- الإعلانات -

مودی نے دہشت گردی کرانے کا ثبوت دیدیا

 بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں دہشت گردوں کے گن گائے جاتے ہیں۔وہاں کی حکومت (پاکستانی حکومت) دہشت گردی کے نظریہ سے متاثر ہے۔ نریندر مودی نے سفید جھوٹ سے کام لیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر (آزاد کشمیر) اور گلگت کے عوام نے اپنے لئے آواز اٹھانے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ چند روز قبل نریندر مودی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان بلوچستان اور آزاد کشمیر میں ہونے والے مبینہ زیادتیوں کا جواب دے۔ نریندر مودی کی ڈیڑھ گھنٹے سے زائد کی تقریر میں کہیں بھی بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جاری حکومت مخالف احتجاجی لہر کا براہِ راست ذکر نہیں تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’آج کہیں جنگلوں میں ماو واد کے نام پر، سرحد پر انتہا پسندی کے نام پر، پہاڑوں میں دہشت گردی کے نام پر کندھوں پر بندوقیں لیکر بے قصور لوگوں کو مارنے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے شدت پسندی میں ملوث نوجوانوں کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ شدت پسندی کا راستہ ترک کر کے قومی دھارے میں شامل ہو جائیں۔ میں ان نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں یہ ملک تشدد کو کبھی برداشت نہیں کریگا، یہ ملک دہشت گردی کو کبھی برداشت نہیں کرے گا، یہ ملک دہشت گردوں کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا۔ میں ان نوجوانوں کو کہتا ہوں ابھی وقت ہے لوٹ آئیے۔مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ مودی کے خطاب نے ثبوت دیدیا کہ بھارت ”را“ کے ذریعہ بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔ را کیلئے کام کرنے والے بھارتی جاسوس کمانڈر کل بھوشن نے بھی اپنے بیان میں اس حقیقت کا اعتراف کیا ہوا ہے۔ بھارت دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے لیکن ایک بڑا ملک خود بخود عظیم ملک نہیں بن جاتا۔ خصوصاً وہ ملک جب حق خودارادیت مانگنے والے نہتے شہریوں کو اپنی سکیورٹی فورسز کے ظلم و ستم کا نشانہ بناتا ہے اور چھرے مار کر وہ کم از کم ایک سو نوجوانوں کو بینائی سے محروم کر چکا ہے۔ بھارت کو ادراک کرنا ہو گا کہ جموں و کشمیر جیسا بنیادی تنازعہ گولیوں سے بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سنجیدہ سفارتکاری کے ذریعہ ہی حل ہو گا۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بیان پر وزیراعلیٰ بلوچستان ثناءاللہ زہری نے کہا کہ بلوچستان ہمارا ہے اسے چلانے کیلئے بھارت کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔ کچھ لوگ چند ٹکوں کی خاطر معصوم لوگوں کا خون بہا رہے ہیں۔ ہم بلوچستان کے وارث ہیں۔ ہمیں کوئی ڈکٹیٹ نہیں کرا سکتا ہم آخر تک لڑیں گے اور دہشت گردوں کو ختم کرکے دم لیں گے۔ بھارت ہمیں کوئی مشورہ نہیں دے سکتا۔ گلگت بلتستان پر بھارتی وزیراعظم کا بیان بوکھلاہٹ کی عملی تصویر ہے۔ مودی کے نظریات رکھنے والوں کو گلگت بلتستان کے عوام نے 1947ءمیں بزور طاقت بھگا دیا تھا ۔ گلگت بلتستان کا ایک ایک بچہ پاکستان کے نظریاتی سرحدوں کا محافظ ہے۔ پاکستان سے نظریاتی وابستگی کسی جغرافیے کی محتاج نہیں۔