- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر میں ظلم اور اقوام متحدہ کا دوغلہ پن

کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے ۔برصغیر کی تقسیم محض ایک اتفاق نہیں تھا بلکہ جان بوجھ کر پاک بھارت کے درمیان محاز آرائی کی وجہ چھوڑی گئی جو کہ تاج برطانیہ کے منہ پر تمانچہ ہے۔آج مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر جو ظلم ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار برطانیہ ہے۔اگر 1947ءکوبرطانیہ برصغیر کی تقسیم منصفانہ کر دیتا تو ظالم بھارتی فوج کے ہاتھوںایک لاکھ معصوم کشمیریوں کا خون نہ بہا ہوتا،آئے روز توہین زدہ نوجوان خواتین کے وجود دریائے جہلم کی لہروں کیساتھ بہتے پاکستانی علاقوں میں نہ آتے،بھارتی ظالم فوج کے ہاتھوں80ہزارسے زائد خوتین بیوہ ہونے سے بچ جاتیں،10ہزار سے زائد خواتین بھارتی درندوں کے ہاتھوںعصمت دری کا شکار نہ ہوتیں،10ہزار سے زائد کشمیریوں کو بھارتی درندہ صفت فوج ظالم پولیس کے ساتھ ملکر لاپتہ نہ کرتی،اگر برطانیہ میں تھوڑی بھی غیرت ہوتی تو وہ چُلو بھر پانی میں ڈوب مرتا ۔مقبوضہ کشمیر میں جتنا ظلم ہو رہا ہے اس کی وجہ سے تو برطانیہ کو راتوں کو نیند نہیں آنی چاہئے تھی لیکن الٹا عالمی برادری کیساتھ ملکر کشمیر کے معاملے پر بھارت کی مدد کرناانگریزوں کی سوچ کا عکاس ہے ،ریڈ کلف ایوارڈ کی بدنیتی تھی ےا تاج برطانیہ کی سوچی سمجھی سازش تھی لیکن کشمیریوں کی زندگی کو بھارتی بربریت کے سپرد کر دیاگیا۔جہاں تک بات ہے اقوام متحدہ کی تو وہ جس کا کھائے گا اسی کے گن گائے گا،اقوام متحدہ کے 50فیصد فنڈز کہاں سے آتے ہیں جب ہمیں یہ معلوم ہو جائے گا تو سارے کا سارا کھیل ظاہر ہو جائے گا۔سوڈان میں تو راتوں رات ریفرنڈم کے ذریعے اقلیوں کو حقوق دے دئیے جاتے ہیں لیکن ظلم کی تاریخ رقم ہونے والی جگہ مقبوضہ کشمیر آج بھی اقوام متحدہ کے اسی کی قراردادوں کے مطابق حل کا منتظر ہے۔لیکن اقوام متحدہ کشمیریوں کو انصاف دلاتا نظر نہیں آتاحالانکہ اقوام متحدہ کو سمجھنا چاہئے کہ اس سے پہلے بھی دنیا کا نظام چل رہا تھا۔دنیا کے مسائل اقوام متحدہ کے بغیر بھی حل ہو رہے تھے اور شائد اچھے حل ہو رہے تھے۔کیونکہ جس اقوام متحدہ کی موجودگی میں بوسنیا کے مسلمان غیر محفوظ ہوں،فلسطینیوں پر اسرائیل بربریت کی انتہا کر رہا ہو،کشمیر میں خون کی ندیاں بہائی جا رہی ہوں،افغانستان کو جنگی ماحول میں دھکیل دیا ہو،عراق جیسے پرامن ملک میںدہشتگردی کا راج ہو،لیبیا اور شام کو مسلسل جاری جنگ کی نذر کر دیا گیا ہو،طالبان،القائدہ اور داعش جیسی تنظیموں نے جنم لیا ہو اور ان تمام سازشوں کا شکار ہونے والے کوئی اور نہیں بلکہ صر ف اور صرف مسلمان ہوںتو پھر ایسے ادارے کی ساکھ کو متاثر ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔معاشرہ میں ظلم ہو تو وہ قائم رہ سکتا ہے لیکن جس معاشرے میں ناانصافی ہو اس معاشرے کا وجود ختم ہونا طے ہو جاتا ہے۔اقوام متحدہ بھی ناانصافی سے بھرپور معاشرے کی مانند ہو چکا ہے۔آج فلپائن نے اقوام متحدہ سے نکلنے کی دھمکی دی ہے اگر اس روش نے زور پکڑا اور ایشاءنے اپنا ادارہ بنا لیا تو یورپ اور امریکہ سے انتقام لینے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ وہ خود ہی خوراک کی قلت سے صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے اس لئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری ہوش کے ناخن لے اور مسلمانوں پر ظلم بند کر کے انھیں حقیقی آزادی دلانے میں کردار ادا کرے ورنہ بوسنیا، فلسطین، افغانستان، عراق، شام اور کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی تو انکا مقدر ہے ہی لیکن اس کے بعد عالمی برادری کہاں کھڑی ہو گی اس بارے بھی سوچنا چاہئے۔