- الإعلانات -

سندھ حکومت کی ایم کیو ایم کیخلاف کارروائی

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس بڑی اہمیت کا حامل قرار پایا اس میں متحدہ قومی موومنٹ پر پابندی لگانے کیلئے اقدامات کا جائزہ اور فیصلہ کیا گیاجس کا عملی مظاہرہ شہر کے مختلف علاقوں میں متحدہ کے دفاتر مسمار کرنے اور الطاف حسین کی تصاویر ہٹانے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔پاکستان مخالف تقریر پر ایم کیو ایم کے گڑھ سے الطاف حسین کی تصاویر ہٹا کر پھاڑ دی گئیں‘ تفریحی مقامات اور تعلیمی اداروں میں قائم دفاتر جو غیر قانونی طور پر قبضہ کی گئی زمینوں پر قائم ہیں تمام کو بند کردیا گیا‘ نائن زیرو کے اطراف سے قائد ایم کیو ایم کی تصاویر ہٹا دی گئیں۔ملک مخالف تقریر پر ایم کیو ایم کے گڑھ سے الطاف حسین کی تصاویر ہٹا دی گئیں مکا چوک اور اطراف سے قائد ایم کیو ایم کی تصاویر بھی ہٹا دی گئی ہیں۔ جناح گراﺅنڈ‘ نائن زیرو کے اطراف میں قائد ایم کیو ایم کا کوئی بینر‘ کوئی تصویر موجود نہیں ہے۔ قائد ایم کیو ایم کی حیدر آباد‘ لطیف آباد اور دیگر علاقوں سے تصاویر ہٹا دی گئیں۔ گزشتہ دو روز سے کراچی میں جاری اعلیٰ سطحی اجلاس اس حوالے سے نتیجہ خیز قرار پایا ۔ ایم کیو ایم اپنے زوال کی ذمہ دار خود ہے جس نے حب الوطنی کی حدود کو توڑ دیا اور آج مقبول جماعت اپنے مذموم عزائم کی وجہ سے دیوار سے لگی دکھائی دے رہی ہے۔قائد ایم کیو ایم کی ہرزہ سرائی کے بعد جو گھمبیر صورتحال پیدا ہوئی اس کے محرکات اور تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں اور مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے الطاف حسین کی زبان سے جو زہر اگلوایا گیا جس کے منفی اثرات نے پوری قوم کو سیخ پا کردیا اور ایم کیو ایم کے مذموم عزائم بے نقاب ہوئے جو شخص حب الوطنی سے بے نیاز ہو اس سے یہی توقع کی جاسکتی ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ برطانوی حکومت سے اس ضمن میں فوری کارروائی کیلئے رجوع کرے سندھ حکومت کا حالیہ اقدام قوم کی امنگوں کا ترجمان ہے کراچی کا امن تباہ کرنے کی اجازت کسی کو نہیں ہونی چاہیے اور کراچی آپریشن اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک شہر قائد امن کا گہوارہ نہیں بن جاتا ایسی جماعت جس کا قائد پاکستان مخالف نعرے لگائے اس جماعت کے حب الوطنی پر شائبہ کیا جاسکتا ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد کو اپنے کئے کی سزا ملنی چاہیے یہی قرینہ انصاف ہے ۔ کراچی میں بدامنی کی ذمہ دار ایم کیو ایم ہے۔ حکومت کو اب کسی مصلحت پسندی کے بغیر الطاف حسین کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ واقفان حال جانتے ہیں اس جماعت کا وجود کس طرح عمل میں لایا گیا ۔ ایم کیو ایم کو اپنی پوزیشن کو سنبھالنا دینے کیلئے الطاف حسین سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ برطانیہ سے الطاف حسین کی اس ہرزہ سرائی اور بدامنی پھیلانے کا نوٹس لے ۔ حکومت الطاف حسین کو قانونی دائرے میں لانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرے۔ جب تک الطاف حسین کے خلاف انضباطی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی اس وقت تک حکومت پر سوال اٹھتے رہیں گے۔
نو منتخب صدر آزاد کشمیر نے حلف اٹھا لیا
