- الإعلانات -

الطاف کی ایک اور تقریر،حکومت کہاں ہے….؟

 متحدہ قومی موومنٹ کے سابق قائد الطاف حسین نے ایک بار پھر امریکہ میں تقریر کر کے پاکستان کیخلاف باتیں کی ہیں اور وہاں پر کارکنوں کو تحریک جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے بھوک ہڑتالی کیمپ میں پاکستان مخالف نعرے لگانے پر مانگی جانے والی معافی پر بھی مختلف تاویلیں دیں اور کہا کہ میں نے اس لیے معافی مانگی تاکہ میرے کارکنوں کو کچھ نہ ہو۔ایک طرف تو الطاف حسین پاکستانی قوم سے بار بار معافی مانگ رہے ہیں اور یہ معافی متحدہ کی ویب سائیٹ پر جاری بھی کی جاتی ہے اور دوسری طرف امریکہ میں کارکنوں کو بتایا جاتا ہے کہ میں نے معافی مجبوری میں مانگی ہے۔ایک طرف تو الطاف حسین کہتے ہیں کہ میری ذہنی حالت ٹھیک نہیں اب میں اپنی مکمل توجہ اپنی صحت پر مرکوز رکھوں گااس لئے اپنے مکمل پارٹی اختیارات رابطہ کمیٹی کے سپرد کرتا ہوں۔ارے یہ کونسی دماغی حالت ہے جو خراب ہو تو صرف پاکستان اور اسکے اداروں کیخلاف زہر اگلنے پر مجبور کرتی ہے جبکہ امریکہ ،اسرائیل اور بھارت کو گالی پر مجبور نہیں کرتی۔الطاف حسین اور ایم کیوایم کے رہنماﺅں نے اس ملک اور اس ملک کے عوام کو صحیح معنوں میں بے وقوف بنایا ہوا ہے۔کیا کبھی امریکی شہری امریکہ میں رہتے ہوئے امریکہ مردہ باد کا نعرہ لگا سکتا ہے ےا بیرون ملک بیٹھ کر اپنے کارکنوں کو یہ نعرہ سنا سکتا ہے اور کارکن بھی اس نعرے پر اعتراض کے بجائے لبیک کہ رہے ہوں،میرا خیال ہے کہ ایسا امریکہ کیا برطانیہ یا کسی اور ملک میں کسی صورت نہیں ہو سکتا،یہ صرف پاکستان کی دھرتی اور اسکی حکومت ہی ہے جو اتنی چھوٹ دیتی ہے کہ پاکستان آﺅ بھی نہ اور باہر بیٹھ کر پاکستان کے مستقبل کے فیصلے کرو۔واہ رے اس ملک کی قسمت۔ایک طرف تو دوہری شہریت کے حامل شخص کی آئینی درخواست اس لئے خارج کر دی جاتی ہے کہ دوہری شہریت رکھنے کے باعث وہ اس درخواست کے اہل نہیں اور دوسری طرف 23سالوں سے باہربیٹھے شخص کو اتنی کھلی چھوٹ دے دی جاتی ہے کہ وہ سالہا سال سے پاکستان کیخلاف زہر اگل رہا ہے جو اس کیفیت کو ذہنی خرابی کا نام دیکر فوری معافی بھی مانگ لیتا ہے۔جب لوہا گرم ہو اور یہ ملک دشمن عناصر سمجھ لیں کہ اب قوم معافی قبول نہیں کریگی تو جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے کا ڈرامہ شروع ہو جاتا ہے۔بس بہت ہو چکا۔بہت بے وقوف بنا لیا گیا اس ملک اور اس ملک کے سادہ لو ح عوام کو۔مگر عوام کیا کر سکتی ہے۔زیادہ سے زیادہ پرامن احتجاجی مظاہرہ ہی کیا جا سکتا ہے۔اس سے زیادہ یہ قوم کیا کر سکتی ہے؟ہاں اگر کوئی کر سکتا ہے تو وہ برسر اقتدار لوگ ہیں جو اس کے ذمہ داروں کا محاسبہ کر سکتے ہیں مگر یہی تو وہ برسر اقتدار طبقہ ہے جس کی غفلت کے باعث صورتحال یہا ں تک پہنچ گئی ہے۔