- الإعلانات -

تحریک انصاف ایم کیو ایم سے جا ملی۔۔۔کیا بات ہے

کراچی میں یہ کیا ہو گیا۔تحریک انصاف تو نئی قدروں کی امین تھی۔اچانک یہ کیا ہوا کہ جس اتحاد کا وہ حصہ تھی اور جس کو اس نے حلف دے رکھے تھے اسے عین وقت دھوکہ دیا اور ایم کیو ایم سے جا ملی۔زرداری نے کہا تھا وعدے کون سے قرآن و حدیث ہوتے ہیں ۔اب عمران اسماعیل کہہ رہے ہیں وعدہ کیا تھا نکاح تو نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔۔سوال یہ ہے کہ اب دونوں میں فرق ہی کیا رہ گیا ہے۔ایک وقت میں ایاز امیر نے سوال کیا تھا کہ میکیاولی زندہ ہو جائے تو کس جماعت مین شریک ہونا چاہے گا۔ ن۔میرا خیال ہے اب وہ زندہ ہو جائے تو اس کا انتخٰااب تحریک انصاف ہو سکتا ہے۔میں عمران خان پر تنقید کیوں کرتا ہوں؟ کیا مجھے عمران فوبیا ہو گیا ہے؟ ۔۔۔ یہ ہے وہ سوال جو عمران خان کے وابستگان برہمی کے عالم میں تواتر سے اٹھا رہے ہیں ۔ سوال اٹھانے والوں میں سے اکثریت کا تعلق اس گروہ سے ہے جو لاہور کے غیر معمولی جلسہ عام کے بعد تحریک انصاف میں شامل ہوا۔نومولود نونہالان انقلاب گاہے بازاری زبان استعمال کر کے اس بات کا اعلان بھی کرتے پائے جاتے ہیں کہ ان کی تربیت میں کہیں کوئی کمی رہ گئی ہے اور اب وہ ایسے ٹائیگر ہیں جو اسم با مسمی ہیں۔تاہم تحریک انصاف کے پرانے وابستگان کبھی بد مزہ ہوئے نہ ہی گالیاں دیں۔عمران خان بازار سیاست کا محض ایک کردار ہوتا تو میں اس پر مسلسل تنقید نہ کرتا۔ایک دو کالم لکھ کر اسے بلاول زرداری یا حمزہ شہباز کے ساتھ کہیں رکھ چھوڑتا کہ کبھی یاد ہی نہ آتا نہ ہی اس کے کسی ارشاد تازہ کو اتنی سنجیدگی سے لیتا کہ ایک پورا کالم ضائع کر دیتا۔لیکن عمران کا معاملہ دوسرا ہے ۔عمران محض ایک سیاست دان نہیں ۔عمران ایک رومان اور ایک خواب کا نام ہے۔سیاست کے ارتقاءاور سماج کے بقاءکے لیے لازم ہے کہ رومان باقی رہے اور خواب بکھر نے نہ پائے۔میں نے اپنے تئیں اسی رومان اور اسی خواب کا پہرہ دیا ہے۔اب مگر ایک آوازمسلسل تعاقب میں ہے : ” تیرا لٹیا شہر بھنبھور نی سسیے بے خبرے “ ۔عمران خان لمحہ لمحہ ضائع ہو رہا ہے جناب انعام رانا! لمحہ لمحہ۔برف کا باٹ جیسے کوئی دھوپ میں رکھ دے۔لوگ سوال اٹھا رہے ہیں عمران کی تحریک احتساب کا انجام کیا ہو گا؟ لیکن مجھے ایک دوسرا سوال دامن گیر ہے۔عمران کی تحریک احتساب کے انجام پر سوال اٹھانا تو تجاہل عارفانہ ہو گا کہ جس تحریک کے لیے اسلام آباد کی سڑکیں راجہ ریاض صاحب جیسے نومولود قائد انقلاب کی جانب سے لگائے بینروں سے بھری پڑی ہوں اس کے انجام پرسو ال اٹھا کر وقت ضائع نہیں کرتے اس کے کفن دفن کا سامان کرتے ہیں ۔سوال ایک اور ہے۔وہ یہ کہ عمران کی ذات سے وابستہ خواب اور رومان دم توڑ گیا تو سماج پر اس کے کیا نفسیاتی اثرات مرتب ہوں گے؟ میں ایک عرصے سے لکھ رہا ہوں کہ سیاسی اور جمہوری دائرہ کار کے اندر رہ کر تبدیلی کی آخری امید کا نام عمران خان ہے۔