- الإعلانات -

سازش ابھی جاری ہے!

ایک الیکٹڈحکومت کو ساڑھے تین سال مسلسل سلیکٹڈ کے نام سے پکارنے اور چڑانے والوں کو عوام کی طرف سے آتے ہی گرینڈ سلامی کے طور پرامپورٹڈکے اعلیٰ خطاب سے نواز دیا گیا ہے۔ یہ خطاب کچھ اتنا عظیم المرتبہ ثابت ہوا کہ ہیش ٹیگ پر یہ پہلے دن سے ٹاپ ٹرینڈ کرتے ہوئے دو ہفتے کے اندر اندر بارہ کروڑ سے تجاوز کر گیا اور ہنوز یہ اپنی اونچی اڑان جاری رکھے ہوئے ہے اور جان چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔انہیں اقتدار میں آئے ابھی ایک ماہ ہی ہونے کو ہے لیکن لگتا ہے کہ یہاں تو جیسے بساط ہی الٹ چکی ہو جیسے نقشہ ہی بدل چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محض چند دنوں کے اندر اندر شہباز شریف نے تسلیم کر لیا ہے کہ ان کے ساتھ کوئی بہت بڑا ہاتھ ہو گیا ہے۔ تسلیم کیا کہ وہ بری طرح پھنس چکے ہیں جیسے کوئی بدقسمت جال میں پھنسا کبوتر پھڑ پھڑاتا ہے۔ ظاہر ہے یہ قانون قدرت ہے کہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ جو گہری کھائی عالمی سازشی ٹولے نے ایک صحیح ٹریک پر چلتی ہوئی حکومت کو اسمیں گرانے کیلئے کھودی تھی اسی میں یہ لوگ گر کر اب بچاو¿ بچاو¿ کا شور مچا رہے ہیں۔
اقتدار کی رسہ کشی میں حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں لیکن ہر چیز کا ایک موزوں وقت اور حکمت عملی ہوتی ہے لیکن یہاں تو آقا کے اشارے پر ادھر ادھر بکھری اپوزیشن کی گیارہ بارہ پارٹیاں جو ایک دوسرے کی بدترین دشمن تھیں کو ایک زور دار سیٹی مار کر یوں اکھٹا کیا جاتا ہے جیسے کھیل کے دوران اپنے پی ٹی ماسٹر کی سیٹی پر تمام کھلاڑی اکھٹے ہو جاتے ہیں اور اسی طرح ہز ماسٹرز کی سیٹی کی تابعداری میں یہ سارے سیاسی کھلاڑی اچانک ایک دن ایک دوسرے سے گلے ملتے دکھائی دیتے ہیں اور جس چیز پر سب کا سخت اختلاف تھا یعنی عدم اعتماد کے ووٹ کا اچانک یہ سارے اس پر متفق بھی نظر آتے ہیں، تمام گلے شکوے بھلا دئے جاتے ہیں اور ایک منتخب حکومت کو بطور ملزم کھینچ کھانچ کر تختہ دار پر چڑھا دیا جاتا ہے، رات کے اندھیرے میں سرکاری جلاد اپنی پوری ہیبت ناکیوں کے ساتھ نمودار ہوتا ہے اور پھر بغیر کوئی فرد جرم عائد کئے پھانسی گھاٹ کا لیور کھینچ لیا جاتا ہے اور یوں جمہوریت کے نام پر یہ سارے مل جل کر بے بس اور بے چاری جمہوریت کو ہی اس پر لٹکا دیتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں سازش نہیں ہوئی۔ عوام کو کیا آپ بے وقوف سمجھتے ہیں۔ یہ سارا کھیل تماشہ تو سر عام ہوا اور جمہوریت کا جنازہ بھی سرعام نکلا اسلئے یہ تاویلیں کہ یہ سب کچھ جمہوریت کے کھیل کا ایک حصہ ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ سازش کیا ہوتی ہے اور مداخلت کس بلا کا نام ہے، ڈیموکریٹک تبدیلی اقتدار کیسے سرانجام پاتی ہے اور جمہوریت پر شب خون کیسے مارا جاتا ہے، تاریخ ایک ایک لمحے ایک ایک کردار کو مسلسل قلمبند کئے جا رہی ہے اسی لئے عوام اس قسم کی کسی بھی بھونڈی تاویلوں کو ماننے کو تیار نہیں۔ سازش ہوئی ہے اور سازش ابھی بھی جاری ہے کیونکہ خبر آرہی ہے کہ سازش کی اگلی کڑی کو جوڑنے کیلئے بڑے گرو جی نے اپنے تمام چیلے چمانٹوں کو لندن طلب کر لیا ہے۔