- الإعلانات -

ضلع صوابی قتل و غارت میں صوبے میں نمبر 1

اس وقت ملک کے مختلف حصوں اور خا ص کرضلع صوابی کے میں امن و آمان کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے ۔ میرے نا قص عقل کے مطابق وطن عزیز میں ضلع صوابی واحد ایسا علاقہ ہوگاجہاں پر سب سے زیادہ قتل وغارت ہوتے ہونگے۔ حکومتی اہل کارعلاقہ کے عوام اس مخدوش حالت پر انتہائی پریشان ہیں ۔ اگر ہم غور کریں تو صوابی میں قتل اور اقدام قتل کے کئی وجوہات ہوسکتے ہیں ۔ اس میں سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ ملک اور خا ص کر صوابی میں قانون کی بالا دستی یعنی Rule Of Law اور سزا و جزا کا تصور نہیں۔سابق آرمی چیف راحیل شریف کے دور میں جب سپیشل کورٹ بنائے گئے ۔جب عدالتیں دڑا ڈر مجرموںکو سزائیں دیتے تھے تو اس وقت قتل اور اقدام قتل میں انتہائی کمی واقع ہوئی تھی اور ہر انسان جانے اور انجانے میں کوئی ایسا حرکت نہیں کرتا تھا جس سے بات قتل اور اقدام قتل تک پہنچ جائے ۔ اُن دنوں میں صلح اور دیت کے پیسے کروڑوںروپوں تک پہنچ گئے ۔ بد قسمتی سے صوابی میں زیادہ تر جھگڑے زمینوں اور پراپرٹی پر ہوتے ہیں۔ صوابی کی آبادی تقریباً 20لاکھ کے لگ بھگ ہے اور اس ضلع کا رقبہ اسکے مقابلے میں کافی کم ہے ایک مرلے زمین کی قیمت زمین لاکھوں میں ہے جسکی وجہ لوگوں میں خود غرضی اور لالچ میں اضافہ ہوا نتیجتاً زمین کے چھوٹے چھوٹے ٹکروں اور وراثت کے معاملات پر جھگڑے ہوجا تے ہیں جو بعد میں کشیدہ رخ اختیار کرکے اقدام قتل اور قتل کا سبب بنتے ہیں۔ اسکے علاوہ نفسیاتی ماہرین کے مطابق خیبر پختون خوا میں تعلیمی لحا ظ سے سب سے بڑا ضلع صوابی کے تعلیم یافتہ جوان بے روز گاری کی وجہ سے ذہنی تناﺅ کا شکار ہیں ۔والدین اپنے بچوں پر لاکھوں کروڑوں خرچ کرکے ان کو تعلیم دلواتے ہیں۔ مگر بعد میں انکا تعلیمی صلاحیت بے وز گاری کا نذر ہوجاتا ہے۔ اور بے روز گاری سے تنگ جوان یا تو نشہ آور ادویات اوریا آئس کا شکار ہوکر اچھے شہری بننے کے بجائے غلط راستے اختیار کر لیتے ہیں۔ صوابی کے گدون آمازئی میں پوست کاشت کے متبادل جو گدون آمازئی صنعتی زون بنایا گیا تھاوہ صنعتیں علاقے میں صنعت کاروں کو مراعات ختم کرنے کی وجہ سے پنجاب اور سندھ کے دوسرے علاقوں میں منتقل کی گئیں۔ علاقہ معززین ، صنعت کار اور اُس وقت کے ضلعی ناظمین ، افسر شاہی اس پشتون اور صوابی دشمن لوگوں میں شامل تھے۔ اگرگدون اور ضلع صوابی میں ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم فروع پاتا تو گوجرانوالہ اور گجرات کی طرح ہمارے لوگ بھی ٹیکنیکل مائنڈڈ ہوجاتے اور سماجی جرموں میں کافی حد تک کمی آسکتی تھی۔ جہاں تک امن و آمان کی با ت ہے تو امن قائم کرنے میں پولیس کا کلیدی کردار ہوتا ہے مگر عوام کے ٹیکس پر پلنے والے زیادہ ترپولیس والے جسمانی طور پر ان فٹ، سیاسی مداخلت، لالچ اور دیگر کئی مصلحتوں کی وجہ سے وہ کردار ادا نہیں کرتے جو ان سے متقاضی ہوتے ہیں ۔ بہرحال ہاتھ کی 5انگلیاں برابر نہیں۔ جہاں تک مسائل کے حل میں جرگہ کا کردار ہے وہ بھی انتہائی اچھا سسٹم ہے مگر اس معیار کا وہ نہیں جو اس سے توقع کی جاتی ہے۔