- الإعلانات -

ایم کیو ایم کا سیاسی مستقبل ایک سوالیہ نشان

قائد ایم کیو ایم الطاف حسین کی ہرزہ سرائی اور پاکستان مخالف تقریر اور نعروں نے اس کی حب الوطنی کو مشکوک کردیا ہے اس کے خلاف شدید ترین ردعمل نے ایم کیو ایم کو سیاسی بھنور میں پھنسا دیا جس کے نتیجہ میں اس کے کئی دفاتر سیل اور مسمار کیے جاچکے ہیں اور الطاف کی تصاویریں شہر قائد سے ہٹا دی گئیں ہیں ۔ پارٹی کا بکھرتا شیرازہ دیکھ کر فاروق ستار نے الطاف سے اعلان تعلقی کردیا ہے اور اب الطاف حسین کا نام ایم کیو ایم کے آئین سے بھی باہر نکالنے کیلئے آئین میں تر میم کی جارہی ہے ۔اس ضمن میں کام مکمل کیا جاچکا ہے الیکشن کمیشن میں یہ ترمیم شدہ آئین جمع کروایا جائے گا ۔ پارٹی لیٹر پیڈ بھی تبدیل کردئیے گئے ہیں ۔ الیکشن کمیشن میں پارٹی ڈاکٹر فاروق ستار کے نام سے رجسٹرڈ ہے۔ ایم کیو ایم کے قانونی ماہرین نے مشاورت مکمل کرلی ہے۔ فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ستمبر میں بڑا عوامی جلسہ کریں گے اور پہیہ الٹا گھومنے والا ہے ۔ ہم ٹینشن دینے والے ہیں لینے والے نہیں ۔ سیاسی سرگرمیوں سے نہ روکا جائے ۔ ایم کیو ایم پر ایک طرف پابندی لگانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے تو دوسری طرف پرویز رشید کا یہ کہنا ہے کہ مارشل لاءدور میں پابندیوں کے منفی نتائج نکلے ہیں ۔ ایم کیو ایم پر پابندی کی کوئی تجویز نہیں غلطیاں نہیں دہرائیں گے ۔ پرویز رشید کا یہ بیان سیاسی تدبر اور بصیرت کا حامل ہے کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی آمریت کی یاد تازہ کرتی ہے اور ماضی میں اس طرح کے تجربات کیے جاچکے ہیں جن کے اثرات سود مند قرار نہیں پائے تاہم قائد ایم کیو ایم الطاف حسین کو قانون کے دائرہ میں لاکر اس کو اپنے کیے کی سزا ضرور ملنی چاہیے تاکہ آئندہ اس طرح کے عمل کو نہ دہرایا جائے ۔ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اس کا اطلاق ہر ادنیٰ و اعلیٰ پر ہوتا ہے لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ یہاں قانون کی گرفت صرف ادنیٰ لوگوں پر ہے اور اعلیٰ قانون کی دھجیاں بکھیرتے رہیں ان پر شکنجہ نہیںڈالا جاتا اور پھر قانون شکنی ہوتی ہے اور قانون ایک سوالیہ نشان بن کر رہ جاتا ہے ۔ سیاسی جماعتوں پر پابندی نہیں ہونی چاہیے لیکن جو پارٹی یا قائد پاکستان مخالف تقریریں کرے اس کے خلاف کارروائی تو ہونی چاہیے۔ الطاف حسین کی تقریر ان کی سیاسی موت کا ذریعہ بن گئی ۔ حکومت ایم کیو ایم پر پابندی بے شک نہ لگائے لیکن سیاسی جماعتوں کے تحفظات بھی تو دور کرے ۔ اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ متحدہ کو بنانے والی اسٹیبلشمنٹ ہے الطاف حسین پھر منظر عام پر آجائیں گے ۔ آئندہ 4سے 5 روز میں ایم کیو ایم میں تبدیلی کے حوالے سے صورتحال واضح ہو جائے گی۔ ایم کیو ایم کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا اور سیاسی افق پر طوفانی بادل شکل اختیار کرتے ہیں اس کا چند روز میں پتہ چل جائے گا ۔ ڈاکٹر فاروق ستار اپنی نیک نیتی اور جذبہ حب الوطنی کا جو ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں اس کو عملی طورپر بھی کردکھانا ہوگا کیونکہ الطاف حسین نے جو زہر اگلا ہے اس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور شدید نفرت کا اظہار کیا جارہا ہے بعض سیاسی حلقے ایم کیو ایم پرپابندی کا تقاضا کررہے ہیں تو بعض اس پابندی کے حق میں نہیں ہیں۔ خود حکومت بھی سیاسی پابندی کے حق میں نہیں ہے لیکن اب حکومت کو اپنی پوزیشن واضح کرنی ہوگی اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنانا ہوگا اور الطاف حسین کو قانون کے دائرہ میں لاکر اس کو سزا دینی ہوگی۔
پانامہ لیکس ، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان
