- الإعلانات -

عمران کے بعد؟

عمران کی مقبولیت میں کلام نہیں۔وہ ایک امید،ایک آرزو اور ایک خواب بن کر لوگوں کے دلوںمیں یوں گھر کر چکے ہیں سورج کی کرن جیسے سیپ کے دل میں اتر جایا کرتی ہے۔یہ دور عمران خان کا دور ہے اور وقت ان کی مٹھی میںہے۔دیگر سیاسی جماعتوں کا حال اس وقت وہی ہے جو فاتح لشکر کے گذر جانے کے بعد پامال بستیوں کا ہوا کرتا ہے۔آگ،دھواں،نوحے۔مگرسوال ایک اور ہے۔اس نظام کو تو عمران نے بے وقعت کر دیا۔غلامی پر رضامند لوگ برف اوڑھے جی رہے تھے، عمران نے ان کے من میں خوابوں کی حدت بھر کر انہیں انگارہ بنا دیا۔اب کل کو خود عمران بھی ناکام ہو گئے تو کیا ہو گا؟عمران کے ٹائیگروں پر جب شاہ محمود قریشی،علیم خان،خان سرور خان،اسد عمر اور جہانگیر ترین کھلیں گے تو یہ ٹائیگر کہاں جائیں گے؟اسی پرانے فرسودہ نظام کی آغوش میں پناہ لیں گے یا ان انگاروں سے ایک ایسی داعش وجود میں آ جائے گی جس کی حدت سے نہ کوئی بلاول ہاﺅس اور رائے ونڈ بچے گا نہ ہی کوئی بنی گالہ؟
’نومولود سول سوسائٹی‘، جو صرف بیوٹی پارلر اور ٹی وی سٹوڈیوز میں پائی جاتی ہے،اپنے ہم نوا سینیئر تجزیہ کاروںسمیت پریشاں ہے کہ نیلسن منڈیلا بقلم خود ملتان سے الیکشن کیسے ہار گیا۔لوئر مڈل کلاس سے آسودگی کی دنیا میں داخل ہونے والی یہ لیپ ٹاپ صحافت اگر جان کی امان دے تو عرض کروں آپ باغی کو روتے ہیں اس وقت آپ کے وہ’ قائدین انقلاب‘بھی آجائیں، جن کے دستر خوانوں پر آپ کے معدے کسی ناجائز تجاوزات کی طرح برسوں سے پڑے ہیں ،توعمران کے سونامی میں خس کی طرح بہہ جائیں۔لوگ آج عمران کی محبت میں پگھل رہے ہیں تو اس کی وجہ نہ جنرل پاشا ہیں نہ اسٹیبلشمنٹ۔نظام سے نفرت ہے اور اوپر سے اللہ نے اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈالنا شروع کر دی ہے۔جاوید ہاشمی اور سعد رفیق مل کر پریس کانفرنس تو کر سکتے ہیں ،لوگوں کے دلوں سے اب عمران کی محبت نہیں نکال سکتے۔کتنے گھرانوں کو میں جانتا ہوں والد کسی اور جماعت میں لیکن بیوی اور بچے پی ٹی آئی میں۔نصف درجن اینکروں کو جانتا ہوں ٹاک شو میں عمران خان پر تنقید کریں تو بیٹیوں اور بیٹوں کے ایس ایم ایس انہیں وہیں سیٹ پر موصول ہونا شروع ہو جاتے ہیں:”بابا عمران کے خلاف نہیں۔۔۔“۔نئی نسل کے نئے خواب ہیں۔بوسکی کی پوشاکوں ،کاٹن کے اکڑے ہوئے مردود ملبوسات اور کنگروں والی مونچھوں کا اب زمانہ نہیں رہا۔رعونت بھرے لہجے اور واسکٹوں سے جھانکتی توندیں نفرت کی علامت بن چکی ہیں۔عمران کے جلسوں پر کوئی جتنی مرضی تنقید کر لے یہ حقیقت ہے کہ وہاں فیملیاں جاتی ہیں۔بیٹے اور بیٹیاں جاتی ہیں ، بھائی اور بہنیں جاتے ہیں،مائیں جاتی ہیں۔یہ ماحول اور کہیں نہیں ہے۔کیا یہ ماحول جنرل پاشا نے بنایا ہے؟ابھی کل کی بات ہے میری تین سال کی بیٹی عائشہ گنگنا رہی تھی:’ چلو چلو عملان کے ساتھ‘، اب کیا جنرل پاشا نے اسے کہا تھا کہ بیٹا ایسے کہو گی تو میں آئی ایس آئی کے خفیہ فنڈ سے تمہیں چاکلیٹ لے کر دوں گا۔
غیر معمولی محبتیں ہیں جو قدرت نے عمران کی جھولی میں ڈال دی ہیں۔ان محبتوں کے ساتھ ساتھ اب ذمہ داریوں کا غیر معمولی بوجھ بھی عمران خان کے کندھوں پر ہے۔یہ جو لوگ آج عمران کے ساتھ کھڑے ہیں ان میں اکثریت ان کی ہے جو اس نظام سے تنگ آ چکے ہیں اور نفرت اور رد عمل میں ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھاکہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔رفاقت پھر محبت کو جنم دے دیتی ہے اور محبتیں اس وقت عمران کا گھر دیکھ چکی ہیں۔اس وقت دور دور تک ان کا کوئی مد مقابل نہیں۔اس وقت عمران سے خیر خواہی کا تقاضا یہ ہے کہ پوری شدت سے ان پر تنقید کی جائے۔جمہوری نظام کے اندر رہ کر تبدیلی کی وہ آخری امید ہیں ۔یہ امید ٹوٹنی نہیں چاہیے۔یہ امید ٹوٹ گئی تو پھر گلی کوچوں میں داعش بنے گی۔پھر ڈی چوک پر ترانے نہیں بجیں گے مقتل آباد ہوں گے،پھر رقص نہیں ہو گا گردنیں کٹیں گی۔
