- الإعلانات -

کشمیر اور مُسلم اُمہ

کشمیر پہا ڑو ں ، بر فو ں ،در ختو ں، خو بصو ر ت واد یو ں ۔ ابشا رو ں اور ٹھنڈ ے پا نی کے چشمو ں کی سر زمین ہے ۔ خو بصو رت منا ظر ۔ ٹھنڈ ی وادیا ں اور سر سبز پہا ڑو ں کا یہ خطہ زمین جنت کا ٹکڑا ہے ۔ کو ہ ہمالیہ سے جڑا یہ خطہ امن ، سکو ن کا مرکز تھا ! اس میں بسنے والو ں میں ہند و ۔ سکھ، عیسا ئی ۔ بد ھ مت والو ں کے علا وہ بھا ری اکثر یت مسلما نو ں کی ہے ۔ یہ راجا ﺅں کی سر زمین بھی کہلا سکتی ہے۔ کیو نکہ بٹ ،ڈار،عبا سی ، کیلا نی، لو ن، میر ، ستی برادری کے علا وہ راجہ برادری بھی بڑ ی تعداد میںکشمیر میں آ با د ہے ۔ مگر اس وادی جنت نظیر کو ڈو گرا راجہ نے ہند و ستان کے سا تھ الحا ق کر کے کشمیر کی زمین اور عوام کو خون واگ کے حوالے کر گیا ! خیر کشمیر کا الحا ق ہند و ستا ن سے ہو تا یا چین سے ! افغا نستا ن سے ہو تا یا پا کستان سے ! کشمیر ی عوام کا حق تھا مگر کشمیر کے حاکم نے عوامی خواہشا ت اور زمینی حقا ئق کے بر عکس ہند و ستا ن سے نا طہ جو ڑ کر کشمیر ی عوام کی زند گی کو روگ لگا گیا! کشمیری عوام انگر یز سے آ زادی حا صل کر نے کے بعد ہند وستا ن کی فو ج کی غلامی میں آ گئی ہے ۔ ہند و ستا نی فو ج کے کئی لا کھ سپاہی کشمیر یو ں کو غلام بنائے ہو ئے ہیں۔ آ ئے روز کشمیر یو ں کا خو ن بہا یا جا تا رہا ہے ۔ہند و ستا نی حکو مت کشمیر پر قبضہ رکھنے کی خا طر لا ٹھی گو لی اسطر ح استعما ل کر رہی ہے گو یا کشمیر ی انسا ن نہیں بلکہ جا نو ر ہیں ۔ جن کو شکا ر کر کے ہی ار ض کشمیر پر زبر دستی قبضہ جما یا جاسکتا ہے ۔ کشمیر یو ں نے ہند و ستا نی فو ج اور حکومت کے ظا لما نہ روئیہ کے خلا ف تحر یک آ زادی شر وع کر رکھی ہے اور آ زادی کےلئے لڑ نے والو ں کو عمو ما ًبا غی قرا ر دیا جا تا ہے ۔ او آ ج کشمیر کے حر یت پسند و ں کو حکومت ہند و ستا ن باغی قرار دیکر دن رات گو لیو ں سے بھو ننے میں مصر وف ہے ۔ ہز ارو ں کشمیر ی ہند و ستا نی حکومت کی افواج کے ہا تھو ں قتل اور لا کھو ں زخمی ہو چکے ہیں۔ جیلوںمیں جا نے والو ں کا شمار کر نا مشکل ہے ۔ کشمیر کی آ زادی کی تحریک چلتے چلتے بر سو ں بیت گئے۔ کشمیر یو ں نے جا ن ،ما ل، عز ت کی قر با نیا ں دیکر یہ ثا بت کیا ہے کہ کشمیر ی ہند و ستا ن کے سا تھ نہیں رہنا چا ہتے ! کشمیر ی ہند و ستا ن سے آ زاد ی مانگتے ہیں اسی کشمیرکے مسئلہ پر پا کستا ن اور ہند وستا ن کے درمیان کئی جنگیں ہو چکی ہیں یہ مسئلہ با ت چیت کے ذریعے حل نہ ہوا تو مجبو راً کشمیر ی اپنی تحر یک کو گو ر یلہ جنگ میں بد ل دیں گے ۔ تب کشمیر کا مسئلہ امن کے ہا تھو ں سے نکل جا ئے گا ۔ کشمیر ی چو نکہ مسلمان ہیں اور پا کستا ن کے سا تھ جڑ ے ہو ئے ہیں کشمیر یو ں کی آ زاد ی کی حمایت مسلم دنیا سے ہو نی چا ہیے مسلمان عر ب و افر یقی ۔ فا رسی ہو ں کہ افغا ن ان سب کا فر یضہ بنتا ہے کہ وہ اہل کشمیر پر ہونے والے مظا لم کے خلا ف ہند و ستا ن حکو مت پر اپنا سفا رتی ، اخلا قی ، تجا رتی ، دبا ﺅ ڈا لیں اور کشمیر یو ں کی ہر ممکن مالی ،فوجی ،سفا رتی امداد کر یں حتی کہ کشمیر یو ںکی جد و جہد آزادی میںہر ممکن امد اد کریں ۔ گو ریلہ جنگ ہوکہ عا لمی سطح کی سفا رتی جنگ ، ہر محاذ پر دنیا ئے اسلام کوکشمیر یو ں کی تحر یک آزادی کی بھر پو ر آ مداد کرنی چا ہیے چو نکہ ہند و ستا نی حکومت غیر مسلم حکومت ہے جو مسلمانو ں سے ذہنی دشمنی رکھتی ہے ۔