 تحر ےک انصاف کے چےئر مےن عمران خان نے پانامہ لےکس کے معاملے پر نوازشر ےف کے خلاف سپر ےم کورٹ جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہےں اپوزےشن جماعتےں اےک کنٹےنرکی بجائے اپنے اپنے کنٹےنر پر کھڑے ہوں ‘ نواز شریف پاناما کے معاملے کو لمبا کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے وہ سمجھتا ہے کہ طاقتور کا احتساب نہیں ہوسکتا تو اس کی یہ غلط فہمی دور کرنے کیلئے 3 ستمبر کو لاہور میں عوام کا سمندر نکال کر دکھائیں گے جس میں اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دےنے کےلئے انکے پاس وفو د بھجےں گے ‘نوازشر ےف کو جنرل جےلانی نے پالا اور ضےاءالحق نے انکو بڑا کےا اس لےے مر ےم نوازکے موٹوگےنگ کو جمہو رےت اور آمر ےت مےں فرق معلوم نہےں(ن) لےگ آئی اےس آئی سے پےسے لےکر سےاست کرتی رہی ہے ‘قوم نے فےصلہ کر لےا ہے نوازشر ےف کو پانامہ لےکس مےں سامنے آنےوالی کر پشن کا حساب دےنا ہوگا ‘نر ےندر مودی کی بلوچستان کے معاملے مےں تقر ےر سے زےادہ زہر ےلی تقر ےر الطاف حسےن نے کی کوئی بھی شخص انکی تقر ےر کا دفاع نہےں کر سکتا۔ عمران خان نے کہا کہ ہم نوازشر ےف کے خلاف الےکشن کمےشن مےں بھی ہےں مگر اسکے اسکے ساتھ مےں نے پارٹی کے لوگوں سے تحوےل مشاورت کے بعد سپر ےم کورٹ مےں بھی جانے کا فےصلہ کےا ہے جہاں انکے خلاف آج پٹےشن دائر کی جائےگی اور ہمارے خلاف نوازشر ےف کی کر پشن سمےت دےگر جرائم کے حوالے سے بہت زےادہ اور فول ثبوت موجود ہےں جو عدالت کو دےں گے اور ان سے درخواست کر ےں گے کہ نوازشر ےف کو نہ صرف نااہل قرار دےدےں بلکہ ان سے کر پشن کی دولت بھی واپس لی جائے ۔ تحر ےک انصاف نے 1997مےں سب سے پہلے کر پشن کے خلاف آواز بلند کی ہے اور آج بھی ہم کر پشن کے خلاف جنگ لڑ رہے ہےں ۔ پانامہ لےکس کا اےشوز تحر ےک انصاف ےا اپوزےشن کی کوئی اور جماعت نہےں بلکہ اےک عالمی تنظےم سامنے لےکر آئی ہے اور ہم جب بھی نوازشر ےف سے پانامہ لےکس کا حساب مانگتے ہےں تونوازشر ےف نئی کہانےاں سنانا شروع کر دےتے ہےں نوازشر ےف آج بھی آف شور کمپنےوں کے نام پر پار لےمنٹ مےں قوم سے جھوٹ بول رہے ہےں مگر حقائق پوری دنےا جانتی ہے ۔ نوازلےگ جانتی ہے کہ نوازشر ےف نے منی لانڈرنگ کی ہے اور اگر اپوزےشن کے ٹی اوآرز تسلےم ہو گئے تو نوازشر ےف پکڑ ے جائےں گے ۔ دنےا کے8ممالک کے سربراہوں کے نام پانامہ لےکس مےں آئے جن مےں نوازشرےف کانام بھی شامل ہےں بر طانےہ کے وزےر اعظم نے پار لےمنٹ مےں آکرقوم کو حقائق بتائے مگر نوازشر ےف سچ بتانے کےلئے تےار نہےں ہےں ۔ اگر ملک مےں نےب آزاد ہوتی تو کب کی نوازشر ےف کو پکڑ لےتی مگر حکمرانوں نے تمام اداروں کو تباہ کررہے ہےں۔ حکومت پانامہ لیکس کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ٹی او آرز بنائے اور سیاسی بھنور سے نکلنے کی کوشش کرے قانون سے بالاتر کوئی نہیں ملک میں سیاسی استحکام ہی ترقی و خوشحالی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔
 سعودی وزیر دفاع کا دورہ پاکستان
وزےر اعظم نواز شرےف سے سعودی وزےر دفاع شہز ادہ محمد بن سلمان نے ملا قات کی ۔ ملا قا ت مےں مسلح افوا ج کے سربر اہ ، وفا قی وز را اور ارکان پار لےمنٹ بھی مو جود تھے۔ ملا قا ت مےں پاک سعودی عرب تعلقات ، مشر قی وسطی کی صو ر تحال اور باہمی دلچسپی کے اموار پرتبا دلہ خےال کےا گےا۔ وزےراعظم نو از شرےف کاکہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب مےں گہر ے دوستا نہ تعلقات ہےں اوردو نوں مما لک کی دوستی ہر آ ز ما ئش پر پوری اتری ہے۔ نو از شرےف کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی سلامتی کو کوئی خطرہ لا حق ہو ا تو پاکستان سعودی عر ب کے ساتھ کھڑ ا ہے ، سعودی وزےر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے کا اہم ملک اوردےرنےہ دوست ہے۔ وقت کے سا تھ سا تھ دوستی مزےد مضبوط ہو تی جا رہی ہے، سعو دی وزےر دفا ع نے قےادت کی جا نب سے نےک خو اہشا ت کاپےغا م وزےر اعظم نواز شرےف تک پہنچا ےا ۔ سعودی وزیر دفاع کا حالیہ دورہ دوررس نتائج کا حامل قرار پایا جو دوطرفہ تعلقات بڑھانے کا ذریعہ بنا