عمران خان نے اس نظام کے خلاف نفرت کو اس حد تک پہنچا دیا ہے جہاں سے اب واپسی کا کوئی امکان موجود نہیں۔اب وقت کا پہیہ پیچھے کو نہیں مڑ سکتا۔نظام کے خلاف اس نفرت کے ساتھ ساتھ اگر عمران خان نے کے پی کے کے تجربے کو کامیاب کرنے پر بھی غیر معمولی توجہ دی ہوتی تولوگوں کے سامنے متبادل ایک عملی شکل میں بھی موجود ہوتا۔سچ یہ ہے کہ کے پی کے میں تحریک انصاف ابھی تک کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکی اور اس کی ساری مقبولیت عمران خان کے شخصی سحر کی مرہونِ منت ہے۔کے پی کے میں ایسا کچھ بھی نہیں ہو سکا جس کی بنیاد پر تحریک انصاف کامیاب متبادل کا دعوی کرے۔ایسے میں عمران خان کامیاب ہوتے ہیں ، جس کا واضح امکان ہے، تو تھوڑے ہی عرصے میں ان کے چاہنے والے ان پوچھنا شروع کر دیں گے کہ آپ کی کارکردگی کیا ہے؟ کیا عمران خان کی ٹیم اس سوال کا جواب دے پائے گی؟میں معافی چاہتا ہوں لیکن میرے نزدیک اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔عمران خان کو اس پہلو پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔اپنے وابستگان کی اخلاقی تربیت پر بھی عمران خان کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ہیجان اور دشنام سے قوموں کی تعمیر نہیں ہوتی اس کے لیے کردار سازی کرنا پڑتی ہے۔عمران نے دھرتی میں جو خواب بو دیے ہیں ان کی تعبیر ایک نہایت ہی مشکل کام ہے۔ان کے ساتھ جو ٹیم اس وقت کھڑی ہے ، الا ماشاءاللہ، ان سب کی جان اس نظام کی خرابیوں میں ہے اور یہ اس نظام کو گالی دے کر اصل میں اس نظام میں سے اپنا حصہ وصول کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے صرف طریقہ واردات بدل لیا ہے۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ شیخ رشید، شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، اسد عمر، علیم خان اور خان سرور جیسوں کے ساتھ عمران خان ایک انقلابی نظام متعارف کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے تو اسے جان لینا چاہیے اس کا خواب بہت جلد چکنا چور ہونے کو ہے۔عمران خان نے اس پہلو پر سارے درد دل کے ساتھ توجہ نہ دی تو ان کی حکومت ن لیگ اور پی پی پی کی حکومتوں سے اتنی ہی اچھی اور مختلف ہو گی جتنے عامر ڈوگر جاوید ہاشمی سے، سرور خان چودھری نثار سے،علیم خان سعدرفیق سے اور شاہ محمود قریشی خواجہ آصف سے اچھے اور مختلف ہیں۔یہ فرق عمران کے وابستگان کو متاثر نہیں کر سکے گا۔موجودہ نظام اور موجودہ حکمران اپنا بھرم تیزی سے کھوتے جا رہے ہیں۔اس نظام کے اندر رہتے ہوئے تبدیلی کی واحد امید لوگوں کو عمران کی صورت میں نظر آ رہی ہے۔جس روز عمران ناکام ہو گئے اس روز مجھے ڈر ہے کہ رد عمل میں ہر گلی کوچے میں داعش وجود میں آئے گی۔وہ سونامی اٹھے گا کہ سب کچھ بہا لے جائے گا، بنی گالہ بھی۔اور وہ سونامی ہمارے ٹاک شوز میں آ کر ہمیں یہ بھی بتانا پسند نہیں کرے گا کہ اس کی لہریں تہتر کے آئین کے تناظر میں کس حد تک جائز ہیں۔اس سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے: عمران خان لوگوں کی امیدوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے اپنی جماعت کی کردار سازی اور اس کے اخلاقی وجود پر توجہ دیں۔لیکن کیا عمران خان یہ کر پائیں گے؟۔۔۔۔اس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں۔