- الإعلانات -

بلاول کی تقریر یا بے آب ماہی

لاہور میں بلاول بھٹو نے کیا جذباتی تقریر کی ہے انہوں نے اپنی وہ اسی تقریر کی یاد کرادی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ”مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں“ مگرشاید اس فارمولے پر نہ ہی بلاول قائم رہ سکے اور نہ ہی پیپلزپارٹی ۔جب انہوں نے دیکھا کہ اب سندھ میں دال نہیں گل رہی ہے تو اب ان کی کوشش ہے کہ پنجاب میں شب خون ماریں ۔اسی وجہ سے اب وہ آستینیں چڑھا کر سیاسی میدان میںباقاعدہ اتر آئے ہیں مگر پہلے بہتر تو یہ تھا کہ لاہور میں ہونے والی تقریر میں جس جس چیز کے حوالے سے انہوں نے الزامات عائد کیے ہیں ان کا درست ہونا یا نہ ہونا یہ تو بعد کی بحث ہے پہلے وہ سندھ سے کرپشن ختم کرکے چلتے تو پھر پنجاب میں ان کے قدم بہت مضبوط جمنے تھے ۔کراچی کے حالات تو کچھ اور ہی کہانی سنا رہے ہیں ۔وہاں پر کرپشن انتہا کو پہنچ چکی ہے چائنا کٹنگ کاکوئی حال نہیں ہے ۔اب اگر ڈاکٹر عاصم کے ایک اور زرداری کا قریبی ساتھی اس وقت شکنجے میں ہے ۔اب بات یہ ہے کہ یہ لوگ انکشافات کررہے ہیں اور معاملات آگے بڑھتے جارہے ہیں تو پھر ”بے آب ماہی “ کی طرح تڑپنے کی کیا ضرورت ہے ۔پہلے ا پنا دامن صاف کیجیے جناب بلاول بھٹوزرداری صاحب پھر دوسرے گریبان میں ہاتھ ڈالیں ۔پتہ چلے کہ اپنے ہی دامن میں سوچھید ہوئے ہیں تو پھر ابن انشاءکے مطابق ”جس جھولی میں جو چھید ہوئے ،اس جھولی کا پھیلانا کیا “ یہ انشاءجی کی موجودہ حالات کے مطابق صحیح غزل ہے ۔جھولی میں اب ووٹ لینے کیلئے نکلے ہیں اس جھولی میںتو پہلے ہی اتنے چھید ہوچکے ہیں کہ اس میں کیونکر ووٹ ٹھہر سکے گا ۔ہم یہ نہیں کہتے کہ پنجاب میں سارے ہی ”پویتر“ ہیں ۔ہم تو پہلے ہی اس بات کے حق میں ہیں کہ جو آپریشن سندھ میں ہورہا ہے اس کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلنا چاہیے ۔جو بھی اس دائرہ کار میں آئے اس کو قرار و اقعی سزا ملنی چاہیے ۔ایک بات ہم اور یہاں کہتے چلیں کہ ا بھی بہت زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ،باریاں لگی ہوئی ہیں بس وقت کا انتظارہے کہ کون کس وقت آتا ہے ۔چونکہ بلاول بھٹو نوجوان خون ہیںاوران کے خون میں خوب تڑپ بھی ہے ،للکار بھی ہے ،اسی وجہ سے انہوں نے لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکمرانوں کو بتانا چاہتا ہوں اپنی سمت تبدیل کر لو کیونکہ اب وقت بدل چکا ہے،ملک کا غریب اور متوسط طبقہ جو کماتا ہے وہ (ن) لیگ والے لوٹ کر لے جاتے ہیں،پی آئی اے کو پستی میں دھکیل دیا گیا ، سٹیل ملز کے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دی جارہیںاور یہ صرف اس لئے کیا جارہا ہے تاکہ قومی اداروںکو ایم سی بی کی طرح اپنی ”منشا “کے مطابق کوڑیوں کے