- الإعلانات -

قائد اعظم اور افواج پاکستان

افواج پاکستان ہماری آزادی اور بقاء کی ضامن کے ساتھ ساتھ ہمارے قومی وقار کی علامت ہیں۔ افواج پاکستان کی اہمیت اور ضرورت کوجبار مرزا نے اپنے الفاظ میں انتہائی موثر اور مدلل انداز میں پیش کیا ہے۔ جی ہاں میں بات کر رہا ہوں صحافی و ادیب جبار مرزا کی نئی تصنیف ”قائد اعظم اور افواج پاکستان“ کی جس میں قائد اور افواج پاکستان کے درمیان رشتے کو اجاگر کیا گیا ہے۔ کتاب میں افواج پاکستان کی مختلف مواقع پر کھینچی گئی نایاب تصاویر بھی ہیں۔ جبار مرزا نے کتاب کا انتساب آرمی پبلک سکول پشاور کے بچوں کے نام کیا ہے ۔ عرض مصنف میں جبار مرزا نے لکھا ہے کہ قائد اعظمؒ فوج کو بہت عزیز رکھتے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ایسا پاکستان چاہتے تھے جس کی افواج بہترین اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے مزین ہوں۔ قیام پاکستان کے وقت انگریز اپنی فوج کی تقسیم نہیں چاہتے تھے اور نہ ہی نہرو مگر قائد کی ہمت، آہنی عزم اور حوصلے کے سامنے انگریز و ہندو سازش ناکام ہوئی اور انڈین فوج تقسیم ہوئی۔ کتاب کے ہر باب میں جبار مرزا نے نئی نسل کو قائداعظم ؒکی تعلیمات اور اصولوں پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔ آج کل ہمارے ہمسائے ہماری آزادی اور بقاءکے درپے ہیں۔ اس وقت ہماری فوج کی قربانیوں کو قوم کے سامنے پیش کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ ہماری مسلح افواج نے قیام پاکستان کے وقت نامساعد حالات میں اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے قائد اعظمؒ کے اصولوں کو ہمہ وقت تھامے رکھا اورآج الحمداللہ، ان کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ وہ اپنی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے اعتبار سے ایک منفردا ور ممتاز حیثیت رکھتی ہیں بلکہ جدت اور ماڈرن ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی منزل حاصل کرچکی ہیں۔ پاکستان کے پاس کیا نہیں ہے۔ وہ ایک ایٹمی قوت ہے۔بہترین میزائل سسٹم، اپنے ہاں تیار کردہ جدید ترین ٹینک، کارکردگی میں ایف 16 کا مقابلہ کرتے جے ایف تھنڈر طیارے اور آگسٹا آبدوزیں جس سے ہمارے دشمنوں کے دل دہل جاتے ہیں اور خاص طور پر مسلح افواج جو اپنی اعلیٰ تریبت کی وجہ سے ان ہتھیاروں کو استعمال کر رہی ہے۔ یہ قائد ؒ کے رہنما اصولوں اور ان کے افواج کے ساتھ پیار محبت کا نتیجہ ہی ہے۔ قائد اعظمؒ نے 23 جنوری 1948 کو کراچی میں بحریہ کے جہاز دلاور کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں قائد اعظم نے فرمایا تھا، ”آپ اپنی کم تعداد ہونے پر فکر نہ کریں اس کمی کو آپ کو ہمّت، استقلال اور بے لوث فرض شناسی سے پورا کرنا پڑے گا کیونکہ اصل چیز زندگی نہیں ہے بلکہ ہمّت، صبروتحمل اور عزم صمیم ہیں جو زندگی کو زندگی بنا دیتے ہیں“۔ قائد اعظم نے 8 نومبر 1947 کو افواج پاکستان سے خطاب میں فرمایا تھا۔ ”مجھے یقین ہے کہ ہم ان مشکلات اور خطروں سے کامیابی سے گزر جائینگے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ سب لوگ مکمل اتحاد، باہمی تعاون سے کام کریں اور ان خطروں کا مقابلہ کریں جو آج ہمیں درپیش ہیں“۔ آپ نے 21 فروری 1948 کو کراچی میں افواج پاکستان سے خطاب میں فرمایا۔ ”اب آپ کو اپنی پاک سرزمین میں اسلامی جمہوریت، اسلامی معاشرتی انصاف اور انسانی مساوات کے اصولوں کے احیاءاور فروغ کی پاسبانی کرنی ہے۔ اس اہم کام کیلئے آپ کو ہمہ وقت ہمہ تن تیار اور ہوشیار رہنا پڑے گا۔ آرام کرنے کا موقع ابھی نہیں آیا ہے، ایمان، تنظیم اور فرض شناسی کے زرّیں اصولوں پر کاربند رہیں تو کوئی شے ایسی نہیں جس کو آپ حاصل نہ کرسکیں“۔ 14جون 1948 ءکو کوئٹہ میں اسٹاف کالج کے افسروں سے خطاب میں افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔ ”پاکستان کی دیگر ملازمتوں کے مقا بلے میں دفاعی افواج کی بہت اہمیت ہے اور اسی نسبت سے آپ کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہیں۔ میں نے جو کچھ دیکھا اور معلوم کیا ہے اس کی بنا پر بلا شبہ کہہ سکتا ہوں کہ ہماری افواج کے حوصلے قابل فخر ہیں۔ ان کی ہمتیں بلند ہیں اور سب سے اطمینان بخش بات یہ ہے کہ ہر افسر اور سپاہی خواہ کسی فرقہ یا نسل کا ہو سچے پاکستانی کی طرح کام کررہا ہے۔ اگر آپ اسی جذبہ سے سچے رفیقوں اور سچے پاکستانیوں کی طرح بے غرضی سے کام کرتے رہیںتو پھر پاکستان کو کسی بات کا ڈر نہیں“۔ جبار مرزا کی یہ کاوش نہایت قابل تحسین ہے۔نہ صرف تمام کیڈٹ کالجوں کے طلباءبلکہ تمام سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے طلباءکیلئے ضروری ہے کہ وہ اس کا بغور مطالعہ کریں اور اس سے استفادہ کریں۔