- الإعلانات -

ہارس ٹریڈنگ کےخلاف معزز عدلیہ کے حوصلہ افزاء ریمارکس

سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس اعجاز الاحسن نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے جو ریمارکس دیئے وہ ہمارے نام نہاد جمہوری سسٹم کے بنیادی کی مرض کی درست تشخیص ہے۔انہوں نے سو فیصد درست کہا کہ پیسوں سے حکومت گرانا روایت بن گئی ہے، چند لوگوں کی خریدو فروخت سے عوام کا مستقبل داﺅ پر ہوتا ہے،انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ گزشتہ دنوں عدم اعتماد کے موقع پر جو کچھ ہوا اور جس طرح سر بازار ارکان کی خریدو فروخت کے الزامات کا چرچا رہا،وہ کسی صورت قابل برداشت نہیں ہونے چاہئیں اور نہ ہی یہ جمہوریت کےلئے نیک شگون ہے۔سابق حکومت کی طرف سے صدارتی ریفرنس اسی ضمن میں دائر کیا گیا تھا۔سپریم کورٹ اس ریفرنس پر سماعت کر رہی ہے۔اب تک کی سماعتوں میں معزز ججز کے جو ریمارکس سامنے آئے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ ہارس ٹریڈنگ کو ملکی جمہوریت کے لئے تباہ کن سمجھتی ہے۔اس صدارتی ریفرنس پر کیا حمتی فیصلہ آتا اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم امید ہے کہ معزز عدلیہ اس مرض کی روک تھام کے لئے تاریخی فیصلہ دے گی۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کی،سماعت کے آغاز میں پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے عمران خان کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یوٹیلیٹی بلز ادا نہ کرنے والا بھی رکنیت کا اہل نہیں ہوتا، مدت کا تعین نہ ہو تو نااہلی تاحیات ہوگی۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کوئی امیدوار آئندہ الیکشن سے پہلے بل ادا کردے تو کیا تب بھی نااہل ہوگا؟جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بل ادا کرنے کے بعد نااہلی ختم ہو جائے گی، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ہی نااہلی تاحیات ہے، جب تک نااہلی کا حکم عدالت ختم نہ کرے نااہلی برقرار رہے گی، بابر اعوان نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے پر کوئی ڈی سیٹ ہو اور 15 دن بعد دوبارہ پارلیمنٹ آجائے، ہوسکتا ہے دوبارہ منتخب ہو کر کوئی وزیر بھی بن جائے، ایسا ہو جانا آرٹیکل 63 اے کے ساتھ مذاق ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ قانونی اصلاحات کریں، توبہ کا دروازہ تو ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ کا نقطہ نوٹ کر لیا ہے، آپ کہہ رہے ہیں نااہلی کی میعاد نہ ہونے پر تاحیات نااہلی ہوگی۔جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ آرٹیکل 63 اے کا آرٹیکل 62 ون ایف کے ساتھ تعلق کیسے بنتا ہے؟بابر اعوان نے جواب دیا کہ میری دلیل ہے کہ آرٹیکل 63 اے بذات خود منحرف رکن کو تاحیات نااہل کرتا ہے، کیا اس بات کی اجازت ہونی چاہیے کہ 26 ارکان پارٹی چھوڑ جائیں، اس طرح تو اکثریتی جماعت اقلیت میں آجائے گی۔جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ آپ چاہتے ہیں آرٹیکل 63 اے کو اتنا سخت بنایا جائے کہ کوئی انحراف نہ کر سکے؟بابر اعوان نے جواب دیا کہ عوام کے پاس ووٹ کی طاقت کے علاوہ بولنے کا کوئی ذریعہ نہیں ۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ قانون میں جرم کی مختلف سزائیں دی گئی ہیں، کیا عدالت سزا میں ایک دن کا بھی اضافہ کر سکتی ہے؟بابر اعوان نے مشرف مارشل لا توثیق کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے مشرف کو آئینی ترمیم کا اختیار دیا تھا، عدالت کے اختیارات لامحدود ہیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ مجھ سمیت سب کو اپنی اصلاح کرنی چاہیے اب بہت ہو چکا، جس پر بابر اعوان نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ آخری امید ہے اسکے بعد سڑکیں اور جلسے ہیں۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ایک کہتا ہے آزاد عدلیہ چاہیے دوسرا کہتا ہے آئین کے تابع عدلیہ چاہیے، آئین کے تابع پارلیمان، ایگزیکٹو اور عدلیہ ہونی چاہیے۔