- الإعلانات -

اقربا پروری اور کرپشن کی زندہ مثالیں

پاکستان ان دنوں جس طرح کے معاشی مسائل سے دوچار ہے اس کی بنیادی وجہ اقربا پروری اور کرپشن ہے۔اقربا پروری میرٹ اور انصاف کی پامالی کرتی ہے تو کرپشن ہر شعبہ حیات کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔پاکستان بنے ستر برس ہونے کو ہیں مگر پاکستان آج تک اقتصادی خود انحصاری کی منزل حاصل تو کیا قریب بھی نہیں ہوسکے ہےں۔آج ہماری برآمدات درآمدات کا عشر عشیر بھی نہیں ہےں جس سے ترسیلات زراس فرق کو مٹانے کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔بیرونی سرمایہ کاری کا حجم بھی شرمناک حد تک گر گیا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جن کے ہاتھ میں زمامِ اقتدار ہے انکا اپنا سرمایہ بیرون ملک ہے۔ پانامہ لیکس نے ایسے ایسے چہرے بے نقاب کئے جو روز ملک کو ایشیائی ٹائیگر بنانے کے بھاشن سناتے نہیں تھکتے۔ بے شرمی اور ڈھٹائی کی حد تو یہ ہے کہ وہ آج بھی ایسے دعوے کرنے سے نہیں چوکتے۔ہمارے وزیرخزانہ وہ ہیں جنکے بچوں نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری دوبئی میں کررکھی ہے جبکہ وزیراعظم اور ان کے خاندان کا ذکر ہی کیا کرنا۔انکا سب کچھ بیرون ملک ہے جو کچھ یہاں ہے اس کی دیکھ بھال سرکاری خزانے سے ہورہی ہے۔ رائے ونڈ محل وزاعظم کا کیمپ آفس ہے اور جو کیمپ آفس ہو اس پر قومی خزانہ واری واری جاتا ہے۔ملک کی بدقسمتی کا ایک اور در میثاق جمہوریت کی آڑ میں یہ کھلا ہوا ہے کہ اپوزیشن نے بھی ذاتی اور سیاسی مفادت کےلئے ایسا مک مکا کررکھا ہے کہ وہ موجودہ نااہل حکومت کو گرنے نہیں دیتی۔
عمران قادری دھرنوں سے لے کر پانامہ ہنگامہ تک پی پی پی اپوزیشن نے جس طرح حکومت کی کھال بچائی ، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔یہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ چاروں صوبوں کی زنجیر کادعویٰ کرنے والی پیپلزپارٹی کی گرفت اب محض سندھ تک رہ گئی ہے جبکہ کراچی اور حیدر آباد جیسے بڑے شہر بھی اس کی گرفت سے باہر ہیں۔اپنی ڈوبتی ہوئی سیاسی کشتی کو بچانے کے لئے اب اسکے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے۔اس کی قیادت سیاسی چالاکیوں کی وجہ سے خودساختہ جلاوطنی میں ہے جبکہ انکے یار بیلیوں کے کارنامے پارٹی کی تباہی کےلئے کافی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی مک مکا کی سیاست کی وجہ سے سندھ میں گزشتہ آٹھ سال سے برسر اقتدار ہے،یہ کوئی کم عرصہ نہیں ہے۔اگر اس کی قیادت کو پارٹی کے مستقبل کا خیال ہوتا تو سندھ میں گڈ گورننس کے ذریعے پارٹی کی ساکھ کو بحال کرسکتی تھی مگر پارٹی کی بدقسمتی کہ اقربا پروری اور کرپشن اس کی رگ و پے میں اتار دی گئی۔شرجیل میمنوں اسد کھرلوں ڈاکٹر عاصموں اور نثارمورائیوں نے قومی خزانے پر جس طرح ہاتھ صاف کیے اس سے بچہ بچہ آگاہ ہے،یہی وہ دست راست تھے جو سندھ کے سیاہ سفید کے مالک بنے رہے۔آج جب پارٹی کے ٹاپ لیڈروں سے ان کے بارے پوچھا جائے تو وہ لاعلم بن بیٹھتے ہیں جیست وہ ان کو جانتے نہیں پہچانتے نہیں اور نہ ہی ڈاکٹر عاصم کے گناہ کو کوئی قبول کرنے کو تیارہیںمگر ان پر سابقہ دور حکومت میں ہر طرح کی نوازشات کے در کھلے تھے۔کیا ٹیکس چوری ،کیا زمینوں کی بندر بانٹ، کیا بڑے بڑے منصوبوں میں بلا خوف و جھجک لوٹ مار،الغرض ان کی پانچوں گھی میں اور سر کڑھائی میں تھا۔ان پر کیا کیا نہیں لٹایا گیا ،اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ سندھ حکومت نے ڈاکٹر عاصم کی ہسپتالوں کو بھی ٹیکس سے خصوصی چھوٹ دے رکھی تھی۔ڈاکٹر ضیاالدین ہسپتال نارتھ ناظم آباد اور کلفٹن ہسپتال ضرور ہیں لیکن ٹرسٹ نہیں ہیںمگر حکومت نے ان سے کبھی ایک پائی نہ وصول کی۔یہ دونوں ہسپتال ڈاکٹر عاصم کی ملکیت ہیں۔پتہ نہیں سندھ حکومت نے کس حیثیت انہیں خصوصی چھوٹ دی۔ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ کلفٹن والی ہسپتال سے سالانہ 4 لاکھ 72 ہزار جبکہ نارتھ ناظم آباد والی ہسپتال سے 2 لاکھ 75 ہزار روپے سالانہ چھوٹ دی گئی۔اس کی نوازشات کے کئی اور قصے بھی ہیں۔
جس ملک میں اقربا پروری کا یہ عالم ہو وہاں معیشت کیا خاک اپنے پاوں پر کھڑی ہو سکے گی۔ نجانے اس ملک کے ساتھ ایسے کتنے کھلواڑ روز بااثر حلقوں میں ہوتے ہیں۔ڈاکٹر عاصم پکڑے تو گئے ہیں لیکن اس کو بچانے والوں کا ایسا ایکا ہے کہ موصوف کو کوئی سزا نہیں پا رہی۔سوال یہ ہے کہ ایسا ہو تو کیوں کر اور کیسے،جب ایان علی کا بال بھیکا نہیں ہوپارہا جسے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا تو ڈاکٹرعاصموں،شرجیل میمنوں یا مورائیوں کوسزا دلانا تو جُوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔یہ حال صرف سندھ کا نہیں ہے پنجاب بلوچستان اور دیگر صوبوں میں بھی ملتی جلتی صورتحال ہے۔آج ملک پچیس ہزار ارب کا مقروض ہے،جبکہ قومی بجٹ تیس ہزار ارب ہوتا ہے، جس ملک کا قرض اور قومی بجٹ برابر ہوجائے تو پھر اس کا دیوالیہ پن ڈیکلئیر ہوجاتا ہے۔ غضب خدا کا دیکھئے کہ ملک دیوالیہ پن کی دیلیز پر کھڑا ہے اور حکمران اپنی عیاشیوں سے رک رہے ہیں اور نہ ملکی معیشت کی بحالی کی کوئی ٹھوس تدبیریںہورہی ہیں۔کرپٹ باثر افراد اتنے بااثر ہوتے ہیں کہ وہ فیصلہ سازی پر براہ راست اثرانداز ہوتے ہیں۔