قومی اداروں کو بھی چاہئے کہ دو اور دو چار کی پالیسی اپنائی جائے۔جزا اور سزا کا نظام سیدھا سادہ ہونا چاہئے۔حکومت اور ملکی اداروں کو کوئی تو ریڈ لائن کھینچنی پڑے گی جس کو کوئی بھی کراس کرے چاہے وہ پارلیمنٹ کے اندر ہو ےا پارلیمنٹ کے باہر،حکومت میں ہو ےا حکومت سے باہر،پکڑمیں آنا چاہئے۔ایسا نظام تو نہیں چل سکتا کہ ایک شخص انٹرنیٹ کے ذریعے محض ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرے اور حکومت اس کو دھر لے اور مقدمات کے ذریعے اسے جیل میں ڈال دیا جائے جبکہ دوسری طرف پارلیمنٹ اند ر اور باہر ملک اور ملکی اداروں کیخلاف زہر اگلا جائے بلکہ پھر اس زہر فشانی پر ڈھیٹوں کی طرح قائم بھی رہے اور اسے کسی کٹہرے میں نہ کھڑا کیا جائے۔اگر ایسا نظام چلا تو یہ اپنے پاﺅں پر کلہاڑی چلانے کے مترادف ہو گا۔میں اس بات سے بالکل متفق ہوں کہ اس ملک کے انتظامی معاملات جمہوری طریقے سے چلائے جانے چاہئیں لیکن احتساب کے عمل کو بھی اتنا ہی سخت ہونا چاہئے۔جب تک بلاتفریق احتساب کا عمل شروع نہیں ہو گا تب تک یہ ملک ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنے مقصد کو پا سکتا ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری غیر منصفانہ نظام تبدیل کئے بغیر اس ملک کے عوام کے دلوں کو نہیں جیتا جا سکتا۔قانون کی گرفت میں لانے کیلئے امیر اور غریب کے فرق کو ختم کرنا ہو گا،کمزور اور طاقور کی تفریق کو بھی دفن کرنا ہو گا کیونکہ صرف اور صرف اسی صورت قانون کی حکمرانی قائم ہو گی۔ہمیں حکمرانوں کے ہاتھوںقانون کے غلط استعمال کو بھی روکنا ہو گا۔جہاں جہاں خرابی موجود ہے اس کو دور کرنا ہو گا۔اب دیکھیں کہ آج حکومت یہ فیصلہ کر رہی ہے کہ الطاف حسین کیخلاف ریفرنس تیار کر کے برطانیہ بھیجا جائے گا لیکن یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر اس حوالے سے نظریہ ضرورت آج تک کون استعمال کر رہا تھا،کیا وہ آج کی صورتحال کا برابر کا شریک نہیں؟آخر سہولت کار کون ہوتے ہیں اور کن کو کہا جاتا ہے؟چلیں جی آپ کسی کو کٹہرے میں نہ لائیں اور اس حوالے سے عام معافی کا اعلان کر دیں لیکن خدا کیلئے آئندہ کیلئے تو قانون سازی کر دیں تاکہ کوئی اور مائی کا لال اس ملک کا شہری ہوتے ہوئے اس ملک کیخلاف نعرے لگانے کی جرات نہ کر سکے اگر ایسا نہ ہوا تو تمام میٹنگز دھری کی دھری رہ جائیں گی اور ہم علاج پر ہی اربوں ڈالر خرچ کرتے رہیں گے اور اس ملک کی معیشت کمزور ہوتی رہے گی۔علاج سے بہتر احتیاط کے قانون کو اپنانا ہو گاورنہ پہلے لاوا پکے گا اور پھر ابلے گا۔کب تک لاوے کا راستہ روکا جاتا رہے گا۔ملک کیخلاف چلنے والی فیکٹریوں کو بند کرنا ہو گا۔