آزاد کشمیر کے نئے صدر مسعود عبداللہ خان نے 26 ویں صدر کی حیثیت عہدے کا حلف اٹھا لیا ¾چیف جسٹس آزاد کشمیر جسٹس محمد اعظم خان نے اسمبلی کے سبزہ زار میں ان کاحلف لیا ۔ مسعود خان آزاد کشمیر کے26 ویں صدر ہیں ۔ حلف برداری کی پروقار تقریب گزشتہ روز قانون ساز اسمبلی کے سبزہ زار میں منعقد ہوئی ۔ چیف جٹس سپریم کورٹ جسٹس سردار محمد اعظم خان نے نو منتخب صدر سے ان کے عہدے کا حلف لیا ۔ حلف سے قبل چیف سیکرٹری آزاد کشمیر سکندر سلطان راجہ نے نو منتخب صدر کے انتخاب کا نوٹیفکیشن پڑھ کر سنایا ۔اس موقع پر وفاقی وزیر برائے کشمیر افیئر و گلگت بلتستان چوہدری برجیس طاہر ،وفاقی وزیر مملکت طارق فضل چوہدری، آل پارٹی حریت کانفرنس کے رہنماوں سمیت وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان، ان کی کابینہ اور سول ملٹری کی اعلی حکام موجود تھے۔حلف کی بعد نئے صدر کو آزاد کشمیر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا اور سلامی دی۔مسعود خان آزاد کشمیرکے 26ویں صدرہیں، ان کا تعلق آزاد کشمیر کے بانی صدرسردارمحمد ابراہیم خان کے خاندان اورضلع پونچھ کے شہرراولاکوٹ کے نواحی گاﺅں کوٹ متے خان سے ہے۔ وزارت خارجہ سے کیریئر کا آغاز کرنے والے مسعودخان اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب رہنے کے ساتھ ساتھ چین میں بھی پاکستانی سفیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔صدر آزاد کشمیر مسعود خان نے حلف کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک کو کشمیریوں کی مکمل حمایت حاصل ہے بھارت کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ وادی میں قتل و غارت اور خونریزی کا بازار بند کرکے مذاکرات کی میز پر آئے کیونکہ یہی بہتر راستہ ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی اخلاقی و سفارتی مدد جاری رکھی بھارت کو مقبوضہ وادی میں معصوم کشمیریوں پر ظلم و ستم بند کرنا ہوگا ۔ بھارت کو مسئلہ کشمیر پر کشمیریوں اور پاکستان سے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ آزاد کشمیر میں گڈ گورننس اور تعمیرو ترقی ہی ہمارا ایجنڈا ہے جس کی تکمیل کیلئے مل جل کر چلیں گے ۔ کشمیریوں کی آنے والی اور موجودہ نسلیں کبھی بھی بھارت کو معاف نہیں کرینگی مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم پر باعث تشویش ہے عالمی برادری کا ضمیر جگانے کیلئے انصاف کی دستک دی جائے ۔ بھارتی افواج کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر میں80 سے زائد افراد شہید اور7000کے قریب کشمیری زخمی ہو چکے ہیں ، ان میں 500افراد و ہ شامل ہیں جن کی آنکھیں شدی متاثرہوئی ہیں ،بھارتی وزیر اعظم کا بیان مقبوضہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے سلسلے کی کڑی ہے،پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خاتمہ کے لئے اہم فورمز پر بات کر رہا ہے ،اقوام متحدہ کی کشمیر پر قراردادیں گزشتہ 6دھائیوں سے عملدرآمد کی منتظرہیں،شملہ معاہدے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی کی بات کی گئی ہے،پاکستان مسلسل بھارت سے باہمی مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل کاخواں ہے،بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث اس کا حل نہیں نکل رہا جو خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے۔
مردم شماری سے متعلق سپریم کورٹ کے ر یمارکس
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے مردم شماری میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور اس ضمن میں عدالت نے مردم شماری سے متعلق حکومتی رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کردیاعدالت نے حکومت کو مزید دستاویزات جمع کرانے کا حکم دیادیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سماعت 31 اگست تک ملتوی کردی۔دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی ریمارکس دئیے ہیں کہ کس قانون میں لکھا ہے کہ فوج کے بغیر مردم شماری نہیں ہوسکتی ؟‘بلدیاتی انتخابات وقت پر ہوئے نہ ہی مردم شماری‘مردم شماری نہیں ہوگی تو قومی اسمبلی کے حلقے کیسے بنیں گے؟ حکومت کا یہی رویہ چلتا آ رہا ہے ، اب 2018 کے عام انتخابات سے پہلے سپریم کورٹ آجائیں گے کہ الیکشن کروانے کی پوزیشن میں نہیں۔