- الإعلانات -

نیازی قبیلے کا مقدمہ اور ایس کے نیازی

ایس کے نیازی ملک کے معروف صحافی ، تجزیہ کار اور ایک بہت بڑی میڈیا گروپ کے مالک ہیں ۔ میانوالی کے نیازی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں اپنے نیازی ہونے پر فخر ہے ۔ عمران خان کے حکومت میں آنے کے بعد مسلم لیگ ن کی قیادت نے انہیں طنزیہ طور پر نیازی کہنا شروع کردیا ، اپنی تقاریر میں ،جلسوں میں انہیں عمران نیازی کہہ کر پکارا جانے لگاجبکہ عمران خان نے وزیر اعظم بننے کے بعد اسٹبلشمنٹ ڈویژن کو یہ ہدایت کی تھی کہ انہیں ان کے مختصرنام عمران خان سے لکھا جائے ، اس بات کا حزب اختلاف نے منفی تاثر لیتے ہوئے انہیںنیازی کہنا شروع کردیا۔ ملک بھر میں ایس کے نیازی واحد شخصیت تھے جو اس طنز کو بھانپ گئے اور انہوں نے اپنے کالموں میں اور اپنے ٹی وی پروگراموں میں بارہا مرتبہ حزب اختلاف کے رہنماو¿ں کو یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ نیازی ملک کا بہت بڑا قبیلہ ہے ، یہ کسی ایک شخصیت کے نام سے منسوب نہیں ۔ لہٰذا اسے طنزیہ طور پر استعمال نہ کیا جائے ۔گزشتہ ہفتے ایس کے نیازی صاحب کی وزیر اعظم سے دو بار ملاقاتیں ہوئیں جس پر انہوں نے وزیر اعظم کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اپنے اس عمل سے آپ ملک بھر میں پھیلے ہوئے نیازی قبیلہ کے افراد کو اپنی جماعت اور اپنی سیاست سے بدظن کررہے ہیں اور آپ کے اس عمل نے ملک بھر میں موجود نیازی قبیلہ کے افراد کو متحد کرڈالا ہے ، جس پر وزیر اعظم شہباز شریف نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایس کے نیازی میرے دوست نیازی ہیں جبکہ عمران ان کے مخالف نیازی ہیں اور میرا مقصد نیازی قبیلے کی دل آزادی کرنا نہیں ۔ ایوان وزیر اعظم میں اور بھی بہت ساری باتیںہوئیں جسے وزیر اعظم نے کمال برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنا مگر میرے لئے جو بات حوصلہ افزا ہے وہ یہ ہے کہ ایس کے نیازی نے اپنے قبیلہ کی تضحیک برداشت نہیں کی اور وزیراعظم کو دوبدو بہت کچھ سنادیا۔ میں ان سطور میں نیازی قبیلہ کے حوالے سے کچھ معروضات پیش کرنا چارہا ہے تاکہ ہمارے پڑھنے والے جان سکیں کہ نیازی قبیلہ کس قدر با صلاحیت افراد پر مشتمل ہیں۔ نیازی قبیلہ برصغیر پاک وہند ، افغانستان ، ازبکستان میں آباد ایک بہت بڑا قبیلہ ہے جو اپنے صلاحیتوں کا لوہا منواتا چلا آرہا ہے ۔ برصغیر میں شیر شاہ سوری کے دور میں اس کے دو جرنیل نیازی قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں ، ایک کا نام جنرل عیسیٰ خان نیازی او ردوسرے کا نام جنرل ہیبت خان نیازی تھا۔ عیسیٰ خان عیسیٰ خیل قبیلے کا بانی تھا ، ان کا مزاردہلی شہر میں موجود ہے جو کئی سو ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔ جبکہ دوسرا جنرل ہیبت خان نیازی پہلا مسلمان جنرل تھا جس نے صوبہ بنگال کو فتح کرکے اسے سوری مملکت میں شامل کیا۔ افغانستان کے صوبہ غزنی کے ضلع شل غر نیازی قبیلے کی پیدائش کا ضلع ہے ۔ یہاں سے نیازیوں نے برصغیر کا رخ کیا جبکہ کچھ نیازی وسط ایشیا کی طرف چلے گئے ، سابق وفاقی وزیر مذہبی امور مولانا کوثر نیازی مرحوم نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ انہوں نے اپنے دورہ ازبکستان کے دوران اپنے قبیلے کے اہم شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کیںاور اس دوران انہیں بتایا گیا کہ تاشقند شہر کا میئر نیازی قبیلے سے بنا کرتا ہے۔ اسی طرح افغانستان میں سرخ انقلاب کیخلاف پہلی مزاہمت کا آغاز بھی نیازی قبیلے نے شروع کی تھی، کابل یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر رحیم اللہ نیازی نے اسلامی روایات کی پاسداری اور روسی مداخلت کیخلاف کابل شہر میں پہلا احتجاج ریکارڈ کرایا اور مسلم تحریک کے پہلے شہید قرار پائے ، میں نے اپنے دورہ افغانستان کے دوران دیکھا کہ نہ صرف کابل بلکہ پورے ملک میں نیازی قبیلہ کے افرادکاروبار پر چھائے نظر آئے اور اس وقت بھی صورتحا ل یہ ہے کہ گزشتہ چالیس سال سے کابل شہر کا میئر نیازی قبیلے کا فرد ہی بنتا ہے ۔ پاکستان میں کوئی شعبہ زندگی ایسا نہیں کہ جس میں نیازی قبیلے کا فرد اہمیت اور انفرادیت کا حامل نہ ہو ۔ افواج پاکستان کو اگر دیکھے تو موجودہ نیول چیف نیازی قبیلے کے چشم و چراغ ہے ، ان سے پہلے 85میںایڈمرل کرامت رحمان نیازی نیول چیف رہ چکے ہیں ۔ بری افواج میں کئی نیازی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ۔ ملک کی سیاست میں مجاہد ملت عبدالستار خان نیازی ، مولانا کوثر نیازی، ڈاکٹر شیر افگن نیازی اور عمران خان نیازی کے نام سرفہرست نظر آتے ہیں ۔ شعبہ ثقافت کو لیاجائے تو اس میں طفیل نیازی اور عطاءاللہ خان نیازی نے عروج حاصل کیا۔ شاعری میں منیر نیازی اور ڈاکٹر اجمل نیازی کا منفرد مقام ہے ۔ ماہرین تعلیم ، شعبہ طب اور دیگر شعبوں میں نامور نیازیوں کے نام اگر لکھنا شروع ہوجاو¿ ں تو شاید صفحات کم پڑجائیں ، صحافت میں جو مقام ایس کے نیازی کو حاصل ہوا شاید ہی کسی اور کو حاصل ہوا ہو۔ روزنامہ نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر مجید نظامی مرحوم ایس کے نیازی صاحب کو سالار صحافت اور سردار صحافت کہا کرتے جبکہ سابق وزیر اعظم ملک معراج خالد مرحوم انہیں نیازیوں کا سردار کہا کرتے ۔ میں ان سطور کے ذریعے ایس کے نیازی صاحب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک نہایت اہم مسئلے پر نہ صرف دلیرانہ موقف اختیار کیا بلکہ انہوں نے اپنے قبیلے کا مقدمہ نہایت آبرومندانہ انداز میں پیش کیاجس پر و ہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