بھاﺅ بیچ سکیں مگر اب ہم یہ نہیں ہونے دیں گے ‘گنہگاروں کو سزا دےں جائےں ‘پیپلز پارٹی آپ کے ساتھ ہے جو کرنا ہے کرو مگر عدل و انصاف سے سیاسی انتقام سے نہیں ،میں آج بھی انصاف کا طلبگار ہوں،قائد عوام کے عدالتی قتل کا ریفرنس زیر التواءہے عدلیہ کیوں اسے نہیں سنتی ، اصغر خان کیس پر کب عملدرآمد ہوگا، اسی لاہو رمیں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے سرمایہ داروںں اور جاگیرداروں کے خلاف نعرہ بلند کیا تھا میں بھی آج کہتا ہوں کہ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام نہیں چلے گا ،کسانوں، مزدوروں،غریبوں اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق کی جنگ ہم ہی جیتیں گے ،جو کسان کا دشمن ہے ،جو مزدور کا دشمن ہے ،جو غریب کا دشمن ہے ،جو کشمیر کی بات نہیں کر سکتا اس سے کوئی مفاہمت نہیں ہو سکتی ۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ بلاول نے یہ بات بڑی سنہری کہی کہ جو غریب کا دشمن ہے اس سے کوئی مفاہمت نہیں ہوسکتی تو پھرجناب والا دیکھ لیں کہ جب پیپلزپارٹی کا دور حکومت رہا اس وقت غریب کا کیا حال تھا ۔ہمیں بہت اچھی طرح یاد ہے کہ جب ذوالفقار علی بھٹو نے اس پارٹی کی بنیاد رکھی تو انہوں نے عوام کو نعرہ دیا تھا کہ روٹی،کپڑا اور مکان تو جناب بلاول صاحب تھوڑی سی تاریخ پر نظر دوڑا لیں کہ آپ کے دور حکومت میں غریب کتنا سکھی تھا ۔کیا اس کو دو وقت کی روٹی مل جاتی تھی ۔کیا اس وقت مہنگائی کنٹرول تھی ،مخالفت میں آکر تنقید برائے تنقید کرنا سب سے آسان کام ہے ،آپ یہ دیکھیں کہ اس وقت حکومت نے جو تاریخی کام کیا ہے وہ اقتصادی راہداری کا ہے۔یہ منصوبہ آج کیلئے نہیں ہماری آنیوالی نسلوں کیلئے ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اس منصوبے میں خطے کی ترقی مضمر ہے ۔پاکستان ان ممالک کی صف میں شامل ہوجائیگا جو اس وقت دنیا میں ترقی یافتہ گردانے جاتے ہیں ۔ہم بلاول بھٹو کو یہ بات بھی واضح طور پر بتانا پسند کریں گے کہ وہ جتنا مرضی زور لگا لیں ۔ن لیگ کی حکومت ہر صورت جمہوری دور کے پانچ سال پورے کرے گی ۔ایک اچھے سیاستدان کیلئے سب سے بہتر آپشن یہی ہے کہ وہ حکومت کو وقت پورا کرنے دے ۔اس کے راستے میں روڑے نہ اٹکائے جائیں کیونکہ اگر بلاول بھٹو یعنی کہ پیپلزپارٹی ،عمران خان ،تحریک انصاف یا دیگر لیگیں جو اس وقت اتحاد بنانے جارہی ہیں ان کی مہم چلانے سے فائدہ مسلم لیگ ن کو ہی ہوگا ۔لہذا سب سے بہترین فارمولا یہ ہے کہ اس وقت سکون رکھیں ،حکومت جو ترقیاتی کام کررہی ہے اس کو کرنے دیں ،وزیراعظم سیاسی میدان میں اس وقت بہترین انداز میں جارہے ہیں ،امن وامان بھی قائم ہورہا ہے اور آپریشن ضرب عضب بھی کامیابی سے جارہا ہے ۔خدارا شور مچا کر ملک دشمن عناصر کے ہاتھ مضبوط نہ کریں ۔