ضلع صوابی میں جرگوں میں خدا ترس، اچھے، اور معاملہ فہم لوگ شامل ہیں مگر بد قسمتی سے اس میں ایسے بھی لوگ ہیں جو اللہ کےلئے نہیں بلکہ اپنے نام اور مشہوری کےلئے یہ کام کرتے ہیں ۔ جرگہ سسٹم جو پشتون قوم کا طرہ امتیاز ہوتا تھا وہ بھی معاملہ اور مسائل فہمی میں ناکام ہے۔ بعض اوقات جرگے میں ایسے مشران اور معززین ہوتے ہیں جس میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی مگر اثر رسوخ کی وجہ سے جرگوں کے ممبر ہوتے ہیں۔جو بعض اوقات ایسے عجیب و غریب فیصلے کرتے ہیں جسکا علاقائی ٹقافت اور رسم ورواج سے دور دور سے تعلق اور لگا نہیں ہوتا۔ پختون خوا پولیس نے ڈی آر سی کا جو نظام بنایا ہوا ہے وہ بھیUp To The Markنہیں ۔ مگر بد قسمتی سے یہ نظام بھی سیاسی مداخلت اور اثر رسوخ اور ڈی آر سی ممبران کی Incompetency کا شکار ہے۔میں نے اس سسٹم کا تقریباً 6 مہینے مشاہدہ کیا ۔ اس میں انتہائی اچھے صلا حیتوں والے ممبر بھی ہیں مگر اکثریت میں مسائل Disputeحل کرنے کی صلا حیت نہیں ہوتی ۔ زیا دہ ترلوگ ڈی آر سی فلیٹ فارم تک پہنچنے کےلئے اسلئے کوشش کرتے ہیں تاکہ معاشرے میں انکی کوئی سماجی، سیاسی حیثیت اور اثر رسوخ ہو ۔جہاں تک ضلعی انتظامیہ یعنی ڈی سی او اور ڈی پی او کا تعلق ہے ۔ ان میں زیادہ تر آفیسر حضرات انتہائی Competent ہوتے ہیں مگر اب سی ایس پی، اور پی ایس پی آفسران کا وہ معیار نہیں جو ماضی میں ہوا کرتا تھا۔ ان میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت اورMaturityکا فقدان نظر آتا ہے۔اب انکی کارکر دگی صرف وٹس ایپ اور فیس بک تک ہے ۔ماضی میں حکومت ، قابل ٹیچرز اکیڈمیز میں انکے استعداد کار بڑھانے کے لئے کورسس اور ٹریننگ کرتے تھے مگر اب نہ تو حکومت اور نہ آفیسر کی اس میں کوئی دلچسپی ہوتی ہے۔ انکی استعداد کار بڑھانے کےلئے تعیناتی کے بعد بھی تربیت پر غور ہونا چاہئے۔ علاوہ ازیں دین اسلام کی بات تو ہم سب کرتے ہیں مگر اس پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اگر ہم کچھ نہ کریں اور صرف اچھے مسلمان بن جائیں تو پھر کوئی بھی انسان چھوٹے سے چھوٹے گناہ پر سینکڑوں دفعہ سوچنا ہوگا ۔سیاسی اکابرین کو بھی چاہئے کہ وہ پولیس کے نظام میں مداخلت چھوڑ دے۔ مساجد کے علمائے کرام ، سکول ، کالج اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ کرام نے تربیت کا وہ کام چھوڑ دیا جو انکا ماضی میں خاصا تھا۔ پہلے سکول اور کالج کے اساتذہ کرام تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی کرتے تھے مگر اب بات صرف نمبروں کے حد تک رہ گئی ۔ علاوہ ازیں جہاں تک ہمارا پولیسی تفتیشی نظام ہے وہ بھی انتہائی ناکا رہ ہے ۔ جو قتل، جوئے، منشیات فروشی میںپکڑا جاتا ہے چند دن بعد با عزت طریقے سے جیل سے رہا ہو کر مونچھوں کو تاﺅ دیتا ہوا پھرتا ہے۔عدالتی نظام بھی انتہائی فر سودہ ہے ۔ انصاف ملنا تو انتہائی دشوار ہے ۔ اگر عدالت وقت پر مجرموں کو سزا دیں اور سزا جزا کا تصور ہو تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ کوئی جرم کریں۔مزید بر آں حکومت کو مہنگائی پر قابو کرنا چاہئے بصورت دیگر مہنگائی پر کنٹرول نہ ہونے کی صورت میں نہ حکومت قائم رہے گی اور نہ بادشاہت۔