- الإعلانات -

پاکستان زندہ باد

ملکی سےاسی جماعتوں مےں ہر سےاسی جماعت کا اپنا وقار ہوتا ہے اور کوئی بھی سےاسی جماعت چاہے وہ کسی بھی پوزےشن مےں کےوں نہ ہو کسی بھی طور پر پاکستان کی سالمےت کے خلاف کوئی انتہائی اقدام نہےں اٹھا سکتی مگر آج ےہ ہم کےا دےکھ رہے ہےں کہ ہمارے اپنے ہی لوگ دشمن کی بولےاں بول رہے ہےں اس کی بڑی وجہ ہماری رےاست کی سستی ہے جو کسی نہ کسی سےاسی مصلحت کی وجہ سے کوئی انتہائی اقدام نہےں کرتی بلکہ اےک اور ،اےک اور کے فارمولے پر عمل پےرا رہتی ہے کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنوں نجی ٹی وی چےنلز کے دفاتر مےں توڑ پھوڑ کے واقعات اور اس جےسے کئی دوسرے واقعات اےم کےو اےم کی تصوےر کو واضح کرنے کےلئے کافی ہےں ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنویئر ڈاکٹر فاروق ستار نے اگرچہ یہ اعلان کیا ہے کہ اب ایم کیو ایم کے فیصلے ملک کے اندر سے ہوں گے اور وہ پاکستان مخالف نعروں میڈیا ہاﺅسز پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں اور الطاف حسین کے بیان اور پالیسی سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں لیکن ان کے مذکورہ اعلان مبہم اور رابطہ کمیٹی لندن کے ساتھ مشاورت اور ملی بھگت کا نتیجہ اور ڈرامہ ہے سیاسی و عسکری قیادت نے اعلان کیا ہے کہ معافی قبول نہیں ہے انہیں اپنے کہے ہوئے لفظوں کی قیمت چکانا پڑے گی جو کہ خوش آئےند بات ہے کےونکہ ماضی مےں بھی جب بھی لطاف حسےن کی طرف سے اےسی حرکت کی جاتی رہی ہے اس کے فورا بعد وہ معافی مانگ کر اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھنے لگتے ہےں بات قومی سلامتی اور پاکستان کے وقار کی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ملکی سلامتی اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے قومی مفاد کے منافی کام کرنے والے عناصر کی معافی قبول نہیں کرنی چاہے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کو اس کی سزا دےنی ہو گی الطاف حسین کی ہرزہ سرائی کے نتیجے میں جذبہ حب الوطنی کا ناصرف خون کےا گےا بلکہ عوامی جذبات کو شدےد تکلےف پہنچائی گئی ہے آج ےہ بات بھی سچ ہے کہ اگر حکومت نے الطاف حسین کے ماضی کے اشتعال انگیز رویوں پر ان کے خلاف کارروائی کی ہوتی تو یہ نوبت ہی نہ آتی کہ انہوں نے اعلانیہ پاکستان اور اس کی اہم شخصیات کے خلاف تقریر کی الطاف حسین کو اس ہرزہ سرائی کی اسی لئے ہمت ہوئی کہ انہوں نے سمجھا ماضی کی طرح اس بار بھی معافی مانگ کر معاملہ رفع دفع کر لوں گا پاکستان اس کی فوج اور اہم عسکری شخصیات کے خلاف زہر اگلنے والا کسی معافی کا مستحق نہےںاس کے خلاف قانون کو فوری حرکت میں آنا چاہیے اور اےک اےسی مثال قائم ہونی چاہے جس کے بعد کسی کو اےسی جرات نہ ہو ۔دوسری طرف کرئے کوئی بھر ئے کوئی کے مصادق اس ہرزہ رسائی پر اےک بار پھر معافی تلافی کی باتےں شروع ہو گئی ہےں جو پاکستانی قوم کسی صورت قبول نہےں کرےں گے آج جس طرح کے حالات ہےں اور ملک جس طرح کے کرائسز سے گزر رہا ہے اگر ہم نے ان باتوں کی معافی دے دی جن کا ڈائےرےکٹ ہماری قومےت سے تعلق ہے تو پھر کل کلاں کو ہر کوئی اٹھ اٹھ کر ہمےں ےوں ہی برا بھلا کہہ کر بعد ازاں معافی مانگ لے گا۔