- الإعلانات -

سیاسی عدم استحکام جمہوریت کیلئے نقصان دہ

 پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے تحریک قصاص کے احتجاجی جلسوں اور ریلیوں سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک سے دہشت گردی ختم کرنے کیلئے قصاص لازمی ہے کرپشن اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کے خاتمے کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا ملک سے نظریاتی اور عسکری دہشت گردی کے فروغ کو بھی ختم کرنا ہوگا ۔ نیشنل ایکشن پلان میں حکومت رکاوٹ ڈال رہی ہے ۔ عوام کب تک گھروں میں بیٹھ کر روتے رہیں گے۔ بدقسمتی سے ظالم کرپٹ اور عوام دشمن متحد ہیں ملک میں اصل ڈگریوں والے سڑکوں پر دھکے کھارہے ہیں اور جعلی ڈگریوں والے اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں ۔ انہوں نے کہا ملک میں لوٹ مار کرپشن بیروزگاری اور بدعنوانی جیسے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔ میں 20کروڑ عوام کو کال دے رہاہوں کہ وہ اپنے مسائل کے حل اور عوام دشمن حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر نکلے ۔طاہر القادری نے 25 اگست کو ڈیرہ غازی خان 26 کو مظفر گڑھ ، 27 کو ملتان اور 29 کو کوئٹہ میں احتجاج کا اعلان کیا ۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پنجاب ن لیگ کا عسکری ونگ بن چکا ہے۔ انہوں نے لاہور میں رینجرز آپریشن کا مطالبہ کیا اور حکومت کو حرف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ حکمران سیاسی مخالفین کی ٹارگٹ کلنگ کررہے ہیں ان کا مقابلہ کرنے کی بجائے گولی کی طاقت سے خاموش کرانا چاہتے ہیں۔ سیاسی اُفق پر منڈلاتے بادل ابرآلود دکھائی دینے لگے ہیں ۔ پانامہ لیکس پر اپوزیشن نے بھی حکومت کے خلاف تحریک تیز کرانے کیلئے اے پی سی بلانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں شیخ رشید نے اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کا آغاز کردیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی موجودگی میں احتساب ممکن نہیں۔ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں پانامہ لیکس پر تحقیقات چاہتی ہیں ان حالات کا پیش خیمہ پانامہ لیکس قرار پاتی ہے۔ حکومت سیاسی تدبر اور بصیرت سے کام لیتی اور اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات دور کرتی اور پانامہ کے حوالے سے ٹی او آرز پر اتفاق رائے پیدا کرانے میں کامیاب ہو جاتی تو آج سیاسی کشیدگی اور محاذ آرائی دیکھنے میں نہ آتی لیکن صد افسوس کہ ہمارے ہاں برداشت کا جمہوری کلچر تاحال فروغ نہیں پاسکا جس سے سیاسی عدم استحکام اس ملک اور عوام کا مقدر بن چکا ہے۔ حکومت کے خلاف تحریک قصاص ، تحریک نجات کا آغاز ہوچکاہے اور اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت مخالف تحریک پرغور کررہی ہیں اگر یہ تحریکیں چل پڑتی ہیں تو حکومت کیلئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں لیکن حکومت ہوش کے ناخن نہیں لے رہی بعض وزراءتو معاملہ سلجھانے کی بجائے الٹا الجھا رہے ہیں جب یہ کیفیت ہونے لگے تو پھر ہنگامہ آرائی اور محاذ آرائی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ حکومت پانامہ لیکس پر حکومت کو احتساب کیلئے پیش کرکے اپنے بچاﺅ کا راستہ نکال سکتی تھی ٹی او آرز پر اتفاق رائے نہ ہونا حکومت کیلئے نیک شگون نہیں ہے۔ حکومت کو اس وقت کئی مسائل کا سامنا ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کا ناسور ہے تو دوسری طرف سیاسی محاذ آرائی اور عوام مہنگائی ، بیروزگاری ، نا انصافی کارونا رو رہے ہیں ہرطرف کرپشن اور بدعنوانی کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ۔ عوام کا معیار زندگی بلند ہونے کے بجائے گر رہا ہے لوگ عدم تحفظ کا شکار ہونے لگے ہیں۔ ان حالات میں تحریکیں حکومت کیلئے درد سر بن سکتی ہیں اور حکومت مسائل کے گرداب میں پھنس سکتی ہے ۔ عوامی تحریک سانحہ ماڈل ٹاﺅن کا قصاص مانگ رہی ہے۔ ملک سے نظریاتی دہشت گردی کے فروغ کو ختم کرنے کا تقاضا کررہی ہے اور عوام کو گھروں سے نکلنے کی کال دی جارہی ہے لیکن حکمران ٹس سے مس نہیں ہورہے جو لمحہ فکریہ ہے۔ حکومت پانامہ لیکس کے معاملے کو سلجھانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور اپوزیشن جماعتوں کے مطالبے کو سنے ورنہ معاملہ اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور ملک میں سیاسی بھونچال آگیا تو پھر یہ ملک عدم استحکام کے راستے پر چل نکلے گا جس کا یہ متحمل نہیں ہوسکتا ۔ سیاسی استحکام کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔ حکومت مفاہمتی راہ پر چلے اور برداشت کے جمہوری کلچر کو اپنائے۔ جمہوری دور میں حکومت عوام کے سامنے جوابدہ ہوا کرتی ہے۔
بوسیدہ عمارت 5 زندگیاں نگل گئی
لاہور میں بوسیدہ عمارت 5 افراد کی ہنستی بستی زندگیوں کو نگل گئی ۔ یہ ناخوشگوار واقعہ اندرون دہلی گیٹ مسجد وزیر خان کے قریب پیش آیا جہاں ایک گھر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان کی چھت گر گئی اور اس نے خوشی بھرے گھر کو ماتم کدہ بنا دیا شہروں میں قدیمی عمارتیں موت کا منظر پیش کررہی ہیں اور اس طرح کے کئی واقعات قبل ازیں ملک بھر میں پیش آچکے ہیں لیکن حکومت نے بوسیدہ عمارتوں کے بارے میں کوئی عملی اقدام نہیں کیا جس سے لوگوں کی قیمتی جا نیں ضائع ہورہی ہیں لاہور کا حالیہ واقعہ حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہے اس واقعہ کی تحقیقات ہونی چاہیے اور مکان مالک کے خلاف قانون کی روشنی میں سخت کارروائی کی جائے حکومت ملک بھر میں بوسیدہ عمارتوں کو گرانے کیلئے ٹھوس اقدام بروئے کار لائے اور موت کا منظر پیش کرتی عمارتوں سے لوگوں کی زندگیوں کو بچائے حکومت کی یہ ذمہ داری قرار پاتی ہے کہ وہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے حکومت اس واقعہ کے متاثرین کی مالی امداد کرے ۔ خداوند کریم اس جانکاہ واقعہ میں جاں بحق افراد کی مغفرت کرے اور ان کے پسماندگان کو صبروجمیل عطا فرمائے۔
ترکی میں دھماکہ
دہشت گردی کے ناسور نے ترکی میں 50 افراد کی جان لے لی اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ شادی کی تقریب کے دوران خودکش حملہ آور نے دھماکہ کیا جس کے نتیجہ میں خوشیوں کی رونقیں غمی میں بدل گئیں ۔ تقریب ماتم کدہ بن گئی ۔ 94 افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے ۔ پاکستان نے اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ مشکل کی گھڑی میں پاکستان ترک کے ساتھ کھڑا ہے۔ دہشت گردی کا ناسور پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتا جارہا ہے ۔ دنیا کو اس کی روک تھام کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنی ہوگی ورنہ دہشت گردی دنیا کے امن کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دے گی ۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف اس کا کردار عالمی برادری کیلئے قابل تقلید ہے ترکی دھماکے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں اور درندوں اور بھیڑوں کی طرح انسانوں کو ماررہے ہیں ۔ دہشت گردی کی اجازت دنیا کا کوئی ملک نہیں دیتا اسلام تو ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ دہشت گردی کا بتدریج بڑھنا خطرے کی علامت ہے اس کے خاتمے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