- الإعلانات -

الطاف گردی ۔۔۔برطانیہ سے دوٹوک بات کی جائے

ذرا تصور کیجیے الطاف کی جگہ کوئی پاکستانی ہوتا ۔وہ پاکستان میں بیٹھ کر برطانیہ کے اپنے وابستگان سے خطاب کرتا۔ وہاں وہ برطانیہ مردہ باد کے نعرے لگواتا۔ اس کے بعد وہ کارکنان کو حکم دیتا کہ بی بی سی پر چڑھ دوڑو۔۔۔کیا اس کے بعد برطانوی حکومت خاموش رہتی۔کیا وہ ایک طوفان نہ اٹھا دیتی۔کیا پاکستان کا دنیا بھر میں ناطقہ نہ بند کر دیا جاتا کہ اس دہشت گرد کو برطانیہ کے حوالے کرو۔
لیکن پاکستان کو گولی دینے والا شخص برطانیہ میں بیٹھا موج میلا کر رہا ہے۔جب چاہتا ہے پاکستان کے معاشی مرکز کراچی کو بند کرا دیتا ہے۔قتل و غارت کا ایک طوفان ہے جو اس سے منسوب کیا جاتا ہے لیکن برطانیہ اسے کچھ کہنے کو تیار نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کھیل کیاکھیلاجا رہا ہے۔
سی پیک اس وقت بد خواہوں کے سینوں پر مونگ دل رہا ہے۔حکمت اور قدرے ایثار سے کام لیا گیا تو وطن عزیز کی معاشی اور تزویراتی دنیا ہی میں معنوی تبدیلیاں یقینی نہیں بلکہ بلوچستان میں امکانات کا جہان نو آباد ہو سکتا ہے جو محرومیوں کے آتش فشاں کو بڑی حد تک ٹھنڈا کر سکتا ہے۔تمام جمع تفریق کے بعد ، آخری تجزیے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سی پیک کے بعد کا پاکستان پہلے کے پاکستان سے مختلف ہو گا۔جس ملک کو معاشی امداد اور قرض دینے کا آغاز ہی اس اعلانیہ پالیسی کے تحت ہوا ہو کہ پاکستان سے تعلقات میں ہمارا اصل مقصد یہ ہے کہ اس کی حکومتوں اور عوام کا رخ امریکہ اور دیگر مغربی جمہوریتوں کی طرف رہے اور ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان جغرافیائی طور پر آزاد ہو مگر دفاع اور معیشت میں ہمارا محتاج ہو،وہ پاکستان آج چین کے ساتھ مل کر دفاع اور معیشت میں امکانات کی ایک نئی دنیا آباد کرنے جا رہا ہو تو کیا ہمارے مہربان ممالک یہ کام اتنی آسانی سے ہونے دیں گے۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پہلی بار جب میر لائق علی قرض اور امداد کی درخواست لے کر امریکہ گئے تو یہ درخواست نچلی سطح پر رد کر دی گئی۔بعد میں امریکی پالیسی میں تبدیلی آتی ہے اور اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ مک گھی نے شعبہ امداد کے کو آرڈی نیٹر کو تنبیہہ کرتے ہوئے لکھا کہ جنوبی ایشیاءمیں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ اس درخواست پر ہمدردانہ غور کیا جائے۔اس خط میں اہداف واضح طور پر بیان کر دیے گئے ۔( سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اندرونی خط نمبر .845.51.1.274اٹھارہ اکتوبر انیس سو سینتالیس )۔یوں اس درخواست کو شرف قبولیت حاصل ہوا جو اس سے قبل نچلی سطح پر رد کی جا چکی تھی۔اب پاکستان کی حکومت اور عوام کا رخ امریکہ اور مغربی جمہوریتوں کی بجائے چین کی طرف ہو رہا ہے اور پاکستان خود کفالت کے خواب کی تعبیر کی طرف دھیرے دھیرے قدم اٹھا رہا ہے تو یہ کام ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا جائے گا۔