- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر میں جنگل کا قانون

بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجہ میں اب مقبوضہ کشمیر میں امن و امان عزت و آبرو سمیت کچھ نہیں بچا۔ جہاں ہر وقت جنگ جاری ہو، ظلم و بربریت کی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہوں وہاں امن و امان کیسے رہ سکتا ہے۔ جو امن و امان کے دشمن ہوتے ہیں وہ عزت و آبرو کے بھی دشمن ہوتے ہیں۔ کسی کی عزت و آبرو پر حملہ کرنا بدترین دہشت گردی ہے مگر کوئی بھی بھارت کے خلاف کارروائی کرنے والا نہیں۔ وہاں زندگی کی رعنائیاں ختم ہو چکی ہیں اور صرف جنگل کا قانون نافذ ہے۔بھارت مقبوضہ وادی میں ظلم و بربریت جاری رکھے ہوئے ہے اور روزانہ کی بنیاد پرکشمیریوں کی نسل کشی کررہا ہے۔ اس کا دہشت گرد چہرہ پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے۔ جنوبی کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا ایک شہری زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا ہے۔چند روز قبل قابض فوجیوں نے فائرنگ کر کے اسلام آباد میں ایک اور نوجوان کو شہید کر دیا۔ شوپیاں ضلع کے علاقے پنڈو شان میں گزشتہ روز بھارتی فوجیوں کی تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران گولیاں لگنے سے دو شہری شدید زخمی ہو گئے تھے۔ ان میں سے ایک شہری سرینگر کے ایک ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگیا ہے جبکہ دوسرے شہری کی حالت بہتر ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت وادی میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ زیر تسلط کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے کشمیریوں کے حقوق پر شب خون مارا گیا ادھر نئی دہلی کی کورٹ میں دہشت گردی کے جعلی مقدمے میں حریت رہنما یاسین ملک پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔ کتنی سزا ہونی چاہئیے اس پر دلائل 19 مئی کو سنے گی انہیں عمر قید کا خدشہ ہے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی غنڈہ گردی کا نہ کوئی عالمی ادارہ نوٹس لے رہا ہے اور نہ ہی اسکی دہشت گردی عالمی ضمیر کو جھنجوڑ رہی ہے۔ جنوبی کشمیر میں وسیع جنگلات کو گھیرے میں لے کر قابض بھارتی فوج نے ایک نوجوان کو شہید کیا اور بٹ کوٹ پہلگام کے جنگل کو گھیرے میں لے لیا گیاجبکہ سوپور سے 2 نعشیں برآمد کی گئیں۔ جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اور اسکی آزادی کےلئے ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے جانوں کی قربانی دی۔ جبکہ ہزاروں بچے یتیم ہو گئے۔ ما¶ں بہنوں کی عصمتیں لٹ گئیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے اور وہاں کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔لوگوں کو اب بھی بلاوجہ گرفتار کیا جارہا ہے۔ حراستی اموات، گرفتار کے بعد لاپتہ کردینے، شہریوں کے مکانات نذر آتش کردینے اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے کے واقعات برابر جاری ہیں۔ 1989 میں جب کشمیر میں مسلح تحریک نے جنم لیا تو بہت سے کشمیری گھروں ، دفتروں ، شاہراہوں اور بازاروں سے غائب ہونے لگے۔ آغاز میں لوگوں کا خیال تھا کہ ان لوگوں کو بھارتی فوج اور ایجنسیاں ا ٹھا رہی ہیں اور یہ لاپتہ افراد یا تو بھارتی جیلوں میں ہوں گے یا بھارتی فوج کے زیر سایہ کام کرنے والے ٹارچر سیلوں میں پڑے ہوں گے۔بھارتی فورسز کی طرف سے بے گناہ مظلوم کشمیریوں کاصرف جانی ہی نہیں مالی نقصان بھی کچھ کم نہیںکیا گیا۔ 1 لاکھ 5 ہزار 936 عمارتیں، گھر اور دکانیں تباہ کر دی گئیں۔ جب مقبوضہ کشمیر میں کسی مکان کو آگ لگائی جاتی ہے اس مکان کے مکین کھلے آسمان تلے بے بسی کی تصویر بنے اسے جلتا دیکھتے رہ جاتے ہیں۔مقبوضہ وادی میں ہٹ دھرمی، میں نہ مانوں اور ظلم و ستم جیسے قانون صرف جنگ کے قانون میں ملتے ہیں ورنہ کسی اسمبلی سے ایسا قانون پاس کرتی ہے تو وہ بھی کسی ملک کی نہیں بلکہ جنگل کی اسمبلی ہے۔ اس سے بڑھ کر دہشت گردی اب کیا ہوگی کہ جسے چاہا قتل کر ڈالا اور جب چاہا عزت و آبرو کو پامال کر ڈالا۔ مگرکسی کو بھارتی فوج کی دہشت گردی نظر نہیں آتی۔مقبوضہ کشمیر میں تہذیب اس وقت آئے گی جب یہاں امن قائم ہوگا۔ کشمیر میں آزادی کی تحریک باہر سے نہیں بلکہ خود کشمیری بھارت کے تسلط سے آزادی چاہتے ہیں ۔ ایک بات تو طے ہے کہ اگر بھارتی سفاکی اور توسیع پسندانہ عزائم یونہی جاری رہے تو علاقائی امن و استحکام خواب ہی بنا رہے گابالخصوص خطے میں امن کے خواہش مند امریکہ کو اس”عالمی دہشت گرد“ کی غنڈہ گردی کا نوٹس لینا چاہیے۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی قیادتوں کو بھی مصلحتوں کا لبادہ اتار کر بھارت کو نکیل ڈالنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ خطے میں امن کی ضمانت دی جا سکے ۔ مذہبی آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے جس سے کسی کو بھی محروم نہیں رکھا جا سکتا جبکہ بھارت سرکار مسلمانوں کی نفرت میں اس قدر اندھی ہو چکی ہے کہ اس نے مسلمانوں پر عیدین اور نماز جمعہ کے اجتماع پر بھی پابندی عائد کی ہوئی ہے جس کا فوری نوٹس لینا عالمی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ بھارتی مظالم اور مذہبی پابندی پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور عالمی اداروں کی مجرمانہ خاموشی افسوسناک ہی نہیں بلکہ بھارت کو شہ دینے کے مترادف ہے ۔ بھارت اس وقت عالمی غنڈے کا کردار ادا کررہا ہے اورخطے کیلئے اس کا وجود انتہائی خطرناک ہو چکا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی ادارے اپنا مو¿ثر کردار ادا کرتے ہوئے اس ”عالمی دہشت گرد “کو لگا ڈالیںتاکہ پائیدار امن کی ضمانت مل سکے۔