر پر غاصبانہ قابض ہے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت بھی نہیں دے رہا اور مسئلہ کشمیر کو جان بوجھ کر سرد خانہ میں ڈالے ہوئے ہے جو عالمی برادری کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ بھارت دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانے کیلئے پروپیگنڈا کررہا ہے جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور کشمیریوں کی سیاسی ، اخلاقی اور سفارتی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک مسئلہ کشمیر کا حل نہیں نکلتا اور کشمیریوں کو حق خودارادیت نہیں دیا جاتا۔
عدالت عظمیٰ کا مستحسن فیصلہ
عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم کے کابینہ کو بائی پاس کرنے کا اختیار کالعدم قرار دے دیا ۔ جسٹس ثاقب نثار نے کابینہ کو بائی پاس کرنے کا اختیار رولز 16 کی شق 2 کو کالعدم قرار دے دیا ۔ جسٹس ثاقب نے لیوی ٹیکس میں اضافے کے نوٹیفکیشن کے خلاف اپیلوں پر 80 صفحات پر مشتمل محفوظ تفصیلی فیصلہ سنایا ۔ لیوی ٹیکس کو نجی کمپنیوں کی جانب سے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا ۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ٹیکس میں اضافہ یا کمی کا اختیار وفاقی حکومت کا ہے جو وزیراعظم اور وزراءپر مشتمل ہوتی ہے صرف وزیراعظم کی منظوری سے اس طرح کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکتا۔ وفاقی حکومت کے رولز میں ضابطہ کی شق 2کے تحت اختیار غیر قانونی ہے کابینہ کی منظوری کے بغیر کسی بھی آرڈیننس کا اجراءغیر قانونی ہے کوئی بھی قانون یا بل کابینہ کی منظوری کے بغیر پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جاسکتا ۔ وزیراعظم، وزیر ،سیکرٹری ، وفاقی حکومت کا اختیار استعمال نہیں کرسکتا ۔ عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ وزیراعظم کابینہ کے فیصلے کے پابند ہیں ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی قرا ردیا کہ حکومت آئین میں دئیے رولز آف بزنس کی پاسداری کرے ۔ ڈپٹی سیکرٹری کی طرف سے جاری لیوی ٹیکس نوٹیفکیشن کی پیشگی منظوری نہیں لی گیءتھی ۔ سپریم کورٹ نے اختیارات سے متعلق طریقہ وضع کردیا کوئی بیورو کریٹ وزیر کے حکم پر نوٹیفکیشن جاری نہیں کرسکے گا ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ دوررس نتائج کا حامل قرار پائے گا ۔ عدالت نے اختیارات کا طریقہ کار وضع کردیا ہے ۔ عدالتی فیصلے کے تناظر میں حکومت اپنے امور چلائے جو دائرہ اختیار ہے اس کے اندر رہتے ہوئے کام کرے تاکہ کسی قسم کا الجھاﺅ پیدا نہ ہو لیوی ٹیکس سے دیا جانے والا عدالت عظمیٰ کا فیصلہ قابل ستائش ہے۔ وزیراعظم کابینہ کو بائی پاس نہیں کرسکتے اور نہ ہی کوئی قانون یا بل کابینہ کی منظوری کے بغیر پارلیمنٹ میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ حکومت اپنے اختیارات سے تجاوز کرجاتی ہے جس سے قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ حکومت انتظامیہ اختیارات کا استعمال کرتے وقت اس بات کا خیال رکھے کہ کہیں قانون کی خلاف ورزی تو نہیں کی جارہی قانون کا احترام اور اس کی پاسداری ادنیٰ و اعلیٰ کو کرنی چاہیے۔ یہ عدالتی فیصلہ بڑی اہمیت رکھتا ہے اس میں بتا دیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کا اختیار صرف کابینہ استعمال کرسکتی ہے اور وزیراعظم کو اختیارات کابینہ کی منظوری سے استعمال کرنا ہوں گے ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا یہ مستحسن فیصلہ ہے اس پر عملدرآمد کرنا حکومت کا فرض ہے۔