بابر اعوان نے کہا کہ عدلیہ ہی سب کو آئین کے تابع کرسکتی ہے، عدلیہ صرف آئین کی تشریح نہیں کرتی بلکہ اپنے فیصلوں سے قانون وضع کرتی ہے، آئین کے دیباچے کی بنیاد اسلام ہے عوام انصاف ہوتا بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔بابر اعوان کے دلائل مکمل ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ق)کے وکیل اظہر صدیق نے دلائل کا آغاز کیا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا سیاسی جماعت میں شامل ہوتے وقت یہ حلف لیا جاتا ہے کہ پارٹی سربراہ کی ہر ایک بات پر عمل کیا جائے گا؟ یہ تعین کس نے کرنا ہے کہ کس شخص کا کیسا کردار ہے؟اظہر صدیق نے جواب دیا کہ آئین نے پارٹی سربراہ کو اختیار دیا ہے کہ اپنے اراکین کے کردار کا تعین کر سکے، انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں عدالتیں جس کو صادق و امین نہ ہونے پر نااہل قرار دے چکیں وہ فیصلے ماننے کو تیار نہیں ہیں، تحریک عدم اعتماد پر ووٹ ڈلواتے وقت قرآن پر حلف لیے گئے تھے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیاآزاد رکن یہ حلف دیتا ہے کہ وہ پارٹی کے ہر فیصلے کا پابند ہوگا؟،اظہر صدیق نے جواب دیا کہ پارٹی میں شامل ہونے سے پہلے آزاد رکن تمام شرائط تسلیم کرتا ہے،یہ تلخ حقائق ہیں اس میں نہیں جانا چاہتا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 63اے منحرف ارکان کے خلاف کارروائی کا فورم مہیا کرتا ہے۔ منحرف ارکان ووٹ ڈال ہی نہیں سکتے، کیا عدم اعتماد کی تحریک وزیر اعظم کی شکل پسند نہ ہونے پر بھی آسکتی ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی سزا منحرف رکن کی رکنیت کا خاتمہ ہے، کیا آپ منحرف رکن کی سزا میں اضافہ چاہتے ہیں؟اظہر صدیق نے جواب دیا کہ سزا میں اضافہ میرا کیس نہیں ہے، آرٹیکل 63 اے تحریک عدم اعتماد کے خلاف حفاظتی دیوار ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہوگا تو اسے سزا کیسے ملے گی؟۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ روایت بن گئی ہے کہ پیسوں سے حکومت گرائی جاتی ہے، چند لوگوں کی خرید و فروخت سے 22 کروڑ عوام کا مستقبل داو پر ہوتا ہے، اراکین کی خرید و فروخت کے ذریعے حکومت گرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔بلاشبہ اس سلسلے کو بند ہونا چاہیئے یہی وقت کا تقاضا ہے۔
ملکی کرنسی کی مسلسل بے توقیری،کوئی سدباب کیجئے
ملک کی کرنسی مارکیٹ میںروپے کی قدر میں کمی کا تسلسل بلا روک ٹوک جاری ہے، گزشتہ روزانٹر بینک میں ڈالر مزید 1.20 روپے اور اوپن مارکیٹ میں ایک روپے مہنگا ہونے سے انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت خرید 187.60روپے سے بڑھ کر 188.80 روپے اور قیمت فروخت187.80روپے سے بڑھ کر 188.90روپے ہو گئی ہے، ملکی تاریخ کی انٹر بینک میں یہ ڈالر کی قیمت کی بلند ترین قیمت ہے۔شہباز حکومت کے وجود میں آنے کے بعد ڈالر کی قیمت میں جو تھوڑی بہت کمی ہوئی اور ساتھ سٹاک مارکیٹ میں بھی بہتری کے جو آثار پید ا ہوئے تھے سب کچھ مصنوعی ثابت ہوا ،اور اس وقت ڈالر کو تو جیسے پر لگ گئے ہوں،ڈالر کی کی قیمت میں مسلسل اضافے سے جہاں سٹاک مارکیٹ بیٹھ رہی ہے وہاں امپورٹ کا بل بھی آسمانوں کو چھونے لگا ہے۔حکومت کو اس ضمن میں ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ملکی کرنسی کی بے توقیری ایک سوالیہ نشان ہے۔نئی حکومت کا دعویٰ بھی تھا کہ وہ ڈالر کو واپس چار سال قبل والی سطح پر لائے گی،لیکن فی الوقت تو اس کے آثار دکھائی نہیں دیتے کہ ڈالر کی پرواز تھم سکے۔