پاکستان کو ہر اس جگہ سے زک پہنچائی جا سکتی ہے جہاں سے وار کرنا ان کے لیے ممکن ہو۔کراچی ایسا ہی ایک مقام ہے جو چن لیا گیا ہے۔کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ الطاف حسین پر اتنے خوفناک الزامات کے باوجود اور ان کے ثبوت فراہم کیے جانے کے باوجود برطانیہ الطاف حسین کی سرپرستی محض انسان دوستی کے تحت کر رہا ہے؟ جس ملک کے نظام قانون کی دنیا مثال دیتی ہو وہ ملک منی لانڈرنگ کے ایک کیس اور ایک قتل کی تحقیقات کو منطقی انجام تک نہ پہنچا پا رہا ہو تو کیا یہ محض ایک اتفاق ہے؟ کیا یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ یہ صرف ایک کم بخت کلرک کی غلطی تھی جو الطاف حسین کو برطانیہ کی شہریت دینے کا باعث بنی اور اس غلطی کی کوئی شان نزول نہیں تھی ؟ اب جب کہ خود برطانوی اخبارگارجین نے یہ ساری کہانی کھول کر بیان کر دی ہے کہ مریکہ نے کراچی میں انٹلی جنس کا کام صرف برطانیہ پر چھوڑ رکھا ہے اور یہاں اس کا اپنا نظام موجود نہیں ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ کراچی میں برطانیہ کی طاقت کون ہے اور برطانیہ پر امریکہ کا یہ اعتماد کس لیے ہے؟ برطانیہ تو امریکہ کے لیے کام کر ہی رہا ہے ۔کراچی میں برطانیہ کےلیے کون کام کر رہا ہے؟ ڈاٹس کو ملاتے جائیے سارا منظر نامہ آشکار ہو جائے گا۔برطانیہ ہمارے ہاں وہی واردات کروا رہا ہے جسے مہاتیر محمد ”رول بائی پراکسی “کہتے ہیں۔برطانیہ ہو یا امریکہ، امر واقع یہ ہے کہ حقوق انسانی کے حوالے سے جتنی گھناﺅنی تاریخ ان کی ہے شاید ہی کسی کی ہو۔ان کا خونی ماضی تو تاویلات میں دبا ہوا ہے ابھی افغانستان سے انہوں نے بچوں کو ذبح کر کے ان کی ہڈیوں کی ٹرافیاں بنائیں۔( بحوالہ، دی گارجین، نو دسمبر دو ہزار دس )۔بہت مضبوط تاثرہے کہ برطانیہ ہمارے ہاں ظلم و وحشت کے اس کھیل کی سرپرستی فرما رہا ہے۔الطاف حسین کو برطانیہ کا ” گڈ طالبان “ کہا جا سکتا ہے۔اب حیرت یہ ہے کہ وہ دانشور جو این جی اوز بنا کر اس ملک کو مغرب کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور روز پاکستان پر ایک فرد جرم عائد کرتے ہیں اس معاملے میں گونگے شیطان بنے بیٹھے ہیں۔برطانیہ کی مذمت تو درکنار، اس سے یہ مطالبہ بھی نہیں کرپا رہے کہ وہ اپنے شہری کو قابو میں رکھے۔ہاں اگر فورسز نے کہیں کارروائی کر دی تو حقوق انسانی کے نام پر ان خواتین و حضرات کا رونا دھونا دیکھنے کے قابل ہو گا۔۔۔۔۔غالباانہیں اسی کا انتظار ہے اورشاید الطاف حسین کو بھی اسی کی تمنا ہے۔
اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ برطانیہ سے دوٹوک انداز میں بات کی جائے۔قوموں کی مجبوریاں بھی ہوتی ہیں اور ممالک کمزور بھی ہوتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ دوسروں کو قتل کا لائسنس ہی جاری کر دیں۔الطاف گردی کو اب ختم ہو جانا چاہیے اور پاکستان کو برطانیہ سے دوٹوک انداز میں بات کرنی چاہیے۔