اس وقعے کے بعد عوامی رد عمل کو لہر اٹھی اس کو دےکھ کر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ڈاکٹر فاروق ستار نے لندن قیادت سے لاتعلقی ظاہر کی تاہم اےم کےو اےم کی ویب سائٹ کا اعلان بدستور یہ واضح کرتا ہے کہ الطاف حسین اب بھی ایم کیو ایم کے قائد ہیں انہوں نے پارٹی کے تمام اختیارات رابطہ کمیٹی کے سپرد کئے ہیں اور کارکنوں و ذمہ داران کو ہدایت کی ہے کہ وہ رابطہ کمیٹی کے ہاتھ مضبوط کریں دوسرے لفظوں میں اگرچہ پارٹی کے تمام اختیارات کو کراچی کی رابطہ کمیٹی کے سپرد کرنے یا نہ کرنے کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ متحدہ کی قیادت تبدیل نہیں کی گئی عوام کی غیض و غضب سے پارٹی کو بچانے کیلئے ایک ڈرامہ رچایا گیا ہے چند دنوں یا ہفتوں کے بعد دوبارہ سب کچھ پرانی پوزیشن پر آجائے گا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے پاکستان مردہ باد کہا اس مملکت کو ناسور قرار دیا اور فوج کی اہم شخصیات کے خلاف ہرزہ سرائی کی وہ اب بھی ایم کیو ایم کا قائد ہے پاکستان کے عوام یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ایک غدار اس ملک کی ایک سیاسی پارٹی کی قیادت پر فائز رہے ڈاکٹر فاروق ستار کو بھی اس حوالے سے جواب دینا ہے کہ جس نے ملک کے خلاف ہرزہ سرائی کی وہ ان کی پارٹی کا قائد کیسے ہو سکتا ہے اگر ایم کیو ایم اسے اب بھی اپنا قائد تسلیم کرتی ہے تو اس طرح اس کا اپنا کردار مشکوک اور سوالیہ نشان بنا چکی ہے ڈاکٹر فاروق ستار ابھی تک الطاف حسین کو قائد تسلیم کرتے ہیں جو فرد بھی الطاف حسین کو قائد تسلیم کرے گا پاکستان کے عوام اورمملکت کا قانون اسے قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں گے اس لئے ڈاکٹر فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کے دیگر اراکین کیلئے یہ لازم ہے کہ وہ نئی قیادت کے بارے میں بلا تاخیر اعلان کریں اور اس بات کی پابندی ہونی چاہےے کہ الطاف حسین پارٹی کے قائد کی حیثیت سے پاکستان میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے انہیں اس کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی اگر ڈاکٹر فاروق ستار اور کراچی میں موجود ان کے ساتھی واقعی سچے ہیں اور انہوں نے پاکستان کے عوام اور قانون کو دھوکہ نہیں دیا توانہیں جلد از جلد نئی قیادت کو سامنے لانا ہوگا دوسری صورت مےں عوام ان کا اختساب کرےں گے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے الطاف حسین کے خلاف برطانیہ کی حکومت سے رجوع کرکے درست اقدام کیا ہے جس کی تائےد پوری قوم کرتی ہے اور اس بات کی امےد رکھتی ہے کہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچاےا جائے گا اور کسی صورت ملک دشمن لوگوں کو ڈھےل نہےں دی جائے گی خواہ اس کےلئے کوئی سےاسی مصلحت ہی آڑے کےوں نہ آ جائے ۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس ہرز رسائی پر مکمل قانونی کاروائی کرئے اور جو سزا غدار وطن کے لئے آئےن مےں تجوےز کردہ ہے اس کو الطاف حسےن پر لاگو کرئے اور اگر ممکن ہو سکے تو انٹر پول کے ذرےعے سے الطاف حسےن کو پاکستان لاےا جائے اور اس سے اس بات کی جواب طلبی کی جائے کہ جس ملک نے اسے نام ،اور مقام دےا کس طرح غےر ملکی آقاﺅں کو خوش کرنے کے لئے اس نے اسے مردہ باد کہا کےونکہ ےہ سرزمےن ہماری دھرتی ماں ہے اور جس نے اس کو مردہ باد کہا اس نے ماں کو گالی دی اور جس نے اس گالی پر کوئی ری اےکشن نہےں دکھاےا وہ بھی ملک سے مخلص نہےں آج اےک بات بڑی واضح ہو گئی کہ جس طرح پورے ملک سے الطاف حسےن کے بےان پر رد عمل ہوا اس سے واضح ہوتا ہے کہ آج ہم اےک ہےں آج اگر ہم نے تفرقوں کو ختم کرنا ہے تو پھر سندھی ،پنجابی ،مہاجر کو چھوڑ کر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانا ہو گا ۔