- الإعلانات -

نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت

وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان ون آن ون ملاقات بڑی اہمیت کی حامل قرار پائی یہ ملاقات وزیراعظم کی زیر صدرت اجلاس کے بعد ہوئی جس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملکی سالمیت کے خلاف کوئی سازش برداشت نہیں کی جائے گی اور نہ کسی قوت کوملک کو غیر مستحکم کرنے کی اجازت دی جائے گی ۔ ملاقات میں کراچی آپریشن کے مثبت اثرات اور ملکی سلامتی سمیت دیگر اہم امور پر غور کیا گیا اور اس بات پر سیاسی و عسکری قیادت نے اتفاق کیا کہ کراچی آپریشن کے مثبت اثرات ضائع نہیں ہونے دئیے جائیں گے ۔ پاکستان مخالف بیان کی مذمت بھی کی گئی ۔ یہ بے کم و کاست ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ملکی بقاءکیلئے ضروری ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی نہیں بنایا جاتا اس وقت تک دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے نہیں اکھاڑا جاسکتا ۔ کاش حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتی تو آج صورتحال مختلف ہوتی اب بھی کچھ نہیں گیا۔ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر کماحقہ عملدرآمد کرے تو یہ بات بڑے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ جہاں تک عسکری قیادت کا تعلق ہے وہ بے باک انداز میں آپریشن ضرب عضب جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ پاک فوج کا طرہ امتیاز ہے کہ ملک سے دہشت گردی کا ناسور آہستہ آہستہ ختم ہوتا جارہا ہے اور امن بحال ہوتادکھائی دینے لگا ہے ۔ دہشت گردی میں بھارت کا ہاتھ ہے اور الطاف حسین سے جو زہر اگلوایا گیا ہے اس میں بھی بھارت کا عمل دخل ہے اور مسئلہ کشمیرسے توجہ ہٹانے کی یہ کوشش ہے لیکن دنیا جا نتی ہے کہ بھارت کے مذموم عزائم کیا ہیں ایک طرف وہ دہشتگردانہ کارروائیاں کروا کر پاکستان میں عدم استحکام پیدا کررہا ہے تو دوسری طرف کشمیریوں پر ظلم ڈھارہا ہے سرحدی قوانین کی خلاف ورزی بھی اس نے اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے ۔ اب ایم کیو ایم کے قائد کو اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل کیلئے استعمال کررہا ہے لیکن اس طرح کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی کیونکہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت ایک پیج پر ہے ۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے الطاف حسین کے خلاف شواہد برطانیہ کو دے دئیے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ حکومت برطانیہ جلد پیشرفت کرے گی۔ چوہدری نثار نے بجا فرمایا کہ کسی کے ایک فون پر کراچی کو یرغمال نہیں بنانے دیا جائے گا ۔ کراچی والوں نے 25 سال کا بوجھ اتار پھینکا ہے ۔ آپریشن ادھورا نہیں چھوڑیں گے متحدہ پر پابندی قانون کے مطابق ہوگی ۔ حکومت کو اب کسی سیاسی مصلحت اندیشی سے کام لیے بغیر ملک و قوم کے دشمنوں کے خلاف فوری کارروائی کرنی چاہیے اور ملکی وقار سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے ۔نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کوتیز کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے مطلوبہ مقاصد اور اہدف بھی حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان ہی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا ذریعہ قرار پاسکتا ہے۔دہشت گردی کی اجازت دنیا کا کوئی مذہب نہیں دیتا پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے جس میں اس کو کافی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن اس کی سیاسی و عسکری قیادت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے جو اس امر کا عکاس ہے کہ دہشت گردوں کی اب یہاںکوئی جگہ نہیں ۔ دہشت گردی کا خاتمہ ہی ملک کی ترقی و خوشحالی کا باعث قرار پائے گا۔نیشنل ایکشن پلان پر تیزی سے عمل کرکے اس کے اہداف پورے کرنے کی ضرورت ہے۔
عدالت عظمیٰ کے ریمارکس حکومت کیلئے لمحہ فکریہ
 سپریم کورٹ کے جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم حکومت سے لڑائی نہیں چاہتے لیکن بنیادی حقوق کے معاملے پر آنکھیں بھی بند نہیں کریں گے یہاں کسی کو خوف خدا نہیں سبزیوں میں بھی زہر پایا جارہا ہے لوگ پیسے بنانے کیلئے حرام بیچنے سے بھی نہیں ہچکچاتے لاہور سے باہر بھی پنجاب ہے کاغذی کارروائی نہیں مفصل اور ٹھوس رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے ۔ دوران سماعت جسٹس میاں ثاقب نثار اور جسٹس منظور احمد ملک کے ریمارکس بڑی اہمیت کے حامل ہیں حکومت ان پر سنجیدگی سے غور کرے عدلیہ اپنا فرض بطریق احسن نبھا رہی ہے لیکن حکومت کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے ۔سپریم کورٹ نے بجا فرمایا ہر دوسرے گھر میں کینسر کا مریض ہے اور علاج معالجہ کی سہولیات کا فقدان ہے ۔ حکومت زبانی کلامی تو بڑے بڑے دعوے کررہی ہے لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ پنجاب میں لوگ بیروزگاری اور مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں ۔ صحت و صفائی کا فقدان ہے ۔ ہسپتال ہیں لیکن ادویات کافقدان ہے عوام بنیادی سہولیات زندگی سے محروم ہیں ان کا معیار زندگی تواتر سے گرتا جارہا ہے اس کی ذمہ دار حکومت ہے کیونکہ ریاست کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کو مسائل سے نکالنے کی تدبیر کرتی ہے ان کا معیار زندگی بلند کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بناتی ہے ملک سے بدامنی بیروزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ کرتی ہے اب تو ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی نے عوام کو مزید مسائل میں الجھا دیا ہے۔ہر سو عوام کارونا دھونا سنائی دیتا ہے ۔ سپریم کورٹ نے بجا فرمایا کہ بنیادی انسانی حقوق پر آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں۔ حکومت عدلیہ کے فیصلوں کی پاسداری کرے اور اپنے انتظامی امور کو بطریق احسن نبھانے کی کوشش کرے۔
 حکومت سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے
 تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن ن لیگ کا ہے ۔ پانچ ماہ سے تماشا لگا ہے ۔ نواز شریف پانامہ لیکس پر جواب نہیں دے رہے ۔ سربراہ چور ہوتو ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔ فیصلہ کن وقت آگیا ہے پاکستان کس طرف جائے گا۔ عمران خان نے کہا ہے کہ عوام الطاف حسین کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں ۔ مشرف اور زرداری حکومتوں نے الطاف کے معاملے میں مصلحت سے کام لیا ۔ عمران خان جوکچھ کہہ رہے ہیں۔ حکومت کا کام ہے ان کو سنے اور اپنی کمزوریوں کو دور کرے حکومت کا فرض قرار پاتا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کواپنے ساتھ لے کر چلے اور ان کے تحفظات کو دور کرے لیکن حکومت ایسا کرنے سے گریزاں ہے جس سے اپوزیشن اس کے خلاف صف بندی کررہی ہے جس سے سیاسی عدم استحکام کا امکان بڑھنے لگا ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ پانامہ لیکس پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات دورکرے اور خود کو احتساب کیلئے پیش کرے تاکہ ملک کو سیاسی عدم استحکام سے بچایا جاسکے ۔ سیاسی لڑائی سے ملک ترقی نہیں کرسکتا اور نہ ہی خوشحالی آسکتی ہے۔