اسلئے مسلم امہ کو ہند وستا ن کی ہر پلیٹ فا رم پر مخا لفت کر تے ہو ئے تحر یک آزادی کشمیر کی کامیا بی کےلئے اپنی طا قت کا استعما ل کر نا چا ہیے ۔ ہند وستا ن پا کستا ن ایک خطے کے دو نام ہیں۔ ایک خطہ پر مسلما نوںکی حکومت ہے ۔ جسے پا کستان کہتے ہیں۔ دوسر ے خطے پر ہند وﺅ ں کی حکومت ہے ۔ جسے ہند وستان کہتے ہیں۔ انگر یز سے آ زادی کے وقت تقسیم کے دوران ہند وستان سے ہجر ت کر نے والے مسلما نوںپر جو ظلم ہند و ﺅ ں نے کیا وہ تا ریخ کاحصہ بن چکاہے ۔ ذہنی ، مذ ہبی، اخلا قی ، تا ریخی، معا شر تی ، زبا نی اعتبا ر سے مسلما ن ،ہند وﺅں سے الگ قوم ہیں ۔قا ئد اعظم ؒ نے انہی بنیا دو ں کے سب مسلمانو ں کو ہند وﺅ ں سے الگ رہنے کےلئے وطن کامطا لبہ کیا تھا ! ہند ﺅ مسلما نو ں کے دشمن ہیں۔ ہند و مسلم اتحا د پیا ر ناممکن ہے۔مسلما نو ںاور ہندوﺅ ں کے زندگی گزارنے کے طر یقے ایک دوسر ے کے مخالف ہیں۔ اسلئے کشمیری ہند وستا ن کے سا تھ رہ کر گھٹن ، کر ب ، مشکل اور تکلیف محسو س کرتے ہیں۔ کشمیر یو ں کی تحر یک آزادی کے حق میں اقوام متحدہ واضح قرار دادیں منظو ر کر چکی ہے ۔ عشر ے گز رنے کے با وجو د اقوام متحدہ کی قرار دادو ں پر عمل درآمد نہ ہو رہا ہے اقوام متحدہ بھی ایک نا کام ادارہ ہے ۔
٭٭٭٭٭٭
دو سری طر ف پا کستا ن اور مسلما نو ں کی نا لا ئقی اور عد م تو جہی نے کشمیر یو ںکے غم بڑ ھا نے میں اہم کر دار ادا کیا ہے ۔ ہند وستا ن کشمیر یو ں پر روزانہ گولیا ں بر سا رہا ہے ! اور مسلم دنیا نہ صر ف خا مو ش تما شا ئی بنی ہو ئی ہے ۔ بلکہ مسلم امہ کی سردار حکومت سعو دیہ عر یبہ ہند وستا نی وزیر اعظم کو کشمیریو ں پرمظالم کے بدلے اعلیٰ لیو ل اعزاز سے نواز رہی ہے ۔ گویا کشمیر ی مسلمانو ںکی تحریک آزادی کی مذمت کی جا رہی ہے ۔ جس طر ح مسئلہ فلسطین پر مسلمانو ں کامو قف ایک تھا اور مسلم امہ ایک تھی اسی طر ح کشمیر کے مسئلہ کو بھی حکومت پاکستان ،مسلم ممالک میں، مسلم اقوام متحدہ میں پیش کر ے اور مسلم اقوام متحدہ سے مطالبے کرے کہ وہ کشمیر کی تحریک آزادی کےلئے مسلم امہ ہما ری ہرمحاذ پر امداد کر ے ! یعنی پا کستا ن خود بھی ہند وستان سے تمام تعلقات ، کارو با ر ختم کرکے ہند وستا ن پر دبا ﺅ ڈالے اورمسلم امہ کو ہند وستا ن سے تما م تعلقا ت ختم کرکے اسے تحریک آزادی کی مکمل حمایت پر راضی کرے۔
(باقی:سامنے والے صفحہ پر)
 پا کستانی حکام نے عوام کوہمیشہ بیو قو ف بنا ئے رکھا ہے اور بانکی مون کا یہ بیا ن کہ ہم دونوں مما لک میںثالثی کر انے کےلئے تیا ر ہیں ۔ دو نو ں مما لک مذاکرات سے مسئلہ کشمیر حل کر یں۔ ہماری حکومت اور ہما رے شفراءبانکی مو ن کے اس بیان کواپنی سفا رتی کا میابی قرار دیکر عوام کو پھر سے بیو قوف بنا رہے ہیں ۔ کشمیر کی آزادی مسلم اقوام متحدہ کے اتحا د اور سفا رتی ، اخلا قی اور فوجی دباﺅ سے ممکن ہے ، پھر کشمیر کی آزادی جنگ سے ممکن ہے پا کستا نی حکمران ہند وستا ن کی چیچہ گیری کر کے عوام کو مزید بیو قوف نہیں بناسکتے !ہند وستا ن کوکشمیر میں پر یشان ، بدنام کر کے تو مذاکرا ت کی میز پر تو لا یا جاسکتا ہے مذاکرات کی پیشکش حکومت ہند وستا ن کر ے ناکہ پا کستان مذاکرات کےلئے جھولی پھیلا تا پھر ے !مذاکرات کی بار بار جھولی پھےلا کر پاکستانی حکمرانوں نے کشمےر پر اقوام متحدہ مےں جےتی جنگ ہاری ہے۔جو حکمرانو ں کی بے مثا ل نا لا ئقی ہے !