- الإعلانات -

پاکستان عالمی عدالت انصاف میں

بھارت کی ایک اور آبی جارحیت سامنے آئی ہے جس سے حکومت ابھی تک بے خبر ہے۔ بھارت نے دریائے چناب پر ایک اور پن بجلی منصوبے کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ دستاویزات کے مطابق منصوبے سے دریائے چناب کے بہاو ¿ میں 14 فیصد کمی کا خدشہ ہے۔ ”ریٹل“ نامی پن بجلی کا منصوبہ دریائے چناب پر ضلع کشتواڑ میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا حجم نیلم جہلم ہائیڈرو منصوبے جتنا ہے جو 6 سال میں مکمل کیا جائے گا۔ 30 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے پانی کی بہت زیادہ مقدار درکار ہے۔بھارت 2022 تک مقبوضہ کشمیر میں دریاﺅں سے 23ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ ابھی تک بھارت نے 330میگاواٹ کا دلہستی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، 450میگاواٹ کا بگلیہار پراجیکٹ مکمل کرلیا ہے اور کشن گنگا تکمیل کے مراحل میں ہے جبکہ ریٹل پراجیکٹ بھی شروع ہو گیا ہے۔ بھارت نے دریائے نیلم جو پاکستان میں دریائے جہلم سے ملتاہے پر بھی یوری I ،یوریII ہائیڈرو پراجیکٹس مکمل کرلیا ہے۔ اس نے مقبوضہ علاقے میں نیمو بازگو اور چٹک ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کو بھی مکمل کرلیے ہیں۔ پاکستان نے کشن گنگا اور ریٹل کے علاوہ بھارت میں دریائے چناب میں بنائے جانے والے دوسرے تین پراجیکٹس پر بھی اپنی تشویش ظاہر کی ہے جن میں پاک دل 1000میگاواٹ، میار 120میگاواٹ اور لوئر کالنائی 48میگاواٹ شامل ہے۔ 330 میگاواٹ کا کشن گنگا ڈیم تعمیر کے آخری مراحل میں ہے۔ یہ ڈیم دریائے کشن گنگا کے پانی کو دریائے جہلم کے پاور پلانٹ کی طرف موڑنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ کثیر المقاصد ڈیم مقبوضہ کشمیر میں نندی پور سے 5کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔850 میگاواٹ کا ریٹل پراجیکٹ دریائے چناب پر واقع ہے اس کی تکمیل میں تقریبا ایک سال لگے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر بھارت چناب پر اس کے موجودہ قابل اعتراض ڈیزائن کے مطابق ریٹل ہائیڈرو پراجیکٹ بنا لیتا ہے تو مرالہ ہیڈ پر دریائے چناب کے پانی کے بہاﺅ میں 40فیصد تک کمی آ جائے گی جو پاکستان میں پنجاب اور سندھ کے صوبوں میں ایریگیشن کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ معاہدے کے مطابق بھارت کسی دریا کا رخ نہیں موڑ سکتا جبکہ کشن گنگا پراجیکٹ کے تحت دریائے نیلم کا رخ موڑ کر دریائے جہلم میں ڈالا جا رہا ہے جس سے پاکستان ریگستان میں تبدیل ہو جائے گا۔اس ساری صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان نے بھارت کے متنازعہ کشن گنگا ڈیم اور ریٹل پراجیکٹ کے خلاف کیس عالمی بنک کی ثالثی عدالت میں دائر کر دیا ہے۔ کشن گنگا ڈیم پر پاکستان نے دو بڑے اعتراضات کئے ہیں۔ پاکستان کا مو ¿قف ہے بھارت دریائے کشن گنگا کا ر ±خ نہیں موڑ سکتا اور ڈیم کی جھیل میں پانی ڈیڈ سٹوریج لیول سے نیچے نہیں لے جا سکتا۔ پاکستان کے نمائندے کمال مجید اللہ نے کیس کی دستاویز لندن کی عدالت کے چیئرمین کو جمع کرا دی ہیں۔ 7ججز پر مشتمل عدالت آئندہ ماہ سے کیس کی سماعت شروع کر سکتی ہے۔آبی ماہر ایوب خان میو کا کہنا ہے قانونی نقطہ نظر سے پاکستان کا کیس انتہائی مضبوط ہے تاہم پاکستان کی طرف سے ماضی میں صحیح طریقے سے پیروی نہ کرنے پر بھارت نے فائدہ اٹھایا۔ پاکستان آبی معالات پر اس طرح سنجیدگی نہیں دکھا رہا جس کی ضرورت ہے۔
٭٭٭٭٭
 پاکستان کو بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف پوری دنیا میں آواز بلند کرنی چاہئے تاکہ پاکستان کی زراعت اور معیشت تباہ ہونے سے بچ سکے۔ کہتے ہیں کہ آئندہ جنگیں پانی پر ہونگی۔ پاکستان کی حد تک تو یہ بات بڑی حد تک ٹھیک ہے کیونکہ ایٹمی و زرعی پاکستان کو بھارتی آبی جارحیت کا سامنا ہے۔ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہر سال دو ہائیڈرو پراجیکٹ مکمل کررہا ہے اور اب تک سندھ طاس معاہدے کے بعد 37 ہائیڈرو منصوبے مکمل کرچکا ہے جبکہ پاکستان کو ریگستان میں تبدیل کرنے کیلئے 62 ڈیموں کی تعمیر مختلف مراحل میں ہے۔ دوسری طرف یہ بات بھی کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ کالاباغ ڈیم کی مخالفت کے پیچھے بھی بھارتی راء کی فنڈنگ تھی۔ ماہرین لگی لپٹی رکھے بغیر بھارتی ڈیموں کی تعمیر پر بروقت اعتراضات نہ اٹھانے اور کالا باغ ڈیم پر قومی اتفاق رائے نہ ہونے دینے کے پیچھے لابی کو بے نقاب کرتے رہے ہیں۔بھارت دوہری آبی جارحیت کے ذریعے خشک سالی کے دور میں پاکستان کے حصے کا پانی روک کر اور سیلاب کے دنوں میں مزید پانی چھوڑ کر پاکستان کو صحرا زدہ اور سیلاب زدہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھے ہوئے ہے جس سے پاکستان کی ماحولیات اور زراعت تباہی کے دہانے پر پہنچنے والی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہیگ کی عالمی عدالت انصاف نے فروری 2013 میں جو حکم جاری کیا تھا بھارت اس پر عملدرآمد نہیں کررہا۔ عدالت نے کشن گنگا ہائیڈرو پراجیکٹ سے 24گھنٹے پانی کے ماحولیاتی بہاﺅ کو جاری رکھنے کے لئے 9کیوبک میٹر فی سیکنڈ پانی چھوڑنے کا حکم دیا تھا جبکہ بھارتی حکومت کی تجویز 4.25کیوبک میٹر فی سیکنڈ تھی جس پر بھارت عمل کر رہا ہے۔