کیا عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو نظر نہیں آرہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 45روز سے بھارتی فوج نے کرفیو لگا رکھا ہے جس کی وجہ سے وہاں پر خوراک کی قلت کے باعث بچے بھوک سے بلک رہے ہیں۔گھر میںبھوک اور کھانے کیلئے بھارتی فوج کی گولیاںہیں،مگر آفرین ہے بہادر کشمیریوں کی ہمت پر جو ظلم کی انتہا کے باوجود بھارتی فوج کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں۔سخت کرفیوکے باوجود مقبوضہ کشمیر کی سڑکیں احتجاجی مظاہرین سے بھری پڑی ہیں جنہوں نے پاکستانی پرچم اٹھا کر بھارت کو اپنا فیصلہ سنا دیاہے۔پاکستان نے جب بھی مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی آواز کو بلند کیا ہے تو بھارت اس کیخلاف سرگرم ہو جاتا ہے اور کراچی اور بلوچستان کے زریعے پاکستان میں دہشتگردی شروع کروا دیتا ہے۔بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کا راگ الاپنے والا دنیا کا منافق ترین ملک بھارت ایک طرف تو کشمیر میں اپنے ظلم کا زمہ دار پاکستان کو ٹھہراتا ہے اور دہشتگردی کیخلاف مذاکرات پر زور دیتا ہے تو دوسری طرف افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشتگردی کیلئے اپنی جڑیں مضبوط سے مضبوط کر رہا ہے۔تازہ صورتحال کے مطابق پتا چلا ہے کہ بھارت دنیا بھر میں مقیم بلوچوں کوفنڈنگ کر کے بلوچ آپریشن کے نام سے ایک خفیہ منصوبہ بنا رہا ہے جس کی ماسٹر مائینڈ بدنام زمانہ کلبھوشن یادیو جیسے لوگوں سے اٹی بھارتی خفیہ ایجنسی راءہے اور اس مقصد کیلئے کینیڈا میں مقیم 25سالہ بلوچ نوجوان مجدک دلشاد کو استعمال کیا جا رہا ہے جو کہ اپنی بیوی کے ہمراہ گزشتہ کئی دنوں سے بھارت میں مقیم ہے۔خیر پاکستان اس سازش کا بھی اچھی طرح نپٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نپٹ بھی لے گا۔ایک طرف تو بھارت پاکستان کیخلاف دہشتگردی میں ملوث ہے تو دوسری طرف بلوچوں کی فنڈنگ میں بھی ملوث ہے تاکہ بلوچستان کو کسی طرح الگ کیا جائے اور پھر جب پاکستان مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی آواز بلند کرتا ہے تو بھارتی فوج کے ہاتھوں کئے جانے والے خراب حالات کا زمہ دار پاکستان کو ٹھہرا دیتا ہے۔اب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے کوئی پوچھے اگر کشمیر میں پاکستان کی وجہ سے حالات خراب ہیں تو شمال مشرقی ہند میں واقع آسام میں یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ کیا کر رہا ہے اور وہاں تحریک آزادی کیوں عروج پر ہے،بھارتی ریاستوںتریپورہ، میگلیا، مزورام، ناگالینڈ، بوڈولینڈ، ڈریویڈ اناڈو ، ناگالم،اروناچل پردیش میں قائم تریپورہ ٹائیگر فورس،نیشنل لبریشن فرنٹ آف تری پورہ،ہنی ویترپ نیشنل لبریشن کونسل،آرنچل ڈریگن فورس،میزونیشنل فرنٹ ،آل بوڈو سٹوڈنٹس یونین،نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ سمیت مختلف مسلح تنظیموں کو کس کی مدد حاصل ہے،خالصتان تحریک کیوں دوبارہ زور پکڑ رہی ہے،مودی صاحب اپنے گھر کو ٹھیک کریں اور دوسروں پر الزام نہ دیں ایسا نہ ہو کہ چند سال بعد بھارتی فوج کے ظلم کے باعث بھارت کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے۔ کو ئی برہمن ، سیکولزازم ، سوشلزم، کیمونزم اور نیشنل ازم انسانیت کو بام عروج تک پہنچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا یہ صلاحیت صرف دین کامل اسلام ہی کے پاس ہے جو کل انسانیت کو آگ کے گڑھے سے نکال کر پرامن راہوں پر ڈال دے۔