یہ آخری رومان ہے۔جن دنوں عمران خان مقبولیت کی بلندیوں پر تھے میں نے لکھا تھا: ”عمران کی مقبولیت میں کلام نہیں۔وہ ایک امید،ایک آرزو اور ایک خواب بن کر لوگوں کے دلوںمیں یوں گھر کر چکے ہیں سورج کی کرن جیسے سیپ کے دل میں اتر جایا کرتی ہے۔یہ دور عمران خان کا دور ہے اور وقت ان کی مٹھی میںہے۔دیگر سیاسی جماعتوں کا حال اس وقت وہی ہے جو فاتح لشکر کے گذر جانے کے بعد پامال بستیوں کا ہوا کرتا ہے۔آگ،دھواں،نوحے۔۔۔۔۔۔مگرسوال ایک اور ہے۔اس نظام کو تو عمران نے بے وقعت کر دیا۔غلامی پر رضامند لوگ برف اوڑھے جی رہے تھے، عمران نے ان کے من میں خوابوں کی حدت بھر کر انہیں انگارہ بنا دیا۔اب کل کو خود عمران بھی ناکام ہو گئے تو کیا ہو گا؟عمران کے ٹائیگروں پر جب شاہ محمود قریشی،علیم خان،خان سرور خان،اسد عمر اور جہانگیر ترین کھلیں گے تو یہ ٹائیگر کہاں جائیں گے؟اسی پرانے فرسودہ نظام کی آغوش میں پناہ لیں گے یا ان انگاروں سے ایک ایسی داعش وجود میں آ جائے گی جس کی حدت سے نہ کوئی بلاول ہاﺅس اور رائے ونڈ بچے گا نہ ہی کوئی بنی گالہ“ ؟چند ماہ قبل جو ایک خطرہ موہوم تھا آج مجھے حقیقت بنتا نظر آ رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ اس عالم میں مجھے کیا کرنا چاہیے ۔ ابرار الحق کی طرح گنگناتے رہنا چاہیے کہ عمران خاں دے جلسے اچ اج میرا نچنے نوں دل کردا یا اپنا دل کھول کر سب کے سامنے رکھ دینا چاہیے۔یہ عمران ہی تھا جس نے اس جمہوری عمل کو عزت دی اور اسی کی وجہ سے جمہوری عمل کا بھرم بحال ہوا۔عوام الناس کی اکثریت جمہوری عمل سے متنفر ہو کر لاتعلق سی ہو چکی تھی۔عمران خان ہی تھا جو ان روٹھے لوگوں کو پولنگ سٹیشن تک لایا۔کتنے ہی ایسے لوگ تھے جنہوں نے پولنگ سٹیشن کا کبھی منہ نہیں دیکھا تھا اور الیکشن والے دن فیملی کے ساتھ تفریح کیا کرتے تھے یہ عمران تھا جو ان لوگوں کو پولنگ سٹیشن لایا۔عمران کا سب سے بڑا کمال نوجوانوں کو متوجہ کرنا تھا۔تعلیم یافتی نوجوانوں کی اکثریت سیاسی عمل سے بے زار تھی۔کسی بھی معاشرے کے جوانوں میں سیاسی عمل سے یہ بے زاری اور بے گانگی کسی بھی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی رویہ آ گے جا کر نوجوانوں میں رد عمل کی ایسی نفسیات بھی پیدا کر سکتا ہے کہ وہ مروجہ نظام میں تبدیلی کا کوئی امکان نہ پا کر کسی غیر جمہوری یا انتہا پسند گروہ کے ساتھ جا کر کھڑے ہو سکتے ہیں۔عمران خان ہی تھا جس نے نوجوانوں کی آنکھوں میں خواب اتار دیے ، وہ ایک خواب اور ایک رومان بن گیا اور لوگوں کو محسوس ہونے لگا کہ جمہوری سیاسی عمل کے ذریعے اس ملک کی قسمت بدلی جا سکتی ہے۔میری رائے میں جمہوریت اور سیاسی عمل سے وابستہ یہ آخری رومان تھا۔