بھارتی وزیراعظم کی تقریر سے جہاں پاکستان کی سالمیت کیخلاف انکے عزائم اجاگر ہوئے ہیں‘ وہیں اقوام عالم کو بھی مکمل آگاہی ہو گئی ہے کہ پاکستان کے ساتھ اپنی دشمنی کی انتہاءتک جاتے ہوئے مودی ہی کے ہاتھوں علاقائی اور عالمی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے جس ڈھٹائی کے ساتھ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے اس کا بھارتی سیاست دان‘ دانشور‘ عدلیہ کے ارکان اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے نمائندگان بھی نوٹس لینے پر مجبور ہوگئے ہیں جبکہ وفاقی مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کے علاوہ بلوچستان اور گلگت بلتستان کے وزراءاعلیٰ اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم نے بھی مودی کی سازشی سوچ پر مبنی درفنطنیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ بلوچستان کی عوام نے کبھی بھی ہندوستان سے رابطہ اور نہ ہی کریں گے۔
٭٭٭٭٭
 بلوچستان کی عوام نے ہمیشہ پاکستان کی سلامتی کیلئے اپنی جانیں نچھاور کی ہیں۔ نریندرمودی کا بلوچستان کے بارے میں بیان مضحکہ خیز ہے۔ ہندوستان کشمیر میں اپنی شکست کی ناکامی کو چھپانے کیلئے بلوچستان اور گلگت بلتستان کا سہارا لیکر ہندوستان کی عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان اور گلگت سے متعلق مودی کا بیان اشتعال انگیز ہے۔ بلوچستان جمہوری پاکستان کا حصہ ہے۔ کشمیرمیں مظالم ڈھانیوالے مودی کوپاکستان کے اندرونی معاملات پربات کا اختیار نہیں۔وہ پہلے کشمیر میں بھارتی مظالم اور بربریت کا جواب دیں۔
 بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرنے پر نوابزدہ براہمداغ بگٹی کے خلاف سٹی پولیس سٹیشن کوئٹہ میں غداری کا مقدمہ درج کرنے کیلئے درخواست جمع کرا دی گئی۔ درخواست میں براہمداغ بگٹی کو بھارتی ایجنٹ قرار دیتے ہوئے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کے بیان اور اس کی حمایت کا مقصد بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں کو تقویت دیناہے۔ براہمداغ بگٹی نے بھارتی ایجنٹ کا کردار ادا کیا ہے۔ بلوچستان میں جاری تخریبی کارروائیوں میں بھارتی حکومت ملوث ہے، جبکہ براہمداغ بگٹی سہولت کا ر کا کردار ادا کررہے ہیں انہیں پاکستان لاکر ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔
 مودی کے یہ سارے عزائم اس خطہ میں ہندو جنونیت کو فروغ دے کر جنگ و جدل کا اہتمام کرنیوالے ہیں اور وہ ان عزائم کو عملی جامہ پہنانے کی جلدی میں بھی نظر آتے ہیں جس کا اندازہ انکے ایماء پر مقبوضہ کشمیر میں کشمیری حریت پسندوں کی تیسری نسل کی حق خودارادیت کیلئے بلند ہونیوالی آواز کو دبانے کیلئے بھارتی افواج کی جانب سے ان پر مظالم کے اختیار کئے گئے نئے ہتھکنڈوں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے نہتے کشمیری نوجوانوں کو بے دریغ فائرنگ اور تشدد کے دوسرے ہتھکنڈوں سے شہید کرنے اور مستقل اپاہج بنانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ چنانچہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور عالمی قیادتوں نے بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے کر بھارت پر یہ مظالم بند کرنے اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرنے کیلئے دباﺅ ڈالنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔یہ سارے بھارتی اقدامات پاکستان پر نئی جنگ مسلط کرنے کے عزائم کا عندیہ دے رہے ہیں جبکہ پاکستان بھارتی پیدا کردہ کشیدگی کی اس فضا میں بھی اسکے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر اور دوسرے تنازعات کا حل چاہتا ہے جس کیلئے سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے اپنے بھارتی ہم منصب کو مراسلہ بھجوا کر باضابطہ مذاکرات کی دعوت بھی دے دی ہے جس میں باور کرایا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت پر تنازعہ کشمیر کو یواین قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ذمہ داری ہے جو ہمیں ادا کرنی چاہیے۔