- الإعلانات -

ایم کیو ایم اور منافقت دونوں کا محاسبہ ضروری

کراچی میں قائم متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو کو سیل کرنے کے بعد غیر قانونی طور پر قائم کئے گئے ایم کیو ایم کے دفاتر اور یونٹ آفسز سے الطاف حسین کی تصاویر اور جھنڈے اتارنے کیلئے کریک ڈاﺅن شروع کر دیا گیا ہے ۔ اسی سلسلے میں کراچی کے مختلف مقامات پر غیر قانونی طور پر قائم متحدہ کے دفاتر بھی مسمار کرنے کا سلسلہ زوروشور سے جاری ہے یہی نہیں بلکہ سرکاری املاک پر قائم سیکٹر اور یونٹ آفسز گرانے کا کام بھی عروج پر ہے۔متحدہ کے مرکز نائن زیرو کے قریب مکا چوک پر نصب ایم کیو ایم کا پرچم اتار دیا گیا جبکہ مکا چوک کا نام بھی لیاقت علی خان کے نام سے رکھ دیا گیا۔الطاف حسین اور متحدہ قومی موومنٹ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کی جانب سے پاکستان مردہ باد کے نعرے لگانے اور ان نعروں پر لبیک کہنے والوںکے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے لیکن متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی جانب سے ان اقدامات کی مذمت اور مخالفت کی جا رہی ہے اور یہ عذر پیش کیا جا رہا ہے کہ اس سے بہتر ہوتے حالات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ایم کیو ایم نے آصف حسنین کی گرفتاری پر بھی برہمی کا اظہا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گرفتاری سے کراچی کے عوام میں گہری تشویش پائی جاتی ہے اور وہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ انھیں کس جانب دھکیلا جا رہا ہے۔رابطہ کمیٹی کا مزید کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانے کی بجائے غیر اعلانیہ پابندی اٹھا کر سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کا موقع دیا جائے۔ایک نجی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے باتوں باتوں میں کہا کہ ہم ناپسندیدہ ہیںدوسری جانب ایم کیو ایم کو جوائن کرنے والے عامر لیاقت حسین کی جانب سے ان حالات میں ایم کیو ایم کو چھوڑنے پر قتل کی دھمکیا دی جا رہی ہیںانھوں نے ایک قسم کی وصیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میں قتل کیا گیا تو ذمہ دار بانی متحدہ قومی موومنٹ ہوں گے ۔انھوں نے مزید کہا کہ میں مر جاﺅں تومجھے ایم کیو ایم سے میرا نام منسوب نہ کیا جائے اور مجھے پاکستان کے پرچم میں دفنایا جائے۔عامر لیاقت نے اس ملک و قوم کیلئے بہت بڑا پیغام دے دیا ہے اب اس ملک و قوم پر فرض ہے کہ اس کو سمجھے۔بغاوت کے الزام میںگرفتار ملزمان کوجب کراچی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیشی ہوئی تو پیشی کے بعد ان تمام ملزمان نے پاکستان زندہ باد ،پاک رینجرز زندہ باد،پاک آرمی زندہ باد کے نعرے لگائے۔اب تمام پہلوﺅں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو شائد قوم کو سمجھ آ جائے کہ کہیں ایم کیو ایم کو دوبارہ موقع دیکر غلطی تو نہیں کی جا رہی۔قومی اداروں کی جانب سے جب غدار وطن الطاف حسین کی تصاویر ہٹا ئی جا رہی ہیں تو پھر اس کی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے کیا ہم اس وقت تک سانپ پالتے رہیں گے جب تک چند افراد ان کے ساتھ رہیں گے؟فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کی مخالفت اور مذمت اس بات کی غمازی ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان دراصل پرانی متحدہ ہی ہے آج بھی اس کے تانے بانے الطاف حسین سے جڑے ہیں یہ ختم ہونے والے نہیں۔ایم کیو ایم پاکستان صرف اور صرف پاکستانی عوام اور اسکے اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے اور کچھ بھی نہیں۔عامر لیاقت کو قتل کی دھمکیا بھی ایک اور ثبوت ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان بنانے والے اور الطاف حسین کو الگ کرنے والے تو بالکل محفوظ ہیں اور انکو کسی قسم کی دھمکیاں نہیں دی جا رہیں جبکہ حقیقی علیحدگی اختیار کرنے والے عامرلیاقت کو قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔عامر لیاقت نے اپنی موت کے بعد بھی میت پر سیاست کرنے سے متحدہ کو روک دیا ہے ۔جو کچھ بھی ہو رہا ہے سب کو سمجھ آ رہی ہے اب کی بار الطاف حسین اس ملک و قوم کو بے وقوف نہیں بنا سکتے اور نہ ہی بنانے دیا جائے گا۔میں آج بھی اپنی بات پر قائم ہوں کہ موجودہ ایم کیو ایم کو ختم ہونا چاہئے اور کراچی والوں کو آزادی کے ساتھ نیا سیاسی ڈھانچہ بنانے دیا جائے جس میں کسی غنڈے کو یرغمالی پوزیشن دینے کے بجائے حقیقی نمائندے از خود آگے آئیں۔عامر لیاقت حسین کو مکمل سکیورٹی فراہم کرنی چاہئے تاکہ متحدہ کی دہشت دوبارہ قائم نہ ہو سکے۔غداروں کیلئے کھیرا تنگ نہیں بلکہ جگہ ہی نہیں چھوڑنی چاہئے۔کراچی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر غداری کے مقدمہ میں گرفتار 37کارکنوں نے پیشی کے بعد پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا کر قوم کو بے وقوف بنانے کی ایک بھونڈی کوشش کی ہے۔پاکستان ہے ہی زندہ باد۔تو پھر جب مردہ باد کے نعرے لگ رہے تھے تو ان نعروں پر لبیک کہنے والو اس وقت کیوں الطاف کے سامنے زبان نہیں کھولی؟پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا کر کس کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی جارہی ہے….؟