یہ رومان اگر دم توڑ گیا تو سماج پر اس کے بہت خوفناک نفسیاتی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس وقت عمران سے خیر خواہی کا تقاضا یہ ہے کہ پوری شدت سے ان پر تنقید کی جائے۔جمہوری نظام کے اندر رہ کر تبدیلی کی وہ آخری امید ہیں ۔یہ امید ٹوٹنی نہیں چاہیے۔یہ امید ٹوٹ گئی تو پھر گلی کوچوں میں داعش بنے گی۔پھر ڈی چوک پر ترانے نہیں بجیں گے مقتل آباد ہوں گے،پھر رقص نہیں ہو گا گردنیں کٹیں گی۔عمران نے سماج کی صورت گری میں ایک ایسا کام کر دیا ہے جو تبدیلی اور تباہی دونوں کا نقش اول بن سکتا ہے۔انہوں نے موجودہ نظام کے خلاف نفرت کو اپنے کمال پر پہنچا دیا ہے۔مروجہ نظام سے نفرت اب نوجونوں کی رگوں میں سرایت کر چکی ہے۔اب وہ اس شعوری طور پر اس نظام کو قبول نہیں کر پائیں گے۔ لازم ہے کہ ایک متبادل اب ان کے سامنے رکھا جائے۔یا کم از کم اس متبادل کے حصول کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھی جائیں۔اگر یہ دونوں کام نہ ہو سکے تو یہ نوجوان اس سماج کے لیے ایک آتش فشاں بن سکتے ہیں۔عمران اب کیا کر رہے ہیں۔وہ اس نظام کو بدلنے کی بجائے اس کی جملہ خرابیوں کو اختیار کرتے ہوئے اس میں سے اپنا حصہ یعنی اقتدار لینا چاہتے ہیں۔ان کے ساتھ جو ٹیم اس وقت کھڑی ہے ، الا ماشاءاللہ، ان سب کی جان اس نظام کی خرابیوں میں ہے اور یہ اس نظام کو گالی دے کر اصل میں اس نظام میں سے اپنا حصہ وصول کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے صرف طریقہ واردات بدل لیا ہے۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ شیخ رشید، شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، اسد عمر، علیم خان اور خان سرور جیسوں کے ساتھ عمران خان ایک انقلابی نظام متعارف کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے تو اسے جان لینا چاہیے اس کا خواب بہت جلد چکنا چور ہونے کو ہے۔عمران خان نے اس پہلو پر سارے درد دل کے ساتھ توجہ نہ دی تو ان کی حکومت ن لیگ اور پی پی پی کی حکومتوں سے اتنی ہی اچھی اور مختلف ہو گی جتنے عامر ڈوگر جاوید ہاشمی سے، سرور خان چودھری نثار سے،علیم خان سعدرفیق سے اور شاہ محمود قریشی خواجہ آصف سے اچھے اور مختلف ہیں۔سماج کی بقاءکے لیے ضروری ہے کہ جمہوری عمل سے اگر کوئی رومان وابستہ ہوا ہے تو وہ قائم رہے۔اور اس کےلئے ضروری ہے کہ بے رحم تنقید کا عمل جاری رہے۔مکررعرض ہے کہ یہ رومان ٹوٹ گیا تو سماج پر اس کے اثرات تباہ کن ہوں گے۔بھٹو مرحوم کے بارے میں روایت ہے کہ وہ جلال الدین عبد الرحیم کے ساتھ گاڑی میں سفر کر رہے تھے ۔کار ایک ریلوے پھاٹک پر رکی تو بھٹو کو دیکھ کر لوگ اکٹھے ہو گئے اور زورزور سے نعرے لگانے شروع کر دیے ۔بھٹو نے جے رحیم کو دیکھا اور کہا ”لک رحیم! وی مے ناٹ بی سیریس بٹ پیپل آر سیریس فار چینج“ ۔بنی گالہ میں اگر کوئی صاحب فکر باقی بچا ہے تو اسے چاہیے عمران خان سے کہے”لک عمران! وی مے ناٹ بی سیریس بٹ پیپل آر سیریس فار چینج“