- الإعلانات -

وطن کی سلامتی اوروقار کے خلاف کوئی بات قابل قبول نہیں

 ایم کیو ایم کے قائد الطاف نے پارٹی قیادت ڈاکٹر فاروق ستار کو سونپنے کا اعلان کیا۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے حسب سابق قائد تحریک سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر متحدہ کے قائد الطاف حسین کی جانب سے اشتعال انگیز تقریر کے بعد کارکن مشتعل ہوگئے اور انہوں نے زینب مارکیٹ میں توڑ پھوڑ کی اور نجی ٹی وی چینلز کے دفاتر پر حملہ کردیا، توڑ پھوڑ کی اور فائرنگ بھی کی گئی۔ ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جب الطاف حسین نے پاکستان کیخلاف نعرے لگائے اور کارکنوں کو ٹی وی چینلز پر حملے کا حکم دیا۔ کارکنوں نے پولیس موبائل‘ کئی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو جلا دیا جبکہ ٹریفک پولیس کی چوکی بھی جلا دی۔نجی ٹی وی کے دفتر کے مرکزی دروازے کو آگ لگا دی اور اسے توڑ کر کارکنوں کو یرغمال بنالیا۔ کارکنوں نے دکانیں بھی بند کرا دیں۔ ایم کیو ایم کے مسلح کارکنوں نے کہا ہمیں بھائی نے آرڈر دیا ہے اسی لئے یہاں آئے ہیں۔ مسلح افراد نے خواتین سٹاف کا بھی لحاظ نہیں کیا اور مار پیٹ کی۔ رینجرز کے اہلکاروں کی بھاری نفری ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو اور ایم پی اے ہاسٹل میں داخل ہو گئے اور 5 افراد کو حراست میں لے لیا۔ رینجرز کے اہلکاروں نے نائن زیرو کے اطراف پوزیشنیں سنبھال لیں۔ رینجرز اہلکاروں نے حفاظتی چوکیوں اور نائن زیرو کے دفاتر کی تلاشی لی جبکہ گھر گھر تلاشی بھی لی گئی اس دوران واکی ٹاکی اور دیگر آلات قبضہ میں لے لئے گئے۔ اہلکاروں نے چوکیوں کا کنٹرول بھی سنبھال لیا۔ رینجرز نے گاڑیوں میں سیڑھیاں بھی رکھی ہوئی تھیں۔ ایم کیو ایم کی ویب سائٹ کو بھی بند کر دیا گیا ہے جبکہ کئی دفاتر کو سیل کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ایم کیو ایم کے قائد، رہنماﺅں اور دیگر کیخلاف بغاوت اور دہشت گردی کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔ توڑ پھوڑ اور تشدد کے واقعات پر ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال نے کہا ہے جن لوگوں نے حملہ کیا ان کو ایک ایک سیکنڈ کا حساب دینا ہوگا۔ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو نہیں چھوڑیں گے جن لوگوں نے حملہ کیا ان سے حساب لیں گے۔ کراچی کا امن کسی کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ شرپسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ صورتحال کو بغور دیکھ رہے ہیں عوام اپنا کاروبار کھلا رکھیں۔ تحفظ فراہم کریں گے۔ کوئی مارکیٹ بند کرانے آئے تو رینجرز کو اطلاع دیں۔ رینجرز کی نفری نجی ٹی وی کے دفاتر پر تعینات کردی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کراچی میں پاکستان مخالف اشتعال انگیز بیانات سے مجھ سمیت ہر پاکستانی کو دلی ٹھیس پہنچی۔ ان بیانات سے جذبات بری طرح مجروح ہوئے۔ وطن کی سلامتی اور وقار پرکوئی آنچ نہیںآنے دیں گے۔ ہم اس سرزمین سے اٹھے ہیں اور اسی میں واپس جانا ہے، اس سرزمین کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ اسکی عزت و آبرو کی حفاظت ہم پر لازم ہے۔ پاکستان ہمارا گھر ہے اور ہم اپنے گھر کی حرمت کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ پاکستان کیخلاف کہے گئے ایک ایک لفظ کا حساب ہوگا، پاکستان کے خلاف نہ بات سن سکتے ہیں نہ پاکستان کے خلاف بولنے والے کو معاف کرسکتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا شہر میں امن و امان ہر صورت برقرار رکھا جائے جنہوں نے یہ آگ لگائی ان شرپسندوں کو ہر قیمت پر پکڑا جائے۔ ڈی جی رینجرز نے بتایا صورتحال کنٹرول میں ہے‘ شرپسندی پر اکسانے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ جنہوں نے حملے کا حکم دیا اس سے بھی حساب لیا جائے گا۔ ڈی جی رینجرز نے یہ اپیل بھی کی مارکٹیں بند کرانے کی اطلاع رینجرز کو دی جائے۔ ہر شہری کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائیگا۔ شہر کا امن تباہ نہیں ہونے دیں گے اور لاقانونیت کے ذمہ داروں کوکیفر کردار تک پہنچایا جائیگا۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کراچی میں ایم کیو ایم کے میڈیا پر تازہ حملے کی شدید قابل مذمت کی ہے۔ کراچی میں ایم کیو ایم کی دہشتگردی اب بھی پہلے کی طرح موجود ہے‘ موجودہ واقعہ دہشتگردی کے خلاف آپریشن پر سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کراچی میں امن قائم کرنے میں مکمل ناکام نظر آتی ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے نجی ٹی وی کے دفاتر پر حملہ اور جلاﺅ گھیراﺅ کے خلاف بیان میں کہا ہے پاکستان میں طاقت اور جبر کی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں سیاسی کارکنوں کو اشتعال دلانا انتہائی تشویش ناک ہے۔ لاٹھی اور گولی کی سیاست کرنے والوں کو قوم مسترد کرتی ہے۔ حکومت میڈیا ہاﺅسز کی سکیورٹی یقینی بنانے کا حکم دے۔ پاکستانی حکومت کو فوری طور پر برطانیہ سے رابطہ کرنا چاہئے۔ برطانیہ کو بتایا جائے آپ کا شہری یہاں سے انتشار پھیلا رہا ہے‘ کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہئے وہ انتشار پھیلائے۔ قائد ایم کیو ایم نے پہلی بار پاکستان کے خلاف باتیں نہیں کیں۔ قائد ایم کیو ایم نے بھارت میں کہا تھا پاکستان کا بننا بڑا ظلم ہے۔ ایم کیو ایم کے لوگوں کی اکثریت قائد ایم کیو ایم سے تنگ ہے۔ ایم کیو ایم میں سیاسی لوگ بھی ہیں جو ایسی سیاست نہیں چاہتے۔ پاک سرزمین پارٹی کے رہنما مصطفی کمال نے کہا متحدہ کے قائد کو نعشیں چاہئیں‘ نشے میں دھت شخص الگ وطن کی باتیں کر رہا ہے یہ شخص چاہتا ہے مہاجروں پر ٹینک چڑھ دوڑیں۔ الطاف نے نہ صرف خود پاکستان کیخلاف نعرے لگائے بلکہ کارکنوں سے نعرے بھی لگوائے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا پیپلزپارٹی اظہار کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔ٹی وی چینلز پر حملے قابل مذمت عمل ہے۔ اختلاف رائے معاشرے کا ایک جزو ہے، اس کا احترام ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا میڈیا ہاﺅسز پر حملے آزادی صحافت پر حملوں کے مترادف ہیں۔ توڑپھوڑ کے واقعات اور عدم برداشت کے روئیے کسی بھی طور پر مناسب نہیں۔یہ معاملہ پاکستان کے حوالے سے ہے۔ واقعہ پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کیلئے ہے۔ ہم نے پاکستان کے سسٹم کو بچانا ہے۔ جو کچھ ہوا غیرآئینی اور غیرقانونی تھا۔ ملوث عناصر کوگرفتار کر کے کیفر کر دار